رومیوں
کے نام پولس رسول کا خط
11 پولس جو یسوع مسیح کا خادم ہے کی طرف سے سلام۔خدا نے مجھے رسول ہو نے کے لئے منتخب کیا۔ اور خاص طور سے خدا کی خوشخبری سبھی لوگوں کو سنانے کے لئے مجھے مقرّر کیا گیا۔ 2 خدا نے بہت پہلے وعدہ کیا تھا کہ اپنے لوگوں کو یہ خوش خبری دے گا۔ یہ وعدہ کر نے کے لئے خدا نے اپنے نبیوں کا استعمال کیا۔ یہ وعدہ مقدس صحیفوں میں لکھا ہوا ہے۔ 3 یہ خوش خبری خدا کا بیٹا ہما رے خداوند یسوع کے بارے میں ہے۔ وہ ایک شخص کی شکل میں داؤد+ 1:3 داؤد داؤد مسیح سے ایک ہزار سال قبل اسرائیل کا بادشاہ -* کے خاندان سے پیدا ہوا ہے۔ لیکن پا کیز گی کی روح کے ذریعہ سے موت سے جی اٹھ کر عظیم قدرت کے ساتھ یسوع کو خدا کا بیٹا ظاہر کیا گیا۔
5 مسیح کے معرفت خدا نے مجھے رسول کا مخصوص کام دیا۔ خدا نے مجھے یہ کام ساری قوموں کے لوگوں کی رہنمائی کر نے کے لئے دیا تا کہ لوگ خدا پر ایمان رکھیں اور اس کی اطاعت کریں۔ اور میں اس کام کو مسیح کے لئے کرتا ہوں۔ 6 اور تم روم کے لوگوں کو بھی یسوع مسیح کا ہو نے کیلئے بلا یا گیا ہے۔
7 ان سب کے نام جو رومہ میں رہتے ہیں میں یہ خط لکھ رہا ہوں جو خدا تم سے محبت کرتا ہے اور اس کے مقدس لوگ ہو نے کیلئے بلا یا گیا ہے۔
ہما رے باپ خدا اور خداوند یسوع مسیح کی طرف سے تم کو فضل اور سکون حا صل ہو تا رہے۔
شکر گذاری کی دعا
8 سب سے پہلے میں یسوع مسیح کے وسیلہ سے تم سب کے لئے اپنے خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کیوں کہ تمہا رے ایمان کی شہرت تمام دنیا میں ہو رہی ہے۔ 9 وہ خدا جس کے بیٹے کی خوش خبری سنا نے کی خدمت میں اپنے دل وجان سے کرتا ہوں میرا گواہ ہے کہ میں تمہیں ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد کرتا رہوں۔ 10 میں اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یہ درخواست کرتا ہوں کہ خدا کی مرضی سے تمہا رے پاس آنے میں کس طرح کامیابی ہو۔ 11 میں تمہا ری ملاقات کا مشتاق ہوں۔ تا کہ میں تم سے ملکر کچھ روحانی نعمت دینا چاہتا ہوں جس سے تم مضبو ط ہو جا ؤگے۔ 12 میرا مطلب ہے کہ میں بھی تمہا رے درمیان آپس میں تمہا رے ایک دوسرے کے ایمان کے ساتھ بندھارہا ہوں تمہا را یقین مجھے مدد کریگا اور میرا یقین تمہا ری مدد کریگا۔
13 میرے بھا ئیو اور بہنو! میں چاہتا ہوں کہ تم کو آ گاہ کروں کہ میں نے بار بار تمہارے پاس آنے کا ارادہ کیا تا کہ جیسا پھل میں نے غیر یہودیو ں میں حاصل کیا ہے ویسا ہی تم سے بھی حاصل کر سکوں۔ مگر اب تک رکا رہا۔
14 مجھ پریونانیوں اور غیریو نانیوں ، داناؤں اور بیوقوفوں کا قرض ہے۔ 15 اسی لئے مجھے تم لوگوں کو بھی جو کہ روم میں ہو خوش خبری سنانے کا بیحد شوق ہے۔
16 میں خوش خبری سے شرمندہ نہیں ہو ں کیوں کہ وہ خدا کی ایک قوت ہے جس سے خدا ایمان رکھنے والے ہر ایک کو نجات دیتا ہے۔ پہلے یہودیوں اور غیر یہودیوں کے لئے بھی۔ 17 کیوں کہ خوش خبری میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خدا انسان کو اپنے تئیں کیسے راست باز بناتا ہے یہ آغاز سے انجام تک یقین پر مبنی ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ “جو شخص ایمان سے خدا کے ساتھ راستباز ہے ہمیشہ جیتا رہے گا۔”+ 1:17 جو …رہے گا عبرانیوں ۴:۲*
سب لوگوں نے غلطی کی ہے
18 خدا کا غضب آسما ن سے لوگوں کے برے کاموں اور بدکاریوں کے خلاف نازل ہو تا ہے۔ ان لوگوں کے پاس سچا ئی ہے لیکن اپنی بد کاری کی زندگی سے سچا ئی کو چھپا ئے رکھتے ہیں۔ 19 اس لئے اایسا ہو رہا ہے کیوں کہ خدا کے بارے میں وہ ہر طرح کی جانکاری رکھتے ہیں۔ حقیقت میں خدا نے اس کو واضح کر دیا ہے۔
20 اس کی ا ن دیکھی صفتیں یعنی اس کی ازلی قدرت اور اس کی الوہیت دنیا کی پیدائش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں سے معلوم ہوکر صاف نظر آتی ہیں۔ اس لئے لوگوں کے پاس کو ئی بہانا نہیں رہا۔
21 اگر چہ انہوں نے خدا کو جان تو لیاہے لیکن اس کی خدا ئی کے لا ئق تمجید اور شکر گذاری نہ کی بلکہ وہ ایسے خیالات میں باطل ہو گئے اور ان کے بے وقوف دلوں پر اندھیرا چھا گیا۔ 22 اگر چہ وہ عقلمند ہو نے کا دعویٰ کرکے بے وقوف بن گئے۔ 23 اور غیر فانی خدا کے جلا ل کو فانی انسانوں پرندوں، چوپایوں اور رینگنے والے جانوروں سے ملتی جلتی صورتوں میں انہوں نے بدل ڈا لا۔
24 اسی لئے خدا نے ان کے دلوں کو ناپاک کاموں بری خواہشوں کے حوالے کر دیا اس لئے کہ وہ گناہوں میں پڑکر ایک دوسرے کے جسم کی بے عزتی کر نے لگے۔ 25 انہوں نے انکے جھوٹ کے ساتھ خدا کی سچائی کو تبدیل کر ڈا لا۔اور مخلو قات کی زیادہ پرستش اور عبادت کی بہ نسبت اس خالق کے جو ابد تک محمود ہے۔ آمین۔
26 اس لئے خدا نے انکو گندی شہوتوں کے حوالے کر دیا۔ یہاں تک کہ انکی عورتوں نے جنسی فعل کو خلاف فطرت فعل سے بدل ڈا لا۔ 27 اسی طرح مردوں نے عورتوں کے ساتھ فطری جنسی کا م چھوڑ دیا اور آپس میں جنسی خواہشات میں مست ہو گئے اور انہیں اپنی گمراہی کا پھل بھی مناسب ملنے لگا۔
28 چونکہ انہوں نے خدا کو پہچاننا پسند نہ کیا اسی لئے خدا نے بھی ان کو چھوڑ دیا۔ اور ا ن لوگوں کو نالائق حرکتیں کر نے کی چھوٹ دے دی۔ اور وہ ایسی بری حرکتیں کر نے لگے جو نہیں کر نی چاہئے تھیں۔ 29 پس وہ ہر طرح ناراستی بدی لالچ اور بد خواہی سے بھر گئے اور حسد خونریزی جھگڑے مکّاری اور دوسروں کے بارے میں غلط سوچنا اور دوسروں کے خلاف بری باتیں کر تے رہنے میں مشغول ہو گئے من گھڑت کہانیاں دوسرو ں کے خلاف گھڑتے رہتے ہیں۔ 30 وہ تہمت لگا نے والے، خدا سے نفرت کر نے والے گستاخی کر نے والے ، مغرور ،شیخی باز بد یوں کے بانی اور ماں باپ کے نا فر مان ہیں۔ 31 وہ بے وقوف اپنے وعدے توڑنے والے محبت سے خالی اور بے رحم ہیں۔ 32 حالانکہ وہ راست بازخدا کے حکم کو جانتے ہیں جس کے مطا بق ایسا کر نے سے موت کی سزا کے لا ئق ہو نگے با وجود اسکے ایسے کام کر تے ہیں بلکہ ویسا ہی کر نے والوں سے اتفاق کر تے ہیں۔
2یہودی بھی گنہگار ہیں
1 پس میرے دوست انصاف کر نے والے چا ہے کو ئی بھی ہو تیرے پاس کو ئی عذر نہیں کیوں کہ تو دوسرے کو مجرم ٹھہرا تا ہے تو حقیقت میں خود اپنے جرم کی عدالت کریگا۔ کیوں کہ تو دوسرے کی عدالت کریگا تو خود وہی کر تا ہے۔ 2 ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ ایسا کام کر تے ہیں۔ خدا انہیں انصاف حق کے مطا بق دیگا۔ 3 لیکن اے میرے دوست کیا تو سوچتا ہے کہ تو جن کاموں کے لئے دوسروں کو قصور وار ٹھہرا تا ہے اپنے آپ ویسا ہی کام کر تا ہے کیا تو سوچتا ہے کہ تو اپنے عمل سے خدا کے انصاف سے بچ جائیگا ؟ 4 کیا تو اس کی مہر بانی ، تحمل اور صبر کی دولت کو نا چیز سمجھتا ہے ؟ کیا تو نہیں سمجھتا کہ خدا کی مہر بانی تجھ کو تو بہ کی طرف مائل کر تی ہے ؟
5 بلکہ تو اپنی سختی اور تو بہ نہ کر نے والے دل کے مطا بق اُس قہر کے دن کے لئے اپنے واسطے خدا کا غضب پیدا کر رہا ہے جس دن خدا کی سچی عدالت ظا ہر ہو گی۔ 6 خدا ہر کسی کو اس کے کاموں کے موافق بد لہ دیگا۔ 7 جو لگاتار اچھے کام کر تے ہو ئے جلال اور عزت اور بقا کے طا لب ہو تے ہیں انہیں وہ بد لے میں ابدی زندگی دیگا۔ 8 لیکن جو اپنی خود غر ضی سے سچائی کے منکر ہو کر بدی کا راستہ اختیار کر تے ہیں انہیں بدلے میں خدا کا غضب اور قہر ملیگا۔ 9 لیکن مصیبت اور تنگی ہر ایک برے کام کر نے والے پر آئیگی۔ پہلے یہودی پر اور پھر غیر یہودی پر۔ 10 اور جو کوئی اچھا کام کر تا ہے اسے جلال ،عزت اور سلامتی ملیگی۔ پہلے یہودی کو اور پھر غیر یہودی کو۔ 11 کیوں کہ خدا جانب دار نہیں ہے۔
12 جنہوں نے بغیر شریعت+ 1:17 شریعت خدا کی شریعت ،اسے موسیٰ کی شریعت میں پیش کیا گیا ہے۔* پا ئے گناہ کیا لیکن بغیر شریعت ہلاک بھی ہو نگے اور جنہوں نے شریعت کے ما تحت ہو کر گناہ کیا انکا فیصلہ شریعت کے موافق ہوگا۔ 13 کیون کہ شریعت کو صرف سننے والے راست باز نہیں ٹھہرا ئے جا سکتے بلکہ شریعت پر عمل کر نے والے راستباز ٹھہرا ئے جائیں گے۔
14 اس لئے کہ جب غیر یہودی جن کے پاس شریعت نہیں ہے بلکہ اعمال سے ہی شریعت کی باتوں پر چلتے ہیں تب چاہے انکے پاس شریعت نہ رہے تو بھی وہ اپنی شریعت آپ ہیں۔ 15 چنانچہ وہ شریعت کی جو باتیں اپنے دلوں پر لکھی ہو ئی دکھا تے ہیں انکا ضمیر بھی ان باتوں کی گواہی دیتا ہے اور انکے خیالات یا تو ان پر الزام لگا تے ہیں یا انکا د فاع کر تے ہیں۔
16 یہ تمام باتیں اس دن ہو گی جب خدا انسان کی پو شیدہ باتوں کی عدالت کریگا ، جس خوشخبری کو میں نے لوگوں سے کہا اس کے تحت یسوع مسیح کی معرفت خدا لوگوں کا انصاف کریگا۔
یہودی اور شریعت
