رسولوں

کے اعمال

1

لوقا کا دوسری کتاب تحریر کرنا

1 عزیزتھِیُفِلس،

پہلی کتاب میں جو میں نے بیان کیا تھا اس میں وہ سب کچھ تھا جو یسوع نے شروع میں کر نے کی تعلیم دی۔ 2 میں نے اس میں ابتداء سے اس دن تک کے واقعات درج کيا ہے جب یسوع کو آسمان میں اٹھا ليا گيا تھا۔اس واقعہ سے پہلے یسوع نے ان رسولوں سے بات کی جسے اس نے چنا تھا۔اس نے روح القدس کے ذریعے رسولوں کو کہا کہ اسے کیا کر نا ہے۔ 3 یسوع نے خود رسولوں کو بتا یا کہ وہ مرنے کے بعد بھی زندہ تھے۔ یسوع نے بہت سے طریقے سے اس کو ثابت کیا ہے وہ کیا کرنا چاہتے تھے۔ یسوع موت سے جی اٹھنے کے بعد بھی اپنے رسولوں کو چالیس دن تک نظر آتے رہے ،اور یسوع خدا کی بادشاہت کے متعلق رسولوں سے کہتے رہے۔ 4 ایک دن جب وہ ان کے ساتھ کھا رہے تھے تو اس نے انہیں کہا تھا، “وہ یروشلم کو چھوڑ کر نہ جا ئے گا۔ یسوع نے کہا تھا کہ باپ نے تم سے کچھ وعدہ کیاہے جو میں پہلے تم سے کہہ چکا ہوں کہ تم یروشلم میں ہی رہو تا کہ وعدہ پو را اور سچ ہو جا ئے۔ 5 یوحناّ نے تم کو پانی سے بپتسمہ دیا تھا لیکن اگلے چند دنوں میں تمہیں مقدس روح کے ذریعہ سے بپتسمہ ملے گا۔”

یسوع کا آسما نوں پر لیجایا جانا

6 تما م مسیح کے رسولوں نے وہاں جمع ہو کر یسوع سے پوچھا، “خداوند! کیا اسی وقت آپ یہودیوں کو پچھلی بادشاہت عطا کر رہے ہیں؟”

7 یسوع نے جواب دیا، “صرف با پ کو اختیار ہے کہ وہ تاریخ اور وقت کا تعین کرے اور تم انہیں نہیں جا نتے۔ 8 لیکن مقدس رُوح تم پر آئے گا تب تم قوت پا ؤگے۔ تم لوگوں کو میرے متعلق گواہی دوگے۔ تم لوگوں کو سب سے پہلے یروشلم میں کہو گے اور پھر یہو داہ اور سامریہ کے لوگوں سے کہوگے اور دنیا کے ہر خطے میں کہو گے۔”

9 یہ سب باتیں کہنے کے بعد یسوع آ سمان پر اٹھا لئے گئے۔ ان کے رسو لوں نے اس کی طرف دیکھا تو اسے بادلوں نے اپنے اندر لے لیا اور وہ اسے دیکھ نہ سکے۔ 10 جب یسوع اوپر آسمان میں جا رہے تھے تو وہ آسمان کو دیکھتے رہے اچا نک دو آدمی جو سفید کپڑے پہنے ہو ئے تھے اس کے پہلو میں آئے۔ 11 دو آدمیوں نے رسولوں سے پوچھا، “اے گلیل کے مر دو!تم کھڑے رہ کر آسمان کی طرف کیا دیکھتے ہو ؟” تم نے دیکھا نہیں یسوع کوآسمان کی طرف اٹھا لیا گیا یہی یسوع ہیں اور اسی طرح پھر دوبارہ واپس آئیں گے۔ اور تم ا نکو اسی طرح دیکھو گے جس طرح جا تے ہو ئے دیکھا ہے۔