17 لیکن اگر تو اپنے آپکو یہودی کہتا ہے تو شریعت پر ایمان رکھتا ہے اور اپنے خدا کا تجھے فخر ہے۔ 18 اور تو اسکی مرضی جانتا ہے۔ شریعت تجھے جو سکھا تی ہے اسکے مطا بق تو اہم چیزیں چن سکتا ہے۔ 19 اور یہ مانتا ہے کہ تو اندھوں کا رہنما ہے اور جو اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں انکے لئے تو روشنی ہے۔ 20 تو سمجھتا ہے کہ تو بے وقوف کو تربیت دینے والا ہے اور جن کو ابھی تعلیم کی ضرورت ہے انکا تو استاد ہے اور علم اور حق کا جو نمونہ شریعت میں ہے وہ تیرے پاس ہے ؟ 21 پس تو جو اوروں کو سکھا تا ہے اپنے آپکو کیوں نہیں سکھا تا ؟ کہ چوری نہ کرنا لیکن خود کیوں چوری کر تا ہے ؟ 22 تو جو دوسروں سے کہتا ہے کسی سے زنا نہیں کر نا چاہئے پھر خود کیوں زنا کر تا ہے ؟تو جو بتوں سے نفرت کر تا ہے عبادت گاہوں کی دولت خود کیوں لوٹتا ہے ؟ 23 تو جو شریعت کے بارے میں شیخی بگھار تا ہے پھر بھی شریعت کی خلاف ورزی سے خدا کی بے عزتی کر تا ہے۔ 24 چنانچہ تحریر کہتی ہے، “تمہارے ہی سبب سے غیر یہودیوں میں خدا کے نام کی بے عزتی ہو تی ہے۔”+ 2:24 اِقتِباس یسعیاہ ۵:۵۲*
25 اگر تم شریعت پر عمل کرتے ہو تو ختنہ سے فائدہ ہے لیکن اگر تم شریعت کو توڑ تے ہو تو تمہارا ختنہ کر نا نہ کر نے کے برابر ہے۔ 26 اگر کسی کا ختنہ نہیں ہوا ہے وہ شریعت کے حکم پر عمل کرے تو کیا اسکی نا مختونی ختنہ کے برابر نہ گنی جائیگی۔؟ 27 ایک شخص جس کا ختنہ نہیں ہوا ہے لیکن شریعت پر چلتا ہے تو وہ تجھے شریعت کی نا فر مانی کر نے کا قصور وار ٹھہرا ئے گا۔ تمہارے پاس لکھی ہو ئی شریعت ہے اور ختنہ شدہ بھی لیکن تم شریعت کو توڑتے ہو۔
28 جو بظا ہر یہودی ہے وہ سچا یہودی نہیں ہے۔ جو بظا ہر ختنہ ہے وہ حقیقت میں ختنہ نہیں ہے۔ 29 سچا یہودی وہی ہے جو باطن سے یہودی ہے۔ ختنہ صحیح وہی ہے جو دل سے کی گئی ہو۔ یہ روح سے کیا جاتا ہے لکھی ہو ئی شریعت سے نہیں۔ اور جو شخص دل سے ختنہ شدہ ہے انکی تعریف لوگوں سے نہیں خدا کی طرف سے ہو تی ہے۔
31 پس یہودی ہو نے کا کیا خاص فائدہ اور ختنہ کا کیا خاص فائدہ ؟ 2 ہر طرح سے یہ ایک عظیم فائدہ ہے پہلے خدا کی تعلیم کو انکے سپرد کیا گیا۔ 3 اگر ان میں سے بعض نافرمان ہو بھی گئے تو کیا ہے کیا انکی بے وفائی خدا کی وفا داری کو باطل کر سکتی ہے ؟ 4 ہر گز نہیں اگر ہر کو ئی جھو ٹا بھی ہے تو بھی خدا ہمیشہ سچا ٹھہرے گا۔ جیسا کہ تحریریں کہتی ہیں کہ
“تم اپنے کلام میں راست باز ٹھہرو گے۔
اور جب تیرا انصاف ہو تو تو جیتے گا۔” زبور۵۱:۴
5 اگر ہماری نا انصافی خدا کی انصاف کی خوبی کو ظا ہر کر نے میں مدد دیتی ہے تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب خدا ہمیں سزا دیتا ہے توغلط کر تا ہے۔ یہ میری سوچ ہے شاید کہ دوسرے لوگوں کی بھی یہی سوچ ہو۔ 6 ہر گز نہیں، ور نہ خدا کیوں کر دُنیا کا انصاف کریگا ؟
7 شاید کو ئی یہ کہے کہ، “اگر میرے جھوٹ کی وجہ سے خدا کی سچائی اس کے جلال کے واسطے اور زیادہ ظا ہر ہو تی ہے تو پھر مجھے گنہگار کیوں قرار دیا جاتا ہے ؟” 8 تب پھر ہم کیوں نہ کہیں“ آؤ!برے کام کریں تا کہ بھلا ئی پیدا ہو! ”جیسا کہ ہمارے بارے میں کچھ لوگ ہم پر غلط تہمت لگاتے ہیں کہ ہم ایسا کہتے ہیں وہ لوگ سزا پا ئیں گے جس کے وہ مستحق ہیں۔
سب لوگ گنہگار ہیں
9 پس کیا ہوا ؟ کیا ہم یہودی غیر یہودیوں سے اچھے ہیں ؟ نہیں! کیوں کہ ہم یہودیوں اور غیر یہودیوں دونوں پر پیشتر ہی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ وہ تمام گناہ کے تحت ہیں۔ 10 جیسا کہ صحیفہ کہتا ہے:
“کو ئی بھی راست باز نہیں ایک بھی نہیں۔
11 کو ئی سمجھدار نہیں۔ایک بھی نہیں۔
کو ئی ایسا نہیں جو خدا کا طا لب بنے۔
12 سب گمراہ ہیں
سب نکمّے بن گئے۔
کو ئی بھلا کر نے والا نہیں۔” ایک بھی نہیں۔ زبور۱۴:۱۔۳
13 “انکے منھ کھلی قبر کی طرح ہیں
وہ اپنی زبان سے فریب کر تے ہیں۔” زبور ۵:۹
“انکے ہو نٹوں پر سانپ کا زہر رہتا ہے۔” زبور۱۴۰:۳
14 “ا ن کا منھ لعنتوں اور کڑواہٹ سے بھرا ہے۔” زبور ۱۰:۷
15 “قتل کر نے کو وہ ہر دم تیز رہتے ہیں۔
16 وہ جہاں جاتے ہیں تباہی اور بد حا لی لا تے ہیں۔
17 انکو سلامتی کی راہ کا پتہ نہیں۔” یسعیاہ ۵۹:۷۔۸
18 “انکی آنکھوں میں خدا کا خوف نظر نہیں آتا۔” زبور۳۶:۱
19 اب ہم یہ جانتے ہیں کہ شریعت میں جو کہا گیا ہے ان سے کہا گیا ہے جو شریعت کے پا بند ہیں۔ تا کہ ہر منھ کو بند کیا جا سکے اور ساری دنیا خدا کے انصاف میں آسکے۔ 20 کیوں کہ شریعت پر عمل کر نے سے کو ئی بھی شخص خدا کے سامنے راستباز نہیں ٹھہرے گا۔ کیوں کہ شریعت کے وسیلہ سے ہی تو گناہ کا پہچان ہو تا ہے۔
خدا انسان کو راستباز کیسے بناتا ہے
21 لیکن خدا کا طریقہ کارہے کہ شریعت کے بغیر انسان کوراستباز بنا تا ہے اور خدا نے اب ہم کو وہ راہ دکھا ئی ہے۔ اس راہ کے بارے میں شریعت اور نبیوں نے گوا ہی دی ہے۔ 22 خدا یسوع مسیح میں لوگوں کو ان کے ایمان کے تحت راستبا ز بناتا ہے۔یہ ان کے لئے جو بغیر کسی فرق کے یقین رکھتے ہیں۔ 23 کیوں کہ سب نے گناہ کیا ہے اور سبھی خدا کے جلال کو نہیں پا سکتے۔ 24 خدا لوگوں کو راستباز بناتا ہے اپنی مہر بانی سے یہ مفت آزادانہ تحفہ ہے۔ یسوع مسیح کے وسیلے سے گناہوں سے چھٹکارا دلا کر خدا لوگوں کو راستبا ز بناتا ہے۔ 25 خدا نے یسوع کو دنیا میں اس طریقہ سے دیا تا کہ ان کے ایمان کی وجہ سے گناہوں سے چھٹکارا دلا ئے۔ اس نے یہ کام یسوع کے خون سے کیا خدا نے یہ بتانے کے لئے کیا کہ وہ اپنے تمام ا عمال میں راستباز ہے۔ ماضی میں وہ راستباز تھا جب اس نے لوگوں کو ان کے گناہوں کے لئے بغیر سزا اس کے صبر کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ 26 بلکہ اس وقت اس کی راستبازی ظا ہر ہو تا کہ وہ خودبھی عادل رہے اور جو یسوع پر ایما ن لا ئے۔ اس کو بھی راست باز بنائے گا۔
27 اس طرح انسا نی فخر کہاں رہا ؟وہ ختم ہو گیا۔ کیوں کہ کونسی شریعت سے؟کیا اعمال کی شریعت سے ؟نہیں یہ ایمان کی شریعت سے۔ 28 کیوں کہ یہ یقین ہے کہ جس سے آدمی را ستبا ز ہو تا ہے اور شریعت کے اعمال کو نہیں مانتا۔ 29 یا کیا خدا صرف یہودیوں کاخدا نہیں ہے ؟ کیا وہ غیر یہودیوں کا بھی خدا نہیں ہے ؟ہاں وہ غیر یہودیوں کا بھی ہے۔ 30 چونکہ خدا ایک ہے وہ یہودیوں کو انکے ایمان کی وجہ سے راستباز بنائے گا۔ غیر یہودیوں کو بھی انکے ایمان ہی کے وسیلہ سے راستباز بنائیگا۔ 31 لیکن کیا ہم شریعت کو ایمان پر عمل کر نے سے باطل کر تے ہیں ؟ نہیں، ہر گز نہیں۔ بلکہ ایمان ہمیں ایسا بنا تا ہے جس طرح سے شریعت چاہتی ہے کہ سچ مچ میں ایسا ہو۔
4ابرا ہیم کی مثال
1 تو پھر ہم کیا کہہ سکتے ہیں ہمارے اجداد ابراہیم ؟کے ایمان کے بارے میں کہ وہ کیا سیکھا ہے ؟ 2 اگر ابرا ہیم کو اس کے اعمال کے تحت راستباز ٹھہرا یا جاتا ہے تو اسکے فخر کر نے کی بات تھی لیکن خدا کے آگے وہ فخر نہیں کر سکتا۔ 3 صحیفہ کیا کہتا ہے ؟ “ابرا ہیم نے خدا پر ایمان لا یا۔اور خدا نے اسکے ایمان کو قبول کیا۔ اور خدا نے اسے راستباز بنایا-”+ 4:3 اِقتِباس پیدائش ۶:۱۵*
4 کام کر نے والے کو مزدوری دینا تحفہ نہیں ہے لیکن وہ تو اسکی کمائی ہے۔ 5 لیکن اگر کو ئی شخص کام کر نے کے بجائے اس خدا پر ایمان لا تا ہے جو گنہگار کو راستباز بنا دیتا ہے تو اسکا ایمان اسکی راستبازی کا سبب بن گیا۔ 6 ایسے ہی داؤد بھی اسے مبارک کہتا ہے جسے اعمال کے بغیر ہی خدا راستباز ٹھہرا تا ہے۔
7 “مبارک ہیں وہ
جنکی بد کاریاں معاف ہو ئے۔
اور جن کے گناہ ڈھانکے گئے۔
8 مبارک ہے وہ شخص
جس کے گناہوں کا خدا وند حساب نہ کریگا۔” زبور۳۲:۱۔۲
9 پس کیا یہ مبارک بادی صرف ان ہی کے لئے ہے جو مختون ہیں یا ان کے لئے بھی جو غیر مختون ہیں ہاں یہ ان پر بھی لا گو ہو تا ہے جو غیر مختون ہے ہم نے کہا، “ابرا ہیم کا ایمان ہی اس کے لئے راستبازی گنا گیا۔” 10 تو ایسا کب ہوا ؟جب اسکا ختنہ ہو چکا تھا یا جب وہ نا مختون تھا۔ نہیں ختنہ ہو نے کے بعد نہیں بلکہ جب وہ نا مختون تھا۔ 11 اور اس نے ختنہ کا نشان پا یا۔ اس کے ایمان کی وجہ سے اس کی راست بازی پر مہر لگا دی گئی جبکہ اس نے دکھا یا کہ وہ ابھی تک نا مختون ہے تا کہ وہ سب لو گوں کا باپ ٹھہرے جو با وجود نا مختون ہو نے کے ایمان رکھتے ہیں۔ اور انکا ایمان بھی انکے لئے راستبازی میں گنے جائیں گے۔ 12 اور وہ انکا بھی باپ ہو جو مختون ہو ئے ہیں ہمارے باپ ابراہیم ان کے باپ ہیں اگر وہ ختنہ پر انحصار نہ کریں بلکہ ہمارے باپ ابرا ہیم کے ایمان کی مثال کی پیروی کریں جو اسکا تھا جب کہ وہ ابھی تک غیر مختون تھا۔
ایمان ہی خدا کے وعدہ کے حصول کا ایک راستہ ہے
13 کیوں کہ یہ وعدہ کہ وہ دنیا کا وارث ہو گا نہ ابراہیم سے اور نہ اسکی نسل سے نہ شریعت کے ذریعہ سے کیا گیا تھا بلکہ راستبازی کے ذریعہ سے جو ایمان کا نتیجہ ہے۔ 14 کیوں کہ اگر شریعت والے ہی وارث ہوں تو ایمان کا کو ئی معنیٰ نہیں رہتا۔ اور وعدہ بھی بیکار ہو جا تا ہے۔ 15 کیوں کہ شریعت خدا کا غضب لا تی ہے جہاں شریعت نہیں وہاں عدول حکمی بھی نہیں۔
16 اسی لئے خدا کا وعدہ ایمان کا پھل ہے اور وہ وعدہ ابراہیم کی تمام نسلوں کے لئے مفت تحفہ کی مانند ہے یہ تحفہ نہ صرف انکے لئے جو شریعت کو مانتے ہیں بلکہ ان سب کے لئے جو ابراہیم کی مانند ایمان رکھتے ہیں جو ہم سب کا باپ ہے۔ 17 صحیفوں میں لکھا ہے کہ“میں نے تجھے کئی قوموں کا باپ بنایا۔”+ 4:17 اِقتِباس پیدائش ۵:۱۷* خدا کی نظر میں وہ سچ ہے ابرا ہیم خدا پر ایمان لایا۔ جو مرے ہو ئے لوگوں کو زندگی دیتا ہے اور جو چیزیں وجود میں نہیں ہیں ان کو اسی طرح بلا لیتا ہے گو یا وہ ہیں۔
18 وہ نا امیدی کی حالت میں امید کے ساتھ ایمان لا یا چنانچہ ابرا ہیم بہت سی قوموں کا باپ ہوا جیسا کہ کہا گیا، “تمہاری نسل بے شمار ہو گی۔”+ 4:18 اِقتِباس پیدائش ۵:۱۵*19 اور وہ تقریباً سو برس کا تھا۔ اپنے مردہ جسم کے باوجود اور سارہ کے بانجھ پن کے لحاظ کے با وجود اس نے اپنے ایمان کو کمزور نہ کیا۔ 20 خدا کے دعدے کا منتظر رہا اپنے ایمان کو نہیں کھو یا اتنا ہی نہیں ایمان کو اور مضبوط کر تے ہو ئے خدا کی تمجید کی۔ 21 اسے پو را یقین تھا کہ خدا نے اسے جو وعدہ دیا ہے اسے پو را کر نے پر وہ قا در ہے۔ 22 اور اسلئے “خدا نے انکی ایمان کی وجہ سے انکو راستباز بنایا۔” 23 اور الفاط کہ “انکی ایمان کی وجہ سے انکو راستباز بنایا”+ 4:23 اِقتِباس پیدائش ۵:۱۷* نہ صرف اس کے لئے لکھا گیا ہے بلکہ ہمارے لئے بھی ہے۔ 24 ہمارا ایمان گنا جائیگا اس لئے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں ، ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جس نے ہمارے خداوند یسوع کو مردوں میں سے زندہ کیا۔ 25 یسوع کو ہمارے گناہوں کے لئے موت کے حوالہ کر دیا گیا۔ اور ہمیں راستباز بنانے کے لئے مر نے کے بعد جلا یا گیا۔
5خدا نے راستباز ہو نے کے لئے
1 کیوں کہ ہم اپنے ایمان کے سبب خدا کے لئے راست باز ہو گئے ہیں۔ خداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے خدا کی طرف سے ہمیں سلامتی ہے۔ 2 کیوں کہ جس کے وسیلے سے اور ایمان کے سبب سے اس فضل تک ہما ری رسائی ہوئی جس پر قائم ہیں اور خدا کے جلا ل کی امید پر فخر کریں گے۔ 3 صرف یہی نہیں کہ ہم اپنی مصیبتوں میں خوش رہیں گے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ مصیبت سے صبر پیدا ہو تا ہے۔ 4 اور صبر سے پختگی اور پختگی سے امیدپیدا ہو تی ہے۔ 5 اور امید ہمیں نا امید نہیں ہو نے دیتی کیوں کہ مقدس روح جو ہم کو بخشا گیا ہے اس کے وسیلہ سے خدا کی محبت ہما رے دلوں میں ڈالی گئی ہے۔
6 کیوں کہ جب ابھی ہم کمزور ہی تھے صحیح وقت پر مسیح نے ہمارے لئے جبکہ ہم خدا کے خلاف تھے اپنی جان تک دیدی۔ 7 اب دیکھو کسی راستباز انسان کے لئے بھی مشکل ہی سے کوئی اپنی جان دیگا۔کسی اچھے آدمی کے لئے شاید کوئی اپنی جان تک دے دینے کی جرات کرے۔ 8 لیکن خدا اپنی محبت ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے جب کہ ہم بھی گنہگار ہی تھے۔ مسیح نے ہمارے لئے اپنی جا ن دی۔
9 کیوں کہ اب جب ہم انکے خون کے باعث راستبازہو گئے ہیں تو اب ان کے وسیلہ سے خدا کے غضب سے یقینی طور پربچیں گے۔ 10 کیوں کہ جب ہم خدا کے دشمن تھے اس نے اپنے بیٹے کی موت کے وسیلے سے خدا سے ہما را میل کرایا اب جبکہ ہمارا میل خدا سے ہو چکا ہے تو اس کی زندگی سے ہمارا اور مزیدتحفظ ہوگا۔ 11 صرف یہی نہیں ہے ہم ا پنے خداوندیسوع مسیح کے وسیلے سے اب ہمارا خدا کے ساتھ میل ہو گیا۔ اس لئے ہم خدا پر اپنے خداوندیسوع مسیح کے ذریعہ فخر کر سکتے ہیں۔
آدم اور مسیح
12 جس طرح ایک آدمی کے سبب گناہ دنیا میں آیا اور گناہ سے موت آئی اور یہ موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اس لئے کہ سبھی نے گناہ کئے تھے۔ 13 اب دیکھو شریعت کے آنے سے پہلے دنیا میں گناہ تھا لیکن جب تک شریعت نہیں آئی کسی کا بھی گناہ نہیں گنا گیا۔ 14 لیکن آدم سے لے کرموسیٰ تک موت ہر ایک پر حکومت کرتی رہی۔ موت ان پر بھی ویسے ہی حاوی رہی جنہوں نے آدم کی مانند گناہ نہیں کئے تھے۔
آدم بھی اسی کی طرح تھا جو آئندہ آنے والا تھا۔ 15 لیکن خدا کی نعمت آدم کے گناہ جیسی نہیں تھی کیوں کہ اگر ایک شخص کے گناہ کے سبب سے سبھی لوگوں کی موت ہوئی تو اس ایک شخص یسوع مسیح کے فضل کے وسیلے سے خدا کی مہر بانی اور اس کی بخشش تو سبھی لوگوں کی بھلا ئی کے لئے افراط سے نازل ہو ئی۔ 16 اور یہ بخشش کا ویسا حال نہیں جیسا آدم کے گناہ کرنے کا ہوا۔ آدم سے ایک بار گناہ سر زد ہو نے کے بعد وہ قصور وار ٹھہرا۔ لیکن خدا کے فضل سے بہت سے گناہ کر نے کے بعد لوگوں کو راستباز ٹھہرا نے کا حکم آیا۔ 17 کیوں کہ ایک شحص کے گناہ کے سبب موت سب لوگوں پر حاوی ہو گئی تو کچھ لوگ خدا کا بے انتہا فضل اور بخشش حا صل کر تے ہیں جو انہیں راستباز بنا تے ہیں۔ وہ ایک شخص یعنی یسوع مسیح کے وسیلے سے وہ لوگ ضرور حقیقی زندگی حاصل کریں گے اور حکو مت کریں گے۔
18 غرض جیسے ایک گناہ کے سبب سے سبھی لوگوں کو سزا ملی۔ویسے ہی راستبازی کے ایک کام کے وسیلے سے سب آدمیوں کو وہ نعمت ملی جو راستباز ٹھہر کر سچّی زندگی پا ئی۔ 19 لیکن اس ایک شخص کی نا فر مانی کے سبب سب لوگ گنہگار ٹھہرے ویسے ہی اس ایک شخص فرمانبرداری کے سبب سبھی لوگ راستباز بنادیئے جائیں گے۔ 20 شریعت کے وجود میں آنے کی وجہ سے گناہ بڑھ جائیں گے۔ جہاں گناہ بڑھے وہاں خدا کا فضل اس سے زیا دہ ہوا۔ 21 جس طرح گناہ کی وجہ سے موت نے بادشاہی کی، اس طرح فضل بھی ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے ابدی زندگی کے لئے راستبازی کے ذریعے سے بادشاہی کرے۔
6گناہ کے لئے موت لیکن مسیح میں زندگی
1 پس ہم کیا کہیں ؟ کیا گناہ ہی لگا تار کر تے رہیں تا کہ خدا کی نہ مہربانی برھتی رہے ؟ 2 ہر گز نہیں۔ ہم گناہ کے لئے مر چکے ہیں کیوں کہ ہم گناہوں میں آئندہ کی زندگی کیسے گزاریں؟ 3 کیا تم نہیں جانتے کہ ہم جتنوں نے یسوع مسیح میں شامل ہو نے کے لئے بپتسمہ لیا ہے تو اسکی موت میں شا مل ہو نے کا بپتسمہ لیا ہے۔ 4 جب ہم نے بپتسمہ لیا تو ہم بھی اسکے ساتھ اس کی موت میں شریک ہو ئے اس کے ساتھ دفن بھی کر دیئے گئے تا کہ مسیح باپ کے جلال کے وسیلے سے مرے ہو ؤں میں جلا دیا گیا تھا ویسے ہی ہم بھی اسی طرح ایک نئی زندگی پائیں گے۔
5 کیوں کہ ہم اسکی موت کی مشابہت سے اسکے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ اس سے اس کے جی اٹھنے کی مشابہت میں بھی اس کے ساتھ وا بستہ ہونگے۔ 6 ہم جانتے ہیں کہ ہماری پرانی انسانی فطرت مسیح کے ساتھ اس لئے مصلوب کی گئی کہ ہمارے گناہ کا بدن تباہ ہو جائے سبب یہ ہے کہ ہم آگے کے لئے گناہ کے غلام نہ بنے رہیں۔ 7 کیوں کہ جو مرگیا وہ گناہ کے بندھن سے آزاد ہو گیا۔
8 اور جیسا کہ ہم مسیح کے ساتھ مر گئے تو ہمیں یقین ہے کہ ہم اسی کے ساتھ جئیں گے بھی۔ 9 ہم جانتے ہیں کہ مسیح جسے مرے ہو ؤں میں سے زندہ کیا گیا تھا پھر نہیں مرے گا۔ اس پر موت کا اختیار کبھی نہیں ہو گا۔ 10 گناہ کو شکشت دینے کے لئے ایک ہی بار مرے ہیں۔ لیکن جو زندگی وہ اب جی رہے ہیں وہ زندگی خدا ہی کی ہے۔ 11 اسی طرح تم اپنے لئے بھی سوچو تم گناہ پر مر چکے ہو لیکن خدا کے لئے یسوع مسیح میں زندہ ہو۔
12 پس گناہ تمہارے فانی بدن میں بادشاہی نہ کرے اس لئے تم اس گناہ کی خواہشوں پر نہ چلو۔ 13 اپنے بدن کے حصّے کو گناہ کی خدمت کے لئے حوالہ نہ کرو تمہارے جسم برائیاں کر نے کے لئے اوزار نہ بنیں اسکی بجائے مرے ہو ؤں میں سے اب زندہ رہنے والوں کی مانند خدا کی خدمت کے لئے حوالے کر دو۔ اور اپنے بدن کے حصّے کو صحیح کام کے اوزار ہو نے کے لئے خدا کی خدمت کے لئے حوالے کردو۔ 14 اس لئے کہ تم پر گناہ کا اختیار نہ ہو چو ں کہ تم شریعت کے تا بع نہیں ہو بلکہ خدا کے فضل کے سہارے جی رہے ہو۔
راستبازی کے غلام
15 تب ہم کیا کریں ؟ کیا ہم گناہ کریں کیوں کہ ہم شریعت کے تا بع نہیں بلکہ فضل کے تا بع ہیں ؟ ہر گز نہیں۔ 16 کیا تم نہیں جانتے کہ تم جسکی فرماں برداری کے لئے اپنے آپکو غلا موں کی طرح حوالہ کر دیتے ہو تب تم اسی شخص کے غلام ہو۔ وہ تمہارا مالک ہے خواہ تم خدا کو یا گناہ کو اپنا مالک مانتے ہو۔ گناہ کی فرماں برداری روحانی موت اسکا نتیجہ ہے جس طرح خدا کی فرماں برداری کا انجام راستبازی ہے۔ 17 گزرے زمانے میں تم گناہ کے غلام تھے مگر خدا کا شکر ہے کہ تم اپنے پورے دل سے طریقہ علم میں جو تمہیں سکھا یا گیا اسکے فرماں بردار بنو۔ 18 تمہیں گناہ سے نجات مل گئی اور تم راست بازی کے غلام بن گئے ہو۔ 19 ( میں اس زبان کو استعمال کررہا ہوں جسے سبھی لوگ سمجھ سکیں لیکن اسے سمجھنا تم لوگوں کے لئے مشکل ہے ) گذرے ہو ئے زما نے میں تم نے اپنے بدن کے حصے کو بدکاری کرنے کے لئے ناپا کی اور غلا می کی خدمت کے تابع کر دیا تھا اور تم صرف بدی کے لئے جی رہے تھے۔تم لوگ ٹھیک ویسے ہی اپنے بدن کے حصہ کو پاک ہو نے کے لئے راستبازی کی غلا می کی خدمت کے لئے حوالے کردو تب تم صرف خدا کے لئے جی سکو گے۔
20 کیوں کہ جب ہم گناہ کے غلام تھے تو راست بازی کی زندگی سے آزاد تھے 21 اور دیکھو اس وقت تمہیں کیسا پھل ملا پر ان باتوں سے آج تم شرمندہ ہو۔ کیوں کہ انکا انجام موت ہے۔ 22 اب تم گناہ سے آزاد ہو اور خدا کے غلا م ہو ئے ہو جسکا نتیجہ صرف خدا کے لئے زندگی جو آخر کار یہ ہمیشہ کی زندگی تک پہنچا ئے گی۔ 23 کیوں کہ گناہ کی مزدوری موت ہے مگر خدا کی بخشش ہمارے خدا وند یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے۔
7شادی کی مثال
1 اے بھا ئیو اوربہنو! کیا تم نہیں جانتے (میں ان لوگوں سے کہہ رہا ہوں جو شریعت کو جانتے ہیں ) کہ جب تک آدمی جیتا ہے اسی وقت تک شریعت اس پر اختیار رکھتی ہے۔ 2 مثال کے طور پر ایک شادی شدہ عورت شریعت کے مطا بق اپنے شوہر کی زندگی تک ہی پابند رہتی ہے لیکن جب اسکا شوہر مر جاتا ہے تو وہ بیاہتا کی پا بندی سے آزاد ہو جا تی ہے۔ 3 شوہر کی زندگی میں اگر کسی دوسرے شخص سے رشتہ رکھے تو وہ زانیہ ہے۔ لیکن اسکا شوہر مرگیا ہے تو بیاہتا کی شریعت اس پر لا گو نہیں ہو تی یہاں تک کہ اگر وہ دوسرے مرد کی بھی ہو جائے تو بھی وہ حرام کاری کر نے کی قصور وار نہ ٹھہرے گی۔