ایک نئے رسول کا انتخاب

12 وہ سب رسول زیتون کی پہا ڑی سے واپسی کے بعد یروشلم کی طرف روانہ ہو ئے وہ پہا ڑی یروشلم سے تقریباً نصف میل کی دوری پر واقع ہے۔ 13 تمام رسول یروشلم میں داخل ہو ئے اور اوپر اس کمرے میں پہنچے جہاں پر وہ ٹھہرے ہو ئے تھے۔ان سارے رسولوں میں پطرس ،یوحنا ، یعقوب ،اندریاس ، فلپس،تو ما ،برتلما ئی ،متیّ اور الفا ئس کا بیٹا یعقوب سائمن جو قوم پرست تھا اور یہوداہ جو یعقوب کا بیٹا بھی تھا۔

14 تما م ر سول جو وہاں اکٹھے ہو ئے تھے سب ہی ایک مقصد کے ساتھ دعا کے لئے جمع ہو ئے تھے ان میں چند عورتیں بھی تھیں جن میں مریم یسوع کی ماں اور اس کے بھا ئی بھی رسولو ں کے ساتھ شا مل تھے۔

15 اس کے چند دن بعد ایمان لا نے وا لوں کا ایک اجلاس مقرر ہوا۔ جس میں تقریباً ایک سو بیس افراد جمع ہوئے تھے 16‏-17 پطرس اٹھ کھڑا ہوا اور مخا طب ہوا“بھا ئیو! روح القدس نے صحیفوں کے ذریعہ داؤد سے کہلا یا تھا کہ کچھ واقعات پیش آئیں گے جسکا تعلق یہودا ہ سے تھا وہ ہم میں سے ایک ہے یہودا ہ ہی ہما رے ساتھ خدمت کر تا رہا تھا۔ اوراس روح مقدس نے کہا کہ یہودا ہ ہی یسوع کو گرفتار کروانے میں رہنما ہو گا۔”

18 یہودا ہ کو اس شیطانی کام کے لئے رقم دی گئی جس سے اس نے میدان خریدا لیکن یہوداہ سر کے بل گرا اور اس کا پیٹ پھٹا اور انتڑیاں باہر نکل پڑیں۔ 19 ان تمام لوگوں نے جو یروشلم کے رہنے والے تھے حقیقت سے آشنا ہو ئے اسی لئے اس کھیت کا نام انہو ں نے ہقل دما رکھا “یعنی خونی کھیت” ان کی زبان میں یہی اسکے معنی ہیں۔

20 پطرس نے کہا، “زبور میں یہوداہ کے متعلق لکھا ہے:

کہ کو ئی بھی اس کے گھر کے قریب نہ جا ئے

اور کو ئی بھی وہاں نہ رہے زبور۶۹‏:۲۵

اور یہ بھی لکھا ہے:

کہ اور کو ئی دوسرا اس کے کام کو نہ کرے۔ زبور۱۰۹‏:۸

21‏-22 اس لئے دوسرے آدمی کو ہما رے ساتھ مل کر یسوع کے جی اٹھنے کا گواہ ہو نا ہو گا۔یہ آدمی ان میں سے ایک ہو نا چاہئے جو ہما رے ساتھ اس دوران رہے جب یسوع ہم لوگوں کے ساتھ رہے تھے ، اور یوحنا کا لوگوں کو بپتسمہ دینے سے لیکر اس دن تک جب یسوع کو ہم لوگوں میں سے آسمانو ں میں اٹھا لیا گیا ہم لوگوں کے ساتھ رہے۔