4 پس اے میرے بھائیو اور بہنو! تم بھی مسیح کے بدن کے وسیلے شریعت کے اعتبار سے مر چکے ہو اسی لئے اب تم بھی کسی دوسرے کے ہو جاؤ جو مرُدوں میں سے جلایا گیا تاکہ تم خدا کے لئے کھیتی پیدا کر سکو۔ 5 جب ہم گنہگار فطرت کے مطابق جی رہے ہیں اس سے گناہ کے جذبہ کی خواہش جو شریعت کے باعث آئی تھی وہ ہمارے جسموں پر حاوی تھا تا کہ ہم عمل کی ایسی کھیتی کریں جسکا خاتمہ صرف روحانی موت میں ہو۔ 6 لیکن اب ہمیں شریعت سے آزاد کردیا گیا ہے کیوں کہ جس شریعت کے تحت ہم کو قید میں ڈالا گیا تھا ہم اس کے لئے مر چکے ہیں۔اور اب خدا کی خدمت روحانی طور پر نئے طریقے سے کر تے ہیں نہ کہ لکھے ہوئے پرا نے اصول کے طور پر کر تے ہیں۔
گناہ کے خلاف لڑا ئی
7 پس ہم کیا کہیں ؟ کیا ہم کہیں کہ وہ شریعت گناہ ہے ؟ نہیں، ہر گز نہیں۔ حقیقت میں اگر شریعت نہ ہو تی تو میں پہچان ہی نہیں پا تا کہ گناہ کیا ہے ؟مثلاًاگر شریعت نہ کہتی کہ “تو خواہش نہ کر کہ وہ تیرا نہیں ہے”+ 7:7 اِقتِباس خروج ۱۷:۲۰* تو میں نہ جانتا کہ خواہش کا کرنا غلطی ہے۔ 8 مگر گناہ نے موقع پا کر اس حکم کے ذریعہ سے مجھ میں ہر طرح کی غلط خواہشات پیدا کردی۔ کیوں کہ شریعت کے بغیر گناہ مردہ ہے۔ 9 ایک زمانے میں میں شریعت کے بغیر زندہ تھا۔ مگر جب شریعت آئی تب گناہ زندگی میں ابھر آیا۔ 10 اور میں مر گیا۔ وہی شریعت جو زندگی کا حکم دینے کے لئے تھی میرے لئے موت لے آئی۔ 11 کیوں کہ گناہ نے موقع پا کر اس حکم کے ذریعے سے مجھے بہکایا اور اسی کے ذریعے سے مجھے بھی مارڈالا۔
12 پس شریعت مقدس ہے اور اسکا حکم بھی مقدس اور راستباز اور اچھا ہے۔ 13 تب پھر کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ جو اچھا ئی ہے وہی میری موت کا سبب بنا ؟ہر گز نہیں۔ بلکہ گناہ میرے واسطے موت لا نے کے لئے کچھ اچھی چیز استعمال کیا یہ ایسا ہوا تا کہ ہم گناہ کو پہچان سکیں۔ یہ ایسا ہوا یہ ظا ہر کر نے کے لئے کہ گناہ بہت ہی برا ہے۔ اور اسے ظا ہر کر نے کے لئے حکم کا استعمال کیا گیا۔
انسان کی اندرونی کشمکش
14 کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ شریعت تو روحانی ہے لیکن میں روحانی نہیں ہوں۔ مگر میں گناہ کے لئے غلام بنکر بکا ہوا ہوں۔ 15 میں نہیں جانتا کہ میں کیا کر رہا ہوں کیوں کہ میں جو کر نا چاہتا ہوں وہ نہیں کر تا۔ بلکہ جس سے مجھے نفرت ہے اور وہی کر تا ہوں۔ 16 اور اگر چہ میں وہی کر تا ہوں جو مجھے نہیں کرنا چاہئے اس کا مطلب یہ ہے کہ میں قبول کرتا ہوں کہ شریعت خوب ہے۔ 17 لیکن اصل میں میں وہ نہیں ہوں جو یہ سب کچھ کر رہا ہوں یہ گناہ ہے جو مجھ میں بسا ہوا ہے۔ 18 ہاں میں جانتا ہوں کہ مجھ میں یعنی میرے جسم میں کوئی نیکی بسی ہو ئی نہیں۔ حالانکہ مجھے نیک کام کر نے کی خواہش تو ہے۔ نیک کام مجھ سے بن نہیں پڑتے۔ 19 کیوں کہ اچھا کام کر نا پسند کرتا ہوں لیکن وہ تو نہیں کر تا۔ مگر جس برے کام کا ارادہ نہیں کر تا اسے کر لیتا ہوں۔ 20 اور اگر میں وہی کام کر تا ہوں جنہیں نہیں کر نا چاہتا تو اس کا کر نے والا میں نہ رہا بلکہ گناہ ہے جو مجھ میں رہتا ہے۔
21 غرض میں ایسی شریعت پا تا ہوں کہ جب نیکی کا ارادہ کر تا ہوں تو بدی میرے پاس رہتی ہے۔ 22 کیونکہ باطنی انسانیت کی رو سے میں خدا کی شریعت میں خوش ہوں۔ 23 لیکن میں اپنے جسم میں ایک دوسری ہی شریعت کو کام کر تے دیکھتا ہوں جو میری عقل کی شریعت سے لڑ کر مجھے اس گناہ کی شریعت کی قید میں لے آتی ہے جو میرے بدن میں ہے۔ 24 میں ایک کمبخت انسان ہوں مجھے اس بدن سے جو موت کا نوالہ ہے نجات کون دلائے گا۔ 25 اپنے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے میں خدا کا شکر کر تا ہوں۔
غرض میں خود ہی خدا کی شریعت کی خدمت اپنی عقل سے کر تا ہوں لیکن انسا نی فطرت میں گناہ کی شریعت کی خدمت کر تا ہوں۔
8روح میں زندگی
1 پس اب جو مسیح یسوع میں ہے ان پر سزا کا حکم نہیں۔ 2 کیوں کہ روح کی شریعت نے جو مسیح یسوع کی معرفت زندگی دیتی ہے تجھے گناہ کی شریعت سے جو موت کی جانب لے جاتی ہے آزاد کر دیا۔ 3 وہ شریعت کمزور تھی انسان غیر روحانی انسانی فطرت کے سبب سے کامیاب نہ ہوا۔ اس لئے خدا نے اپنے بیٹے کو ہمارے ہی جیسے انسا نی بدن میں جس کو دوسرے انسان گناہ کے لئے استعمال کر تے ہیں بھیجا۔ خدا نے اپنے بیٹے کو ہمارے گناہوں کے لئے قربان ہو نے کے لئے بھیجا۔ 4 خدا نے یہ اس لئے کیا تا کہ شریعت کا تقاضہ ہما رے لئے مکمل طور پر پو را ہو جو کہ گناہ کی فطرت پر نہیں بلکہ روح کے مطا بق ہے اور ہم اس کے مطا بق چلتے ہیں۔
5 کیوں کہ جو لوگ گناہ کی فطرت کے خوا ہش کے مطا بق چلتے ہیں وہ صرف ان چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو ان کے گناہ کی فطرت چاہتی ہے۔لیکن جوروحانی خیالات کے مطا بق چلتے ہیں انکے خیالات گناہ کے مطابق ہو تے ہیں لیکن جو روحانی خیالات کے مطا بق زندہ ہیں انکے خیالات روح کے خیالات کی طرح رہتے ہیں۔ 6 جو خیالات ہماری انسانی فطرت کے تابع ہیں اس کا نتیجہ موت ہے۔ اور جو روح کے تابع ہیں اس کا نتیجہ زندگی اور سلامتی ہے۔ 7 یہ کیو ں سچ ہے؟ اس لئے کہ خیال جو انسانی فطرت کے تابع ہے وہ خدا کے خلاف ہے کیوں کہ یہ خدا کی شریعت کے تابع نہیں رہتا۔ اور اصل میں اہمیت نہیں رکھتا۔ 8 او ر وہ جو فطری گناہوں کے تابع زندہ ہیں وہ خدا کوخوش نہیں کر سکتے۔
9 لیکن تم گناہوں کی فطرت میں حکمران نہیں ہو۔ لیکن روحانی ہو۔ بشرطیکہ خدا کی روح تم میں بسی ہو ئی ہو۔ لیکن اگر کسی میں مسیح کی روح نہیں ہے تو وہ مسیح کا نہیں ہے۔ 10 تمہا را بدن گناہ کے سبب مردہ ہے اگر مسیح تم میں ہے۔روح تمہیں زندگی دیتی ہے کیوں کہ تم راستباز بنو۔ 11 اور اگر اس خدا کی روح جس نے یسوع کو مرے ہو ئے میں سے جلا یا تھا تمہا رے اندر رہتی ہے تو خدا جس نے مسیح کو مرے ہوئے میں سے جلا یا تھا تمہا رے فانی جسموں کو اپنی روح سے جو تمہا رے اندر بسی ہو ئی ہے زندگی دیگی۔
12 اسی لئے میرے بھائیواور بہنو! ہم قرضدار تو ہیں مگر ہمارے گنہگار فطرت کے نہیں تا کہ ہم گناہوں کی فطرت کی خواہش کے مطابق زندگی گذاردیں۔ 13 کیوں کہ اگر تم فطری گناہوں کی خواہش کے مطا بق زندگی گذارو گے تو روحانی موت مرو گے۔ لیکن اگر تم روح کے وسیلے سے فطری گناہو ں کی خواہش برے کاموں کو کرنا چھوڑ دو گے تم جیتے رہوگے۔
14 جو خدا کی روح کی ہدایت سے چلتے ہیں وہی خدا کے بچے ہیں۔ 15 کیوں کہ وہ روح جو تمہیں ملی ہے تمہیں غلام نہیں بناتی۔ جس سے ڈر پیدا نہیں ہوتی۔ جو روح تم نے پا ئی ہے تمہیں خدا کے چنے ہوئے اولاد بناتی ہے اس روح کے ذریعہ ہم پکار اٹھتے ہیں “ اباّ، اے باپ!” 16 روح خود ہماری روح کے ساتھ مل کر حقیقت کی گوا ہی دیتی ہے کہ ہم خدا کے بچے ہیں۔ 17 اور چونکہ ہم اسکے بچّے ہیں تو وارث بھی ہیں۔ یعنی خدا کے وارث اور مسیح کے ہم میراث ہیں بشرطیکہ ہم اس کے ساتھ درد سہیں اور اس کے ساتھ جلا ل بھی پا ئیں۔
ہمیں جلا ل ملے گا
18 کیوں کہ میں سمجھتا ہوں اس زما نے کے دکھ درد اس لا ئق نہیں کہ اس آنے والے جلا ل کے تقابل میں ہو جو ہم پر نازل ہو نے والی ہے۔ 19 کیوں کہ مخلو قات کمال آرزو سے خدا کے بیٹوں کے ظاہر ہو نے کی راہ دیکھتی ہے۔ 20 خدا کی بنائی ہوئی تمام اشیاء اس طرح باطل کے تابع ہوں گی اپنی مرضی سے نہیں ہوں گی بلکہ خدا نے خود فیصلہ کیا کہ اس کے حوالے کردے۔
21 اس لئے ہم جانتے ہیں کہ تمام مخلوقات اب تک درد زہ اسی طرح تڑپتی کراہتی ہیں اس لئے کہ تمام مخلوقات اپنی فانی غلا می سے چھٹکا رہ پا کر خدا کے بچوں کے جلا ل کی آزادی میں شا مل ہوں گے۔ 23 اور نہ صرف وہی بلکہ ہم میں جنہیں روح کا پہلا پھل ملا ہے ہم اپنے اندرکراہتے رہے ہیں۔ہمیں اس کے بچے ہو نے کے لئے مکمل طور سے انتظار ہے جب کہ ہمارا بدن چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے انتظار کر رہا ہے۔ 24 ہمیں نجات ملی ہے۔ اسی سے ہما رے دل میں امید ہے لیکن جب ہم جس کی امید کر تے ہیں اسے دیکھ لیتے ہیں تو وہ حقیقی امید نہیں رہتی۔ لوگوں کے پاس جو چیز ہے اس کی امید کون کر سکتا ہے۔ 25 لیکن اگر ہم جسے دیکھ نہیں رہے اس کی امید کرتے ہیں تو صبروتحمل کے ساتھ اس کی راہ کو دیکھتے ہیں۔
26 ایسے ہی روح ہماری کمزوری میں مدد کرنے آتی ہے کیوں کہ ہم نہیں جانتے کہ ہم کس طرح سے دعا کریں۔ مگر روح خود آ ہیں بھر کر چلا ّ کر خدا سے ہما ری شفاعت کرا تی ہے جن کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔ 27 لیکن وہ جو دلوں کو پرکھنے وا لا روح کے دماغ کو جانتا ہے کہ روح کی کیا نیت ہے کیوں کہ خدا کی مرضی سے ہی وہ خدا سے اپنے لوگوں کے لئے بات کر تی ہے۔
28 ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلا پید ا کرتی ہیں یعنی ان کے لئے جو خدا کے مقصد کے مطا بق بلا ئے گئے۔ 29 خدا نے اس دنیا کے پیدا ہو نے سے پہلے ہی ان لوگوں کو مقرر کیا۔ اور اپنے بیٹے کی ہمشکل میں رہنے کیلئے طے کیا۔تا کہ سب بھائیوں اور بہنوں میں وہ پہلا ہونا چاہئے۔ 30 اور جن کو اس نے پہلے سے مقرر کیا ان کو بلا یا بھی اور جن کو بلا یا ان کو راستباز ٹھہرایا اور جن کو راستباز ٹھہرایا ان کو جلال بھی بخشا۔
یسوع مسیح میں خدا کی محبت کا ہو نا
31 اس کے بارے میں ہم کیا کہیں ؟اگر خدا ہمارے حق میں ہے تو ہمارے خلاف کون ہو سکتا ہے ؟ 32 اس نے جو اپنے بیٹے تک کو بچا کر نہیں رکھا بلکہ اسے ہم سب کے لئے مر نے کو چھوڑدیا۔ وہ بھلا ہمیں اس کے ساتھ اور سب کچھ کیوں نہیں دیگا ؟ 33 خدا کے بر گزیدوں پر ایسا کون ہے جو الزام لگائے ؟ وہ خدا ہی ہے جو انہیں راستباز ٹھہراتا ہے۔ 34 ایسا کون ہے انہیں قصور وار ٹھہرائے گا ؟مسیح یسوع وہ ہے جو مر گیا مر دوں میں سے جی اٹھا۔ جو خدا کے داہنی طرف بیٹھا ہے اور ہماری شفاعت بھی کر تا ہے۔ 35 وہ کیا چیز ہے جو ہمیں مسیح کی محبت سے الگ کریگا ؟مصیبت یا تنگی یا ظلم یا قحط سالی یا ننگا پن یا خطرہ یا تلوار ؟ 36 جیسا کہ لکھا ہے:
“تیرے لئے ہر دن ہمیں موت کے حوالے کیا جاتا ہے
ہم کو ذبح ہو نے والی بھیڑ جیسے سمجھا جا تا ہے۔” زبور ۴۴:۲۲
37 خدا کے وسیلے سے جو ہم سے محبت کر تا ہے۔ ان سب باتوں میں ہم ایک جلالی فتح پا رہے ہیں۔ 38 کیوں کہ مجھ کو پکاّ یقین ہے کہ خدا کی جو محبت ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہے اس سے ہم کو کو ئی بھی چیز جدا نہ کر سکے گی ،نہ موت ،نہ زندگی ،نہ فرشتے ، نہ بدروحیں ، نہ حال کی ،نہ مستقبل کی چیزیں، نہ قدرت ، 39 نہ بلندی ، نہ پشتی ،اور نہ ہی پو ری کائنات کی کوئی بھی چیز۔
9خدا اور یہودی لوگ
1 میں مسیح میں سچ کہہ رہا ہوں میں جھوٹ نہیں کہتا اور میرا ضمیر مقدس روح کی مدد سے ہی میرا گواہ ٹھہرے گا۔ 2 میں بہت غمگین ہوں اور میرے دل میں دکھ درد برابر رہتا ہے۔ 3 کاش میں اپنے بھائیوں اور بہنو ں اور اپنے دنیاوی رشتہ داروں کی خا طر لعنت اپنے اوپر لے سکتا۔ میں ان لوگوں کی مدد کر سکتا اور اگر میرا مسیح سے الگ ہو جانا انکے حق میں اچھا ہو تا تو میں ایسا کر سکتا۔ 4 وہ لوگ اسرائیلی ہیں۔ وہ لوگ خدا کے چنے ہوئے اولاد ہیں۔ وہ خدا کا جلال حاصل کر چکے ہیں اور خدا انکے ساتھ خدا نے انہیں موسیٰ کی شریعت دی ہے۔ خدا نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ 5 اور وہ لوگ ہمارے آباؤ اجداد کی نسل ہیں اور وہ لوگ انسانی جسم کے طور سے مسیح میں سے ہیں۔اور مسیح ہر چیز کے اوپر خدا ہے۔ ابد تک اسکی تعریف کرو! آمین
6 ایسا نہیں کہ خدا نے اپنا وعدہ پو را نہیں کیا ہے کیوں کہ جو اسرا ئیل کی اولاد ہیں وہ سب ہی سچّے اسرا ئیلی نہیں۔ 7 اور نہ ابرا ہیم کی نسل ہو نے کے سبب وہ سچ مچ میں ابرا ہیم کے فرزند ٹھہرے ہیں بلکہ جیسا خدا نے کہا تیری نسل اسحٰق کے وسیلے سے کہلا ئے گی۔+ 9:7 اِقتِباس پیدائش ۱۲:۲۱*8 یعنی جسمانی فرزند جو پیدا ہو ئے خدا کے سچے فرزند نہیں بلکہ وعدہ کے ذریعے پیدا ہو نے والے ہی خدا کے بچے کہلا ئیں گے۔ 9 کیوں کہ وعدہ کا قول یہ ہے، “میں اس وقت کے مطا بق آؤنگا اور سارہ کو بیٹا ہو گا۔”+ 9:9 اِقتِباس پیدائش ۱۴،۱۰:۱۸*
10 اور صرف یہی نہیں بلکہ رابقہ کو بھی ایک شخص سے اولا دہوگی ہمارے بزرگ ا سحاق ہیں۔ 11 اس سے پہلے دو لڑ کے پیدا ہو ئے تھے اور نہ انہوں نے نیکی یا بدی کر نے سے پہلے رابقہ سے کہا گیا کہ “بڑا لڑکا چھو ٹے کی خدمت کریگا۔”+ 9:11 اِقتِباس پيدائش ۲۳:۲۵ * خدا کہتا ہے کہ پس اسکا منصوبہ رہیگا یہ معلوم کرانے کے لئے اور اسکا انتخاب بھی اسکے منصوبہ پر موقوف رہے گا۔ ان بیٹوں کے کاموں سے نہیں۔ 13 جیسا کہ صحیفہ کہتا ہے کہ “میں نے یعقوب سے تو محبت کی مگر یسوع سے نفرت۔”+ 9:13 اِقتِباس ملاکی ۳-۲:۱*
14 پس ہم کیا کہیں ؟ کیا خدا کے ہاں بے انصا فی ہے ؟ 15 ہر گز نہیں۔ کیوں کہ وہ موسیٰ سے کہتا ہے کہ “میں جس شخص پر بھی رحم کر نے کی سوچونگا اس پر رحم کرونگا اور جس پر ترس کھا نا منظور ہے اس پر ترس کھا ؤنگا۔”+ 9:15 اِقتِباس خروج ۱۹:۳۳*16 پس یہ اخلا قی کوشش ارادہ کر نے والے پر منحصر نہیں بلکہ رحم کر نے والے خدا پر ہے۔ 17 کیوں کہ صحیفہ میں فرعون سے کہا گیا ہے “میں نے تجھے اس واسطے کھڑا کیا تھا کہ میں اپنی قدرت تیرے ساتھ جو ہے ظا ہر کروں اور میرا نام تمام روئے زمین پر مشہور ہو۔”+ 9:17 اِقتِباس خروج ۱۶:۹18 پس خدا جس پر رحم کر نا چاہتا ہے رحم کرتا ہے اور جس سے سختی کر نا چاہتا ہے سختی کر دیتا ہے۔
19 پس تو مجھ سے کہیگا پھر “وہ کیوں عیب لگا تا ہے ؟کون اس کے ارادہ کا مقابلہ کرتا ہے ؟” 20 ا ے انسان بھلا تو کون ہے جو خدا کو جواب دیتا ہے ؟ کیا مٹی کا بر تن کمہار سے کہہ سکتا ہے کہ“تو نے مجھے ایسا کیوں بنایا ہے ؟” 21 کیا کمہا ر کو مٹی پر اختیار نہیں کہ ایک ہی طرح کی چکنی مٹی سے کچھ برتن اہم کام کے لئے اور کچھ معمو لی استعما ل کے لئے بنائے۔
22 خدا اپنا غضب ظا ہر کرنے اور اپنی قدرت آشکار کرنے کے ارادہ سے غضب کے برتنوں کے ساتھ جو ہلا کت کے لئے تیار ہو ئے تھے نہا یت صبر سے پیش آیا۔ 23 اور اس نے چا ہا کہ اپنے عظیم جلال کی دولت رحم کے برتنوں سے آشکار کرے۔جو اس نے جلال کو قبول کرنے کے لئے پہلے تیار کئے تھے۔ 24 اور ہم وہی لوگ ہیں جو ہما ری توسط سے جن کو اس نے نہ صرف یہودیوں میں سے بلکہ غیر یہودیوں میں سے ہم کو بلا یا۔ 25 چنانچہ صحیفے کی طرح ہو سیعاہ کی کتاب میں بھی خدا یوں وضاحت کرتا ہے کہ
“جو لوگ میرے نہیں تھے
انہیں میں اپنا لوگ کہوں گا
اور وہ عورت جو پیاری نہیں تھی
میں اسے اپنی پیاری کہوں گا۔” ہو سیعاہ ۲:۲۳
26 اور،
“اسی جگہ جہاں ان سے کہا گیا تھا کہ
’تم میرے لوگ نہیں ہو‘
اسی جگہ وہ زندہ خدا کا بیٹا کہلا ئیں گے۔” ہوسیعاہ۱:۱۰
27 یسعیاہ اسرائیل کے بارے میں پکار کر کہتا ہے کہ
“اگر بنی اسرائیل کا شمار سمندر کے انگنت ریت کے برا بر بھی ہو
تو بھی صرف ان میں تھوڑے ہی بچ پا ئیں گے۔
28 جیسا کہ خداوند زمین پر اپنے انصاف کو مکمل طور سے اور جلد ہی پورا کرے گا۔” یسعیاہ ۲۳-۲۲:۱۰
29 چنانچہ یسعیا ہ نے پہلے بھی کہا ہے کہ
“اگر خداوند قادر مطلق ہما ری کچھ نسلوں کو باقی نہ رکھتا
تو ہم سدوم اور عمورہ+ 9:29 سدوم اور عمورہ وہ شہر جہاں برے لوگ رہتے تھے – خدا نے بطور عذاب ان کے شہروں کو فنا کر دیا -* کی مانند ہو جاتے۔” یسعیاہ 9:1
30 پس ہم کیا کہیں؟ آخر کار ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو غیر یہودی کی راستبازی پا نے کی کوشش نہیں کر تے ہیں۔حقیقت میں راستبازی پا لیتے ہیں ان کی راستبازی ایمان پر مبنی ہے۔ 31 مگر بنی اسرائیل راستباز ہو نے کے لئے جو شریعت پر چلنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ کامیاب نہ ہو ئے۔ 32 کس لئے؟ اس لئے کہ انہوں نے ایمان سے تلاش کر نیکی کوشش نہیں کی بلکہ اعما ل سے اس کی تلاش کی۔ انہوں نے ٹھو کر کھانے کے پتھر سے ٹھو کر کھائی۔ 33 چنانچہ صحیفے میں لکھا ہے کہ
“دیکھو! میں نے صیون میں ٹھو کر کھانے کا پتھر رکھا
اور چٹان جس سے لوگ ٹھو کر کھا کر گر تے ہیں۔
اور جو چٹان پر ایمان لا ئے گا وہ نا امید نہ ہوگا۔” یسعیاہ۸:۱۴،۲۸:۱۶
101 اے بھا ئیو! میرے دل کی آرزو ہے اور میں خدا سے ان سب یہودیوں کے لئے دعا کرتا ہوں کہ وہ نجات پا ئیں۔ 2 کیوں کہ میں گوا ہی دیتا ہوں کہ وہ خدا کے بارے میں جوش تو رکھتے ہیں لیکن انکا جوش صحیح علم کے بغیر ہے۔ 3 اس لئے کہ وہ خدا کی جانب سے راستبازی سے نا واقف ہیں اور اپنی راستبازی قائم کر نے کی کوشش کر کے خدا کی راستبازی کے تابع نہ ہو ئے۔ 4 کیوں کہ مسیح نے شریعت کا اختتام کیا تا کہ ہر آدمی جو ایمان رکھتا ہے راستبازی حا صل کر نے کے لئے خدا پر یقین رکھے۔
5 راستبازی کے بارے میں موسیٰ نے لکھا ہے کہ وہ شریعت پر عمل کر نے سے حاصل ہو تی ہے “جو شریعت کے اصولوں پر چلے گا وہ انکے وسیلہ سے رہیگا۔”+ 10:5 اِقتِباس احبار ۵:۱۸*6 لیکن ایمان سے ملنے والی راستبازی کے سلسلہ میں صحیفہ کہتا ہے کہ“تو اپنے دل میں یہ نہ کہہ کہ آسمان پر کون جائے گا ؟” (یعنی مسیح کے اتار لا نے کے لئے ) 7 عمیق یا گہراؤ میں کون اتریگا؟(یعنی مسیح کو مردوں میں سے اوپر لا نے کے لئے )۔
8 صحیفہ کیا کہتا ہے ؟ “کلام تیرے سامنےہے تیرے منھ اور تیرے دل میں ہے۔”+ 10:8 اِقتِباس استثناء ۱۴-۲۱:۳۰* یہ وہی ایمان کا کلام ہے جس کی ہم نے منادی کی ہے۔ 9 کہ اگر تو اپنے منھ سے اقرار کرے کہ“یسوع خداوند ہے” اور تو اپنے دل میں یہ ایمان لائے کہ خدا نے اسے مردوں میں سے زندہ کیا تو نجات پائیگا۔ 10 راست بازی کے لئے اس کے دل میں ایمان ہو نا چاہئے اور اپنے منھ سے اس کے ایمان کو قبول کر نے سے وہ نجات پا ئیگا۔
11 کیوں کہ صحیفہ کہتا ہے کہ“ہر آدمی جو اس پر ایمان رکھتا ہے اسے کبھی مایوس ہو نا نہیں پڑیگا”+ 10:11 اِقتِباس یسعیاہ ۱۶:۲۸*12 یہ اس لئے ہے کہ یہودیوں اور غیر یہودیوں میں کو ئی فرق نہیں کیوں کہ وہی سب کا خدا وند ہے اور اسکا فضل ان سب کے لئے افراط ہے جو اسکا نام لیتے ہیں۔ 13 “کیوں کہ ہر وہ شخص جو خداوند کا نام پکار تا ہے نجات پا ئیگا۔”+ 10:13 اِقتِباس یو ایل ۳۲:۲*
14 مگر وہی جو اس میں ایمان نہیں رکھتے اسکا نام کیسے پکار سکتے ہیں ؟ اور وہی جنہوں نے اس کے بارے میں سنا ہی نہیں اس پر ایمان کیسے لا ئیں گے ؟ اور پھر بھلا جب تک کو ئی منا دی کر نے والا نہ ہو وہ کیسے سن سکیں گے ؟ 15 اور جب تک وہ بھیجے نہ جائیں منادی کیوں کر کریں ؟جیسا کہ لکھا ہے، “کیا ہی خوشنما ہیں انکے قدم جو خوشخبری لا تے ہیں۔”+ 10:15 اِقتِباس یسعیاہ ۷:۵۲*
16 لیکن بد قسمتی سے تمام لوگوں نے اس خوشخبری کو قبول نہ کیا۔ چنانچہ یسعیاہ کہتا ہے کہ “اے خداوند! ہمارے پیغام کا کس نے یقین کیا ہے ؟”+ 10:16 اِقتِباس یسعیاہ ۱:۵۳*17 پس ایمان خوشخبری کا پیغام سننے سے پیدا ہو تا ہے اور پیغام کی بنیاد مسیح کے کلام پر ہے۔
18 لیکن میں پوچھتا ہو ں، “کیا انہوں نے پیغام نہیں سنا ؟”بیشک سنا ہے چنانچہ صحیفہ میں لکھا ہے:
انکی آواز تمام روئے زمین پر پھیلی ہو ئی ہے
اور انکی (باتیں ) الفاظ دنیا کی انتہا تک پہنچیں۔ زبور۱۹:۴
19 لیکن میں پو چھنا چاہتا ہوں “کیا اسرائیلی نہیں سمجھ سکتے؟” پہلے موسیٰ کہتا ہے کہ:
“میں ان لوگوں کا استعمال کرتے ہو ئے تم لوگوں کے دل میں بد گمانی ڈالوں گاجو قوم ہي نہيں۔
ایک نادان قوم سے تم کو غصہ دلاؤنگا۔” استثناء۳۲:۲۱
20 پھر یسعیاہ بڑا دلیر ہو کر یہ کہتا ہے کہ
“مجھے ان لوگوں نے پا لیا جنہوں نے مجھے نہیں ڈھونڈا۔
میں خود انکے لئے ظا ہر ہو گیا
جنہوں نے مجھے نہیں پو چھا۔” یسعیاہ۶۵:۱
21 لیکن خدا اسرائیلیوں کے بارے میں کہتا ہے،
“میں دن بھر
ایک نا فرمان اور حجتی پیرو کار کا انتظا رکر تا رہا۔” یسعیاہ ۲:۶۵
11خدا کا اپنے بندوں کو نہیں بھو لنا
1 پس میں پوچھتا ہوں، “کیا خدا نے اپنے ہی لوگوں کو ردّ کر دیا؟” نہیں! ہر گز نہیں۔ کیوں کہ میں بھی ایک اسرا ئیلی ہوں ابراہیم کی نسل اور بنیمین کے قبیلے میں سے ہوں۔ 2 خدا نے اسکے لوگوں کو ردّ نہیں کیا جنہیں اس نے پہلے ہی سے چنا تھا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ صحیفہ ایلیاہ کے ذکر میں کہتا ہے ؟ جب ایلیاہ خدا سے اسرائیلی لوگوں کے خلاف فریاد کررہا تھا ؟ 3 “اے خداوند! انہوں نے تیرے نبیوں کو قتل کیا اور تیری قربان گاہوں کوڈھا دیا صرف ایک ہی نبی میں بچا ہوں اور وہ مجھے بھی قتل کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔”+ 11:3 اِقتِباس اسلاطین ۱۴-۱۰:۱۹*4 مگر تب خداوند نے اسے اس طرح جواب دیا تھا، “میں نے اپنے لئے سات ہزار آدمی بچا رکھے ہیں جنہوں نے بعل+ 11:4 بعل ایک گمراہ خدا کا نام ہے کی عبادت نہیں کی۔”+ 11:4 اِقتِباس اسلاطین ۱۸:۱۹*
5 پس ویسے ہی آجکل بھی کچھ ایسے لوگ بچے ہیں جو خدا کے فضل سے بر گزیدہ بنے ہیں۔ 6 اور اگر یہ خدا کے فضل کا نتیجہ ہے تو لوگ جو عمل کر تے ہیں یہ ان اعمال کا نتیجہ نہیں ہے۔ ورنہ خدا کا فضل، فضل ہی نہ رہا۔
7 پس نتیجہ کیا ہوا ؟ بنی اسرائیل جس چیز کی تلاش کر رہے تھے وہ اسے نہیں پا سکے مگر بر گزیدوں کو اسکو پا نے میں کامیابی ہو ئی۔ جب کہ باقی سب لوگوں کو سخت کر دیا گیا اور وہ اسے پا نہ سکے۔ 8 جیسا لکھا ہے کہ:
“خدا نے انہیں ایک سست روح دی” یسعیاہ۲۹:۱۰
“ایسی آنکھیں دیں جو دیکھ نہیں سکتی تھیں،
اور ایسے کان دیئے جو سن نہیں سکتے تھے
اور ٹھیک یہی حالت آج تک بنی ہو ئی ہے۔” استثناء۲۹:۴
9 داؤد کہتا ہے کہ
“ان کا دستر خوان ان کے لئے جال بنے
اور سزا کا باعث بن جا ئے۔
10 انکی آنکھیں دھند لی ہو جا ئیں تا کہ وہ دیکھ نہ سکیں
اور ان کی پیٹھ ہمیشہ جھکا ئے رکھے۔” ز بور۶۹:۲۲۔۲۳
11 پس میں پوچھتا ہوں کہ کیا انہوں نے ایسی ٹھو کر کھا ئی کہ وہ گر کر نیست و نابود ہو جا ئیں ؟نہیں۔ ہر گز نہیں! بلکہ ان کی غلطیوں سے غیر یہودی لوگوں کو نجات ملی تا کہ یہودیوں کو غیرت ہو۔ 12 پس اس طرح اگر ان کی غلطیاں دنیا کیلئے باعث برکت اور ان کے بھٹکنے سے غیر یہودیوں کے لئے باعث برکت ہو تب خدا کی خوا ہش کے مطا بق یہودیوں کا بھر پور ہونا ہی دنیا کو بھرپور برکت کا باعث ہوگا۔
13 اب میں تم لوگوں سے کہہ رہا ہوں جو یہودی نہیں ہو۔ کیوں کہ میں خصو صی طور پر غیر یہودیوں کا رسول ہوں۔جہاں تک ہو سکے میں اپنی خدمت کروں گا۔ 14 اس امید پر کہ اپنے لوگوں میں بھی غیرت دلا کر ان سے بعض کو نجات دلا ؤں۔ 15 کیوں کہ اگر خدا کے وسیلے سے ان کو خارج کر دیئے جانے سے دنیا میں خدا کے ساتھ میل ملا پ پیدا ہو تا ہے تو پھر ان کا خدا کے پاس مقبول ہو نا یقیناً مردوں میں سے جی اٹھنے کے برا بر نہ ہوگا۔ 16 اگر روٹی کا نذرا نہ خدا کی نظر میں مقدس ہے تب تو روٹی بھی مقدس ہے ؟ اگر پیڑ کی جڑ مقدس ہے تو اس کی شا خیں بھی مقدس ہو ں گی۔
17 کچھ شاخیں کاٹ کر پھینک دی گئیں اور تو جنگلی زیتون کی ٹہنی ہے جس پرپیوند چڑھا دیا گیا ہے تب تم آپس میں زیتون کی روغن دار جڑمیں حصہ دار ہو گے۔ 18 تب تم ان ٹہنیوں کے آگے جو تو ڑ کر پھینک دی گئیں فخر نہ کر۔ اور اگر تو فخر کر تا ہے تو یاد رکھ تو نہیں، جو جڑ کو سہارا دیاہے بلکہ جڑ تجھ کو سنبھا لتی ہے۔ 19 اب تو کہے گا ہاں، “یہ شاخیں اس لئے توڑ دی گئیں کہ میرا اس پر پیوند چڑھے۔” 20 یہ سچ ہے کہ اور تو بے ایمانی کے سبب سے تو ڑدی گئی اور توتیرے ایمان کے سبب سے اسی جگہ پر قائم ہے اس لئے اس پر مغرور نہ ہو بلکہ تو خوف کر۔ 21 اگر خدا نے اصلی ڈالیوں کو نہ چھو ڑا تو وہ تجھے بھی نہیں چھوڑیگا۔
22 اس لئے تو خدا کی مہر بانی اور سختی پر توجہ دے۔ اس کی یہ سختی ان کے لئے جو گر گئے مگر خدا کی مہر بانی تیرے لئے ہے۔ بشرطیکہ تو اس کی مہر بانی پر قائم رہے ورنہ پیڑ سے تجھے بھی کاٹ ڈالا جائے گا۔ 23 اور اگر وہ اپنا ایمان میں لوٹیں تو انہیں پھر دوبارہ پیوند کیا جا ئے گا۔ کیوں کہ خدا پھر انہیں پیوند کر کے بحال کر نے پر قادر ہے۔ 24 ایک جنگلی شاخ کے لئے ایک اچھا درخت کا حصہ بن جانا یہ فطری نہیں ہوگا۔ لیکن تم غیر یہودی لوگ جنگلی زیتون کے درخت سے کاٹے ہو ئے ایک شاخ کی طرح ہو۔اور تمہیں ایک اچھے زیتون کی درخت میں جوڑا (کاشت کیا) گیا ہے۔ لیکن وہ یہودی اس شاخ کی طرح ہیں جو کہ ایک اچھے زیتون کے درخت سے بڑھا ہے۔ اس لئے یقینی طور پر انہیں اپنے اصل درخت میں پھر سے جوڑے جا سکتے ہیں۔
25 اے بھا ئیو اور بہنو! میں تمہیں اس پوشیدہ سچا ئی سے نا واقف رکھنا نہیں چاہتا( کہ تم اپنے آپ کو عقلمند سمجھنے لگو) اسرائیل کا کچھ حصہ ایسے ہی سخت کر دیئے جا ئیں گے جب تک کہ غیر یہودی خدا کا حصہ نہیں بن جاتے۔ 26 اور اس طرح تمام اسرائیل نجات پائیں گے۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ
“چھڑا نے وا لا صیون سے آئے گا۔
وہ یعقوب کے خاندان سے برائیاں دور کریگا۔
27 اور ان کے ساتھ یہ میرا عہد ہوگا
جبکہ میں ان کے گناہوں کو دور کردوں گا۔” یسعیاہ ۲۷:۹،۵۹:۲۰۔۲۱
28 خوش خبری کے اعتبار سے وہ تمہا ری خاطر خدا کے دشمن تھے مگر جہاں تک خدا کی جانب سے انکے منتخب ہو نے کا تعلق ہے وہ انکے باپ دادا کو دئیے گئے وعدوں کی وجہ سے خدا کے پیارے ہیں۔ 29 کیوں کہ خدا جسے بلاتا ہے اور جوکچھ وہ عطیہ دیتا ہے اس کی طرف سے اپنا ذہن کبھی نہیں بدلتا۔ 30 کیوں کہ جس طرح تم پہلے خدا کے نافرمان تھے مگر اب ان کی نافرما نی کے سبب سے تم پر خدا کا رحم ہوا۔ 31 اسی طرح اب یہ بھی نا فرمان ہوئے تا کہ تم پر رحم ہونے کے باعث اب ان پر بھی رحم ہو سکے۔ 32 اس لئے کہ خدا نے ہر ایک لوگوں کو نا فرمانی میں پکڑے جا نے د یا تا کہ سب پر رحم فرما ئے۔
خدا کی توصیف
33 واہ! خدا کی حکمت اور علم کیا ہی عمیق ہے اس کے فیصلے ہماری سمجھ کے باہر ہیں اور اس کی راہوں کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ 34 جیسا کہ لکھا ہے:
“خداوند کی عقل کو کس نے جانا؟
اور اسے صلاح دینے وا لا کون ہو سکتا ہے؟” یسعیاہ۴۰:۱۳
35 “خدا کو کسی نے کچھ دیا ہے کہ
وہ کسی کو اس کے بدلے میں کچھ دے۔” ایوب۴۱:۱۱
36 کیوں کہ ساری چیزیں اس کی تخلیق کردہ ہیں اور اسی کے وسیلہ سے ان کے لئے وجود ہے۔ اسکا جلال ابد تک ہوتا رہے۔ آمین۔
12اپنی زندگی خدا کے حوالے کردو
1 پس اے بھائیو اور بہنو! خدا کی رحمتیں یاد دلا کر تم سے التماس کرتاہوں اپنی جان کو ایسی زندہ قربانی کے لئے نذر کرو جو زندہ اور مقدس اور خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی خدا کے لئے تمہا ری روحانی عبادت ہے۔ 2 اس دنیا کے لوگوں کی مانند تم خود کو نہ بدلو۔ بلکہ اپنے آ پ کو دماغ کی تجدید کے مطابق بدل ڈالو تا کہ تمہیں پتہ چل جا ئے کہ خدا کی مرضی تمہا رے لئے کیا ہے۔ یعنی تم جان جاؤگے کیا اچھا ہے اور خدا کو کیا پسند ہے اور کیا کا مل ہے۔
3 میں تو اس فضل کی نعمت کی وجہ سے جو خدا کی طرف سے مجھ کو دی ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے میں تم میں سے ہر ایک سے کہتا ہوں۔ جو تم ہو اس سے اپنے آپکو بہتر نہ سمجھو۔ بلکہ جیسا خدا نے ہر ایک کو اندازہ کے موافق ایمان تقسیم کیا ہے اعتدال کے ساتھ اپنے آپکو ویسا ہی سمجھو۔ 4 کیوں کہ جس طرح ہمارے ان جسموں میں بہت سے اعضاء ہیں۔اور ہر عضو کے کام ایک جیسے نہیں ہیں۔ 5 اسی طری ہم بھی جو بہت سے ہیں مگر مسیح میں شا مل ہو کر ایک بدن ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے اعضاء کے طور پر کام کر تے ہیں۔
6 خدا کے فضل کی نعمت کے موافق ہمیں جو طرح طرح کی نعمتیں ملی ہیں اس لئے کہ جس کسی کو نبوت کی نعمت ملی ہو وہ اپنے ایمان کے موافق نعمت کا استعمال کر نا چاہئے۔ 7 اگر کسی کو خدمت کر نے کی نعمت ملی ہو تو اپنے آپکو دوسروں کی خدمت کے لئے وقف کر نا چاہئے۔ اگر کسی کو معلم کی نعمت ملی ہو تو اسکو تعلیم دینے میں لگا رہنا چاہئے۔ 8 اگر کسی کو ہمت بندھا نے کی نعمت ملی ہو تو اسے ہمت بندھا نی چاہئے۔اگر کسی کو خیرات بانٹنے کی نعمت ملی تو اسے چاہئے کہ سخاوت کرے۔اگر کسی کو قیادت کی نعمت ملی ہے تو سرگر می سے قیادت کرے اگر کسی کو رحم کر نے کی نعمت ملی ہو تو وہ خوشی سے رحم کرے۔
9 تمہاری محبت خلوص ہو۔ برائی سے نفرت کرو ہمیشہ نیکی سے علیٰحدہ نہ رہو۔ 10 بھا ئیوں اور بہنوں کی طرح آپس میں ایک دوسرے کے قریب رہو۔ دوسرے کو احترام کیساتھ اپنے سے بہتر سمجھو۔ 11 کام کی کوشش میں سستی نہ کرو۔ روحانی جوش کو بڑھا ؤ۔ خدا وند کی خدمت کر تے رہو۔ 12 اپنی امید میں خوش رہو مصیبت میں صابر رہو ہمیشہ دعا میں مشغول رہو۔ 13 خدا کے لوگوں کی ضرورت کے مطابق مدد کرو۔ اور مسافر کو گھر بلا کر خدمت کرنے کے موقع میں لگے رہو۔
14 جو تمہیں ستاتے ہیں انکے واسطے بر کت چاہو۔ ان پر لعنت مت بھیجو۔ بلکہ بر کت چاہو۔ 15 جو خوش ہے انکے ساتھ خوش رہو۔ جو غمزدہ ہے انکے غم میں غمزدہ رہو۔ 16 آپس میں ایک دوسرے سے مل جل کر رہو۔ بلکہ معمولی لوگوں کے ساتھ ملکر رہو فخر نہ کرو۔ اپنے آپکو عقلمند مت سمجھو۔
17 برائی کا بدلہ کسی کو بھی برائی سے مت دو۔ جو باتیں سب لوگوں کے نزدیک اچھی ہیں انکی کوشش کرو۔ 18 جہاں تک تم سے ممکن ہو سکے سب کے ساتھ امن سے رہو۔ 19 اے عزیزو! دوسروں سے انتقام نہ لو بلکہ انتظار کرو کہ خدا اپنے قہر میں انہیں سزا دیگا۔ کیوں کہ صحیفوں میں لکھا ہے: “خدا وند نے کہا انتقام لینا میرا کام ہے اور میں ہی بدلہ دونگا۔”+ 12:19 اِقتِباس استثناء ۳۵:۳۲*20 بلکہ
“اگر تیرا دشمن بھو کا ہو تو اس کو کھا نا کھلا
اور اگر پیا سہ ہے تو اسکو پانی پلا،
کیوں کہ ایسا کر نے سے
تو اس کے سر پر آ گ کے انگاروں کا ڈھیر لگا ئے گا۔”+ 12:20 اِقتِباس امثال ۲۲-۲۱:۲۵*
21 بدی سے شکست نہ کھا ؤ بلکہ بجائے اس کے نیکی سے بدی کو شکست دو۔
13اپنی حکومتوں کے تابعدار رہو
1 ہر شخص کو چاہئے کہ اعلیٰ حکومتوں کا تا بعدار ر ہے۔کیوں کہ کو ئی ایسی حکو مت نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو۔ اور جو حکومتیں موجود ہیں وہ خدا کی طرف سے مقرّر ہیں۔ 2 پس جو کوئی حکومت کی مخالفت کر تا ہے ’وہ خدا کے قائم کردہ حکم کی مخالفت کر تا ہے‘ اور جو خدا کے قائم کردہ حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ سزا پائینگے۔ 3 دیکھو کو ئی بھی حاکم اس شخص کو نہیں ڈراتا ہے جو نیکی کر تا ہے بلکہ اسی کو ڈراتا ہے جو بدکاری کر تا ہے۔ اگر تم حاکم سے نہیں ڈرناچاہتے ہو تو نیکی کے کام کرو۔ تمہیں اسکی طرف سے تعلیم ملے گی۔
4 جو حکومت کر تا ہے وہ خدا کا خادم ہے وہ تیری بھلا ئی کے لئے ہے لیکن اگر تو بدی کرے تو اس سے ڈرنا چاہئے کیوں کہ اس کے پاس تلوار بے فائدہ نہیں ہے۔ جیسا کہ وہ خدا کا خادم ہے۔ جو برے کام کر نے والوں کو سزا دینے کے لئے غضب لا تا ہے۔ 5 اسی لئے حاکم کی تابعداری ضروری ہے۔ نہ صرف غضب کے ڈر سے ضروری ہے بلکہ ضمیر کے لئے۔
6 اسی لئے تم محصول بھی انہیں دیتے ہو کیوں کہ وہ خدا کے خادم ہیں جو اپنے مخصوص فرض کو نبھا نے میں لگے رہتے ہیں۔ 7 جس کسی کا حق ہو ادا کرو محصول باقی ہو تو محصول ادا کرو جس کی مال گزاری باقی ہو اس کو مال گزاری دو ، جس سے ڈرنا چاہئے اس سے ڈرو اور جس کی عزت کر نی چاہئے اس کی عزت کرو۔
محبت ہی شریعت
8 تم کسی طرح سے کسی کے قرضدار نہ رہو لیکن یاد رکھو جو قرض تمہارا ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کر نا ہے۔کیوں کہ جو دوسروں سے محبت رکھتا ہے وہ اسی طرح شریعت پر عمل کر تا ہے۔ 9 کیوں کہ شریعت کہتی ہے، “زنا نہ کر،خون نہ کر ،چوری نہ کر ،دوسروں کی چیزوں کی خواہش نہ کر”+ 13:9 اِقتِباس خروج ۱۷،۱۵-۱۳:۲۰* اور انکے سوا اور جو کوئی حکم ہو ان سب کا خلا صہ اس بات میں پا یا جاتا ہے کہ “اپنے پڑوسی سے اسی طرح محبت رکھو جس طرح تم اپنے آپ سے رکھتے ہو۔”+ 13:9 اِقتِباس احبار ۱۸:۱۹*10 محبت اپنے ساتھی سے بدی نہیں کرتی ا س واسطے محبت شریعت کی تعمیل ہے۔
11 یہ سب کچھ تم اس لئے کرو کہ جیسے تم جانتے ہو نازک وقت میں ہم رہ رہے ہیں تم جانتے ہو کہ تمہا رے لئے اپنی نیند سے بیدار ہو نے کا وقت آگیا ہے کیوں کہ جس وقت ہم ایمان لا ئے تھے اس وقت کی نسبت اب ہماری نجات بہت قریب ہے۔ 12 رات+ 13:12 رات علامت ہے ہم گناہوں کی دنیا میں گزارتے ہيں- لگ بھگ گذر گئی اور دن+ 13:12 دن آنے والے اچھے دن کی علامت نکلنے والا ہے اس لئے آؤ ہم تا ریکی کے کاموں کو ترک کرکے روشن ہتھیار باندھ لیں۔ 13 اس لئے ہم ویسے ہی شائستگی سے رہیں جیسے دن کے وقت رہتے ہیں۔ اس لئے غیر معیاری دعوتوں اور نشہ بازی سے، زناکاری، شہوت پرستی سے جھگڑے اور حسد سے دور رہو۔ 14 بلکہ خداوند یسوع مسیح کو پہن لو یہ مت سوچو کہ تمہا رے گناہوں کی تشفیّ کیسے کی جا ئے اور برے کام کرنے کی خواہش کیسے پورا کریں فکر مت کر۔
14دوسروں پر تنقید نہ کرو
1 جس کا ایمان کمزور ہے اس کا بھی خیر مقدم کرو مگر خیالوں کے بارے میں تکراروں کے لئے نہیں۔ 2 کس کو یقین ہے کہ ہر چیز کا کھا نا جا ئز ہے اور کمزور ایمان وا لا ساگ پات ہی کھا تا ہے۔ 3 آدمی جو ہر طرح کا کھانا کھاتا ہے اسے اس شخص پر الزام لگانا نہیں چاہئے جو بعض چیزوں کو نہیں کھا تا۔ ویسے ہی وہ جو بعض چیزیں نہیں کھا تا ہے اسے سب کچھ کھا نے والے پر الزام نہ لگائے۔ کیوں کہ خدا نے اس آدمی کو قبول کر لیا ہے۔ 4 تو کون ہے جو دوسرے کے نوکر پر الزام لگا تا ہے ؟ اس کا قائم رہنا یا گر پڑ نا اس کے مالک ہی سے متعلق ہے بلکہ وہ قائم ہی کر دیا جائیگا کیوں کہ خدا وند نے اسے قائم رہنے کی قوّت دی۔
5 ایک شخص یہ یقین کر سکتا ہے کہ ایک دن دوسرے دن سے زیادہ اہم ہیں جب کہ دوسرا شخص سب دنوں کو برابر جانتا ہے جو کچھ بھی ہو ہر کو ئی اپنے دماغ میں اپنے ارادوں کو مکمل رکھے۔ 6 کو ئی کسی دن کو مخصوص مانتا ہے تو وہ خدا وند کے لئے مانتا ہے۔ کو ئی سب کچھ کھا تا ہے تو وہ خداوند کے واسطے کھا تا ہے کیوں کہ وہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے اور جو بعض چیزوں کو نہیں کھا تا وہ بھی خدا کے لئے ایسا کر تا ہے۔ وہ بھی خدا کا شکر ادا کرتا ہے۔
7 ہم میں سے کو ئی بھی نہ تو اپنے لئے جیتا ہے اور نہ اپنے لئے مرتا ہے۔ 8 ہم جیتے ہیں تو خدا وند کے لئے اور اگر مرتے ہیں تو بھی خدا وند کے لئے پس چاہے ہم جئیں چا ہے ہم مریں ہم تو خداوند کے ہی ہیں۔ 9 اسی لئے مسیح مرے ،اور اسی لئے دوبارہ زندہ ہو ئے کیوں کہ وہ مردوں اور زندوں دونوں کاخدا وند ہے۔
10 اسلئے تو اپنے بھا ئی پر کس لئے الزام لگا تا ہے ، یا تو کیوں اپنے بھا ئی کو حقیر جانتا ہے یاد رکھو ہم میں سے ہر ایک کو خدا کی عدالت کے آگے کھڑے ہو نا ہے۔ 11 جیسا کہ صحیفہ میں لکھا ہے:
خدا وند کہتا ہے،مجھے اپنی حیات کی قسم،
ہر کسی کو میرے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہو نگے
اور ہر ایک زبان خدا وند کا اقرار کریگی۔ یسعیاہ۴۵:۲۳
12 پس ہم میں سے ہر ایک اپنی زندگی کا اپنا حساب خدا کو دیگا۔
دوسروں کے لئے گناہ کا سبب نہ بنو
13 پس ہم آپس میں ہر ایک دوسرے کو الزام لگا نا بند کریں بلکہ ٹھان لیں کہ تمہارے بھا ئی کے راستے میں کو ئی رکاوٹ نہ ڈا لیں گے نہ ہی اسے گناہ کے لئے ورغلائیں گے۔ 14 مجھے معلوم ہے بلکہ خدا وند یسوع میں مجھے پختہ یقین ہے کہ کوئی کھانا بذات خود نا پاک نہیں وہ کھا نا صرف اس کے لئے ناپاک ہے جو اسے ناپاک مانتا ہے۔
15 اگر تیرے بھا ئی کو تیرے کھا نے سے رنج پہنچتا ہے تو پھر تو محبت کے قاعدہ پر نہیں چلتا۔ تو تو اپنے کھا نے سے انسان کو برباد نہ کر کیوں کہ مسیح اس کے لئے مرا۔ 16 جو تیرے لئے بہتر ہے وہ بدنامی کی چیز نہ ہو۔ 17 کیوں کہ خدا کی بادشاہت صرف کھا نے پینے پر نہیں حقیقت میں راستبازی میں ملاپ اور خوشی پر موقوف ہے جو مقدس روح کی طرف سے ہو تی ہے۔ 18 اور جو کوئی اس طور سے مسیح کی خدمت کرتا ہے ،اس سے خدا خوش رہتا ہے اور لوگ اسے اعزاز دیتے ہیں۔
19 پس ہم ان باتوں کے طا لب رہیں جن سے سکون اور باہمی ترقی ہو۔ 20 کھا نے کی خاطر خداکے کام کو تباہ نہ کرو۔ ہر طرح کا کھا نا پاک ہے۔ لیکن اس شخص کے لئے برا ہے جس کو اس کے کھا نے سے کسی بھا ئی کے گناہ کا سبب ہو۔ 21 یہی بہتر ہے کہ تو نہ گوشت کھا ئے نہ شراب پئے۔ نہ اور کچھ ایسا کرے جس کے سبب سے تیرا بھا ئی گناہ کی ٹھو کر کھا ئے۔
22 جو بھی تمہارا اعتقاد ہے اس کو خدا اور اپنے درمیان ہی رکھو۔ مبارک وہ ہے جو اس چیز کے سبب جسے وہ جائز رکھتا ہے اسکے لئے اپنے کو ملزم نہیں ٹھہرا تا۔ 23 لیکن اگر کوئی کھا نے کو شبہ سے کھا تا ہے تب وہ مجرم ٹھہر تا ہے کیوں کہ اس کا کھا نا اسکے اعتقاد کے مطابق نہیں ہے اور وہ سب کچھ جو اعتقاد پر نہیں ہے وہ گناہ ہے۔
151 ہم جو روحانی طور پر طا قت ور ہیں ،ناتوانوں کی کمزوریوں کی رعایت کریں اور ہم اپنے آپ کو ہی خوش نہ کریں۔ 2 ہم میں سے ہر ایک اپنے پڑوسی کو اسکی بہتری کے واسطے خوش کرے تا کہ اسکا ایمان مضبوط ہو۔ 3 مسیح نے بھی خود کو خوش رکھنے کی کوشش نہیں کی تھی جیسا کہ لکھا ہے، “تیری لعن و طعن کر نے والوں کی لعن وطعن مجھ پر آپڑی۔”+ 15:3 اِقتِباس زبور ۹:۶۹*4 کیوں کہ جتنی باتیں پہلے لکھی گئی ہمیں تعلیم دینے کے لئے لکھی گئی تا کہ جو صبر اور حوصلہ افزائی صحیفوں سے ملتی ہے ہم اس سے امید حاصل کریں۔ 5 اور خدا صبر اور حوصلہ افزائی کا سر چشمہ ہے خدا تم کو اتحاد سے رہنے کی یکسوئی سے تو فیق دے کہ مسیح یسوع کے مطا بق آپس میں ایک دوسرے سے ایک دل ہو کر رہو۔ 6 تا کہ تم سب ایک آواز اور ایک زبان ہو کر ہمارے خدا کی تمجید کرو جو ہمارے خدا وند یسوع مسیح کا باپ ہے۔ 7 اس لئے ایک دوسرے کو گلے لگاؤ جیسے تمہیں مسیح نے گلے لگا یا۔ یہ خدا کے جلال کے لئے کرو۔ 8 میں کہتا ہوں کہ مسیح خدا کی سچائی کی حفاظت کر نے کے لئے مختونوں کا خادم بنا تاکہ ہمارے باپ دادا سے کئے گئے وعدوں کو پو را کرے۔ 9 تا کہ غیر یہودی لوگ بھی اس کے رحم کے لئے خدا کا جلال کریں جیسا کہ لکھا ہے:
“اس لئے میں غیر یہودیوں کے بیچ تجھے پہچا نونگا
اور تیرے نام کے گیت گاؤنگا۔” زبور۱۸:۴۹
10 اور صحیفہ یہ بھی کہتا ہے:
“اے غیر یہودیو!اسکے لوگوں کے ساتھ خوشی کرو۔” استثناء۴۳:۳۲
11 یہ پھر بھی کہتی ہے:
“تم سب غیر یہودی! خدا وند کی حمد کرو
اور سب قومیں خدا وند کی حمد کریں۔” زبور۱۱۷:۱
12 اور یسعیاہ بھی کہتا ہے کہ،
“یسی+ 15:12 یسّی یسّی داؤد کا باپ اسرائیل کا بادشاہ ، یسوع اسی خاندان سے تھا-* کی جڑ ظاہر ہو گی
یعنی وہ شخص جو غیر قوموں پر حکومت کرنے کو اٹھے گا
اسی سے غیر قومیں بھی اس پر اپنی امید رکھیں گی۔” یسعیاہ۱۱:۱۰
13 خدا جو امید کا ذریعہ ہے تمہیں کامل خوشی اور سلامتی سے معمور کرے جیسا کہ اس میں تمہا را ایمان ہے تا کہ مقدس روح کی قوت سے تمہا ری امید زیادہ ہو تی جا ئے۔
پولس کا اپنے کام کی بابت بتا نا
14 اور اے میرے بھا ئیو اور بہنو! میں خود بھی تمہا ری نسبت یقین رکھتا ہوں کہ تم نیکی سے معمورہو اور معرفت سے بھرے ہو۔ تم ایک دوسرے کو ہدایت کر سکتے ہو۔ 15 لیکن تمہیں پھریاد دلا نے کے لئے میں نے بعض باتوں کے بارے میں دلیری سے لکھا ہے۔ یہ اس لئے تم کو لکھا کہ یہ نعمت مجھے خدا کے طرف سے ملی ہے۔ 16 دیگر الفاظ میں غیر یہودیوں کے لئے مسیح یسوع کا خادم بنا۔ کا ہن کے کاموں کی طرح خدا کی خوشخبری کی تعلیم انجام دے رہا ہوں تا کہ غیر یہودی خدا کی نذر کے طور پر مقدس روح سے مقدس ہو کر مقبول ہو جائیں۔ اور اسکے لئے وقف ہو جائیں۔
17 پس میں ان باتوں کو جو خدا کے لئے کر تا ہوں یسوع مسیح میں فخر کر سکتا ہوں۔ 18 کیوں کہ میں انہیں باتوں کو کہنے کی جرات رکھتا ہوں جنہیں مسیح نے میرے ذریعے کی ہیں تا کہ غیر یہودی اپنے قول و فعل سے۔، 19 نشانیوں اور معجزوں کی قوّت سے خدا کی روح کی قدرت سے خدا کی اطاعت کریں۔ 20 لیکن میں نے ہمیشہ ہوشیاری سے یہی حوصلہ رکھا اور خوشخبری ایسی جگہوں پر نہ پھیلا نے کا ارادہ کیا جہاں مسیح کا نام پہلے ہی سے معلوم تھا۔ کیوں کہ میں دوسروں کی بنیاد پر عمارت بنا نا نہیں چا ہتا ہوں۔ 21 لیکن صحیفو ں میں لکھا ہوا ہے کہ:
“جنہیں اس کے بارے میں نہیں کہا گیا ہے، وہ اسے دیکھیں گے
اور جنہوں نے اس کے بارے میں سنا تک نہیں ہے وہ سمجھیں گے۔” یسعیاہ۵۲:۵۱
پولس کا روم جانے کا منصوبہ بنانا
22 اسی لئے میں تمہارے پاس آنے سے کئی مرتبہ رکا رہا۔
23 چونکہ اب ان ملکوں میں کو ئی جگہ نہیں بچی ہے اور بہت سالوں سے میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔ 24 جب ہسپانیہ جاؤں تو امید کرتا ہو ں تم سے ملوں گا کیونکہ مجھے امید ہے کہ ہسپانیہ آتے ہو ئے راستے میں تم سے ملا قات ہو گی۔ اور جب تمہاری صحبت سے کسی قدر میرا جی بھر جائے گا تو میری خواہش ہے وہاں کے سفر کے لئے مجھے تمہاری مدد ملیگی۔
25 مگر اب خدا کے لوگوں کی خدمت کر نے کے لئے یروشلم جارہا ہوں۔ 26 کیو ں کہ مکدینیہ اور اخیہ کی کلیسا کے لوگ یروشلم میں خدا کے غریب لوگوں کے لئے چندہ اکٹھا کر نے پر رضاکا رانہ فیصلہ کیا۔ 27 انہوں نے رضا کارانہ فیصلہ کیا کہ انکے تئیں انکا فرض بھی بنتا ہے کیوں کہ اگر غیر یہودی روحانی باتوں میں یہودیوں کے شریک ہو ئے ہیں تو لازم ہے کہ جسمانی باتوں میں یہودیوں کی خدمت کریں۔
28 پس میں اس خدمت کو پورا کر کے اور جو رقم حاصل ہو ئی ان تمام کو حفاظت کے ساتھ انکے ہاتھوں سونپ کر میں تمہارے پاس ہو تا ہوا ہسپانیہ کے لئے روانہ ہو جاؤنگا۔ 29 اور میں جانتا ہوں کہ جب میں تمہارے پاس آؤنگا تو تمہارے مسیح کی کامل برکت لیکر آؤنگا۔
30 اور اے بھائیو اور بہنو! میں تم سے التجا کر تا ہوں خدا وند یسوع مسیح کے واسطے جو ہمارا خدا وند ہے اس لئے کہ مقدس روح کی محبت کی خا طر میرے لئے خدا سے دعا کر نے میں میرا ساتھ دو۔ 31 کہ میں یہوداہ کے نا فرمانوں سے نجات حاصل کروں اور میرے وہ نذرانے جو میں یروشلم میں لایا خدا کے لوگوں کو قبول آئے۔ 32 تا کہ میں خدا کی مرضی کے مطا بق خوشی کے ساتھ تمہارے پاس آکر تمہار ے ساتھ آرام پاؤں۔ 33 خدا جو اطمینان کا چشمہ ہے تم سب کے ساتھ رہے۔ آمین۔
16پولس کے آخری الفاظ
1 میں تم سے فیبے کی جو کہ ہماری بہن اور کنخریہ کی کلیسا کی خادمہ ہے سفا رش کرتا ہوں۔ 2 کہ تم اسے خداوند میں اس طرح قبول کر اور ایسا خدا کے مقدسوں کے مطا بق ہو اور سب کام جس کی اسے ضرورت ہو اس کی مدد کر کیوں کہ وہ بہتوں کی مددگار رہی ہے بلکہ میری بھی۔
3 پر سلّہ اور اکولہ سے میرا سلام کہو۔وہ مسیح یسوع کے لئے میرے ساتھ مل کر خدمت کئے ہیں۔ 4 انہوں نے میری جان بچا نے کے لئے اپنی زندگی کو بھی داؤ پر لگا دیاتھا۔ اور صرف میں ہی نہیں بلکہ غیر یہودیوں کی سب کلیسائیں بھی ان کا شکر گذار ہیں۔
5 اس کلیسا کو بھی میرا سلام جہاں ان کے گھر اجتماع ہو تا تھا۔
میرے پیارے دوست اپینتس کو میرا سلام کہہ جو ایشیا میں مسیح کو اپنا نے وا لو ں میں پہلا ہے۔
6 مریم کو جس نے تمہا رے لئے بہت کام کیا ہے سلام کہو۔
7 اندرفیکس اور یونیاس سے سلام کہو وہ میرے رشتہ دار ہیں اور میرے ساتھ جیل میں تھے اور رسولوں میں بہت عزت وا لے تھے اور مجھ سے پہلے مسیح میں تھے۔
8 اپلیاطس سے سلام کہو جو خداوند میں پیارا ہے۔ 9 ار بانس سے جو مسیح میں ہم جیسا خدمت گار ہے
اور میرے پیارے استخس سے سلام کہو۔ 10 اپلیس سے سلام کہو جو مسیح کی خدمت میں جو آزمایا اور ثابت کیا گیا
اَرستو بلس کے افراد خاندان سے سلام کہو۔ 11 میرے رشتے داروں ہیرودیوں سے سلام کہو۔
نر کسو س کے خاندان کے لوگوں سے سلام کہوجو خداوند میں ہیں۔ 12 تروفینہ اور تروفوسہ جو خداوند میں سخت محنت کرتی ہیں۔
سلام کہو پیاری پرسس سے سلام کہو۔ اس نے بھی خداوند میں سخت محنت کی۔
13 روفُس جو خداوند میں چنا گیا بر گزیدہ ہے اور اس کی ماں جو میری بھی ماں ہے دونوں سے سلام کہو۔
14 اسنُکر تسُ فلگون، ہرمیس ،پتر باس اور ہر ماس اور ان کے بھائیوں سے جو ان کے ساتھ ہیں سلام کہو۔
15 فلگس،یولیہ نیر بوس اور اس کی بہن اُ لُمپاس اور سب بزرگ لوگوں سے جو ان کے ساتھ ہیں سلام کہو۔
16 آپس میں مقدس بوسہ لے کر ایک دوسرے کو سلام کہو۔ مسیح کی سب کلیسا ئیں تمہیں سلام کہتی ہیں،
17 اب اے بھا ئیو اور بہنو! میں تم سے گذارش کرتا ہوں کہ ان لوگوں سے بہت ہوشیار رہیں جو لوگوں کے درمیان جھگڑا پیدا کرتے ہیں اور ایمان کو کمز ور کر تے ہیں تم نے جو تعلیم پا ئی ہے اس کے خلاف رویہ اختیار کر تے ہیں۔بس ان سے دور رہا کرو۔ 18 کیوں کہ ایسے لوگ ہمارے خداوند مسیح کے نہیں بلکہ اپنے پیٹ کی خدمت کرتے ہیں اور وہ اپنی خوشامد بھری چکنی چپڑی باتوں سے سادہ لوگوں کو بہکا تے ہیں۔ 19 کیوں کہ تمہا ری فرمانبر داری سب میں مشہور ہو گئی ہے اس لئے کہ میں تم سے بہت خوش ہوں۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم نیکی کے اعتبار سے عقلمند بن جاؤ اور بدی کے اعتبار سے معصوم بنے رہو۔
20 اور خدا جو سلامتی کا ذریعہ ہے شیطان کو تمہا رے پا ؤں سے جلد کچلوا دے گا۔ ہمارے خداوند یسوع کا فضل تم پر ہوتا رہے۔
21 میرا ہم خدمت تیمتھس اور میرے یہودی ساتھی لو کیس ، یاسون ، اور سو سپطرس کی جانب سے تمہیں سلام۔
22 اس خط کا کاتب میں ترتیس تم کو خداوند میں اپنا سلام کہتا ہوں۔
23 گئیس میرا اور ساری کلیسا کا میزبان تمہیں سلام کہتا ہے۔اراستس شہر کا خزانچی اور ہمارا بھا ئی کو ارتس تم کو اپنا سلام کہتا ہے۔ 24+ 16:24 آیت ۲۴ چند یونانی “اعمال “نسخوں میں اس آیت کو شامل کیا گیا ہے*
25 اب خدا کا جلال ہوتا رہے جو تم کو میری خوش خبری کی تعلیم کے موافق مضبوط کر سکتا ہے یہ خوش خبری یسوع مسیح کا پیغام ہے جو ا س بھید کے مکاشفہ کے مطابق ازل سے پوشیدہ رہا۔ اور خدا سے ظاہر ہوتا رہا۔ 26 مگر اس وقت ظاہر ہوکر نبیوں کے صحیفوں کے ذریعے سے سب قوموں کو بتایا گیا کہ لا فانی خدا کے حکم کے مطا بق وہ ایمان کے فرمانبردا ر ہو جا ئیں۔ 27 یسوع مسیح کے وسیلے سے اسی واحد دانشمند خدا کا ابد تک جلال ہوتا رہے۔آمین!