23 رسو لوں نے دو آدمیوں کو پیش کیا ایک یوسف برسیاّ جس کو جستس بھی کہا گیا ہے۔ اور دوسرا آدمی متیاہ تھا۔ 24‏-25 رسولوں نے دُعا کی“خدا وند تو تمام آدمیوں کے ذہنوں کو جانتا ہے ہمیں راستہ بتا کہ ان دو میں سے کس کو منتخب کیا جا ئے اور کون اس وزرات میں رہے گا۔”یہودا ہ اس کا مستحق تھا اور وہ اس جگہ پلٹ کر آیا۔ 26 تب وہ دو میں سے ایک کو منتخب کر نے کے لئے قرعہ ڈا لا قرعہ متیاہ کے نام نکلا اور وہ بحیثیت رسول دیگر گیارہ افراد کے منتحب ہوا۔

2

روح القدس کی آمد

1 جب پنکت کی تقریب+ 2‏:1 پنتُکست یہودی تقریب جو گیہوں کی فصل ہونے پر فسح کے ۵۰دن بعد منائی جاتی ہے* کا دن آیا تو تمام رسول ایک جگہ اکٹھے ہو ئے۔ 2 اچانک ایک زور دار آواز زوردار ہوا کے چلنے سے آسمان سے آئی۔اس آواز کی گونج سے جس جگہ یہ لوگ بیٹھے تھے وہ جگہ دہل گئی۔ 3 انہوں نے دیکھا جیسے آ گ کے شعلے لپک رہے ہوں۔ یہ شعلہ علحدٰہ ہو کر ان کے پاس آکر گرے جہاں پر یہ بیٹھے ہوئے تھے۔ 4 اور وہ تمام روح القدس سے بھر گئے اور مختلف ز بانیں بولنے لگے جیسا کہ روح القدس نے انہیں ایسا کر نے کی طاقت دی ہو۔

5 وہاں کچھ مذ ہبی یہو دی لوگ یروشلم میں تھے۔ جو دنیا کے ہر ممالک کے تھے۔ 6 ایک بڑا گروہ بھی ا ن لوگوں کے ساتھ آیاتھا جنہوں نے یہ آواز سنی اور وہ سب حیرت میں تھے۔ دیکھیں کہ رسول لوگ اپنی زبان سے کیا کہتے ہیں۔

7 تمام یہو دی حیران تھے۔ اور وہ سمجھ نہ سکے کہ کس طرح ان رسو لوں نے اایسا کیا انہوں نے کہا، “دیکھو یہ لوگ جو کہہ رہے ہیں وہ کہیں گلیل کے تو نہیں!” 8 لیکن یہ جو کہتے ہیں ہم اسے اپنی اپنی زبان میں سمجھ رہے ہیں۔ یہ کس طرح ممکن ہے کیوں کہ ہما را تعلق مختلف جگہوں سے ہے جیسے۔ 9 ہم پا رتھی،ما وی،ایلام ، مسو پو ٹا میہ،یہوداہ،کپد کیہ،پونٹس ایشیاہ۔ 10 فریگیہ،پمفلیہ،مصر، اور لیبیا کے خطے جو شہر سائرن ،روم کے قریب ہیں۔ 11 کریتی اور عربیہ کے ہیں۔ہم میں سے چند پیدائشی یہودی ہیں اور چند ہمارے مذہب میں تبدیل ہو گئے ہیں- اور ہم مختلف ممالک سے ہیں لیکن ہم ان آدمیوں کی گفتگو کو جو خدا کے بارے میں ہے بہتر سمجھ رہے ہیں۔”

12 تمام لوگ حیران اور پریشان تھے- اور وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے، “یہ کیا ہو رہا ہے ؟” 13 ان میں سے بعض نے مسیح کے رسولوں کا مذاق اڑایا اور انہوں نے کہا، “وہ زیادہ مئے پینے سے نشہ میں مست ہیں۔

پطرس کا لوگوں سے خطاب کرنا

14 تب پطرس دیگر گیارہ رسولوں کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا اور با آواز بلند جس کو سب سن سکیں کہا،“اے میرے یہودی بھائیو اور دیگر حضرات جو یروشلم میں رہتے ہو میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں” اس لئے غور سے میرے جملے سنو جسے تم جاننا چاہتے ہو۔ 15 تم غلط خیال کر رہے ہو کہ یہ لوگ نشہ میں ہیں اب صبح کے نو بجے ہیں۔ 16 یہ سب باتیں یوایل نبی کے ذریعہ کہی گئی ہیں جو تم آج یہاں دیکھ رہے ہو یوایل نے کہا اور لکھا ہے:

17 خدا کہتا ہے

آخر دنوں میں ایسا ہو گا کہ میں اپنی روح تمام لوگوں پر ڈالوں گا

اور تمہارے بیٹے و بیٹیاں بھی نبوّت کریں گے-

تمہارے نوجوان رویا

اور تمہارے عمر رسیدہ بزرگ خواب دیکھیں گے۔

18 بلکہ ان دنوں میں اپنی رو ح اپنے خدمت گزاروں جن میں مرد و عورت سبھی ہوں گے پر ڈالونگا

اور وہ نبوت کی باتیں کریں گے۔

19 میں آسمان میں معجزے

اور زمین پر عجیب و غریب کرشمے دکھا ؤنگا،

گویا خون آ گ اور دھوئیں کے گھنے بادل دکھا ؤنگا۔

20 سورج اندھیروں میں گم ہو گا

اور چاند بالکل خون کی مانندسرخ ہوگا۔

تب خداوند کا عظیم و شاندار دن آئیگا۔

21 جو کوئی بھی خداوند کا نام لیگا نجات پائے گا۔محفوظ رہے گا یوایل۲‏:۲۸۔۳۲

22 میرے یہو دی بھا ئیو! یہ سا رے الفاظ غور سے سنو کہ یسوع نا صری کوخدا نے واضح طور پر خاص آدمی بنایا۔ اور اس بات کو ثا بت کر نے کے لئے اپنے معجزے اور حیرت انگیز کاموں کو جو اس نے یسوع کے ذریعہ تمہیں بتا ئے۔ اور تم سب نے اس کو دیکھا اوراسے سچ جانا۔ 23 یسوع کو تمہا رے لئے دیا گیا لیکن تم نے برے لو گوں کے ذریعے انہیں مصلوب کئے اور کیل ٹھو کے لیکن خدا جانتا تھا کہ سب کچھ ہو گا اور یہ خدا وند کا ہی مقررہ نظام تھا جو اس نے بہت پہلے تیار کیا تھا۔ 24 یقیناً یسوع موت کی دردوتکلیف کو برداشت کیا۔ لیکن خدا نے اس کودوبارہ زندگی دے کر نجات دی۔ وہ موت یسوع کو قابو میں نہ کر سکی۔ 25 داؤد نے یہ سب کچھ یسوع کے ذریعہ کہا ہے کہ،

میں نے خداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے دیکھا ہے۔

اور وہ میری داہنی جانب ہے اور وہ مجھے سلامتی میں رکھا ہے۔

26 اسی سبب سے میرا دل بہت خوش ہے

اور میری زبان بھی خوش ہے

اور میرا جسم بھی پرُ امید ہے۔

27 اس لئے کہ تم میری جان کو عالم ارواح میں نہ چھو ڑوگے۔

اور نہ اپنے مقدس کو سڑ نے کی نو بت پر پہنچنے دو گے۔

28 تم نے مجھے سکھا یا کہ کس طرح رہنا چاہئے

تم میرے بہت قریب ہو اور میری خوشیاں حا صل کر تے ہو۔ زبور۱۶‏:۸۔۱۱

29 “میرے بھا ئیو! کیا میں تمہیں آزادانہ طور پر داؤد کے متعلق کہہ سکتا ہوں جو ہما رے آبا ؤ اجداد ہیں انکی وفات ہو ئی دفن ہو ئے اور ان کی قبر آج بھی ہما رے درمیان ہے۔ 30 دا ؤد نبی تھے اور وہ جانتے تھے کہ خدا کیا کہتا ہے۔ خدا نے وعدہ کیا تھا کہ داؤد کے خاندان ہی میں سے ایک شخص کو بادشاہت دے گا اور وہ اسی تخت پر بادشاہ بن کے بیٹھے گا۔ 31 اور داؤد نے بہت پہلے ہی سے اس بات کو جان کر کہا تھا:

کہ وہ عالم موت میں نہیں چھوڑا جا ئے گا

اور نہ اس کے جسم کو قبر میں کو ئی نقصا ن ہو گا

اور داؤد نے یہ سب یسوع کے متعلق کہا تھا کہ مر نے کے بعد پھر اٹھا یا جائے گا۔ 32 یسوع ہی ایک ایسا ہے جسے خدا نے مر نے کے بعد پھر اٹھا یا اور ہم سب اس کے گواہ ہیں۔ 33 یسوع کو آسمان پر اٹھا لیا گیا اور اب یسوع خدا کی داہنی جانب ہے۔ اور باپ نے اس کو روح القدس عطا کیا۔ جیسا کہ وعدہ کیا تھا۔ اور یسوع اب روح کو تم پر نازل کیا جو تم دیکھتے اور سنتے ہو۔ 34 داؤد کو آسمان پر نہیں اٹھا یا گیا تھا۔ یہ یسوع تھا جس کو آسما نوں پر اٹھا لیا گیا۔داؤد نے خود کہا:

خداوند نے میرے خداوند سے کہا کہ میری داہنی طرف بیٹھ۔

35 جب تک کہ میں تمہا رے دشمنوں کو تمہا رے قبضہ میں نہ دوں۔ زبور۱۱۰‏:۱

36 چنانچہ “سبھی اسرائیلیوں کو یہ سچا ئی جاننا چاہئے کہ خدا وند نے اسی یسوع کو جسے تم لوگوں نے صلیب پر چڑھا دیا، خداوند اور مسیح بنا یا۔

37 جب لوگوں نے یہ سنا تو وہ نہا یت رنجیدہ ہو ئے اور انہوں نے پطرس اور دوسرے رسولوں سے پوچھا کے بھا ئیو! اب ہمیں کیا کر نا چا ہئے؟”

38 پطرس نے ان سے کہا، “تم اپنے دلوں اور اپنی زندگی کو بدل ڈالو اور تم میں سے ہر ایک یسوع مسیح کے نام سے بپتسمہ لے تا کہ خدا تمہا ر ے گناہوں کو معاف کرے۔ اور اس طرح تمہیں روح ا لقدس عطیہ کے طور پر حاصل ہو۔ 39 یہ وعدہ تمہا رے لئے ہے اور تمہا رے بچوں کے لئے اور ا ن سب کے لئے جو یہاں سے بہت دور ہیں۔ اور ہر ایک کے لئے ہے کہ خداوند ہمارا خدا اپنے پاس بلا ئے۔”

40 پطرس نے ان لوگوں کو خبر دار کیا اور بہت سی باتیں کہہ کر ان سے یہ ا لتجا کی کہ اپنے آپ کو ایسے برے لوگوں سے بچاؤ۔ 41 وہ لوگ جنہوں نے پطرس کے پیغام کو سنا اور ایمان لے آئے اور بپتسمہ قبول کیا۔ اس روز تقریباً تین ہزار لوگ ایمان وا لے لوگوں کے مجمع میں شامل ہو ئے۔

اہلِ ایمان کا حصہّ

42 تمام کے تمام ایک دوسرے سے مل کر رسو لوں کی تعلیم پر عمل کر نا شروع کیا اور با ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھا نے میں اور دعا کر نے میں بھی شامل رہے۔ 43 بہت سی عجیب چیزیں جو رسو لوں کے ذریعہ ظا ہر ہو ئیں ان تمام چیزوں کو دیکھ کر سب کے دل میں خدا کی عظمت بیٹھ گئی۔ اور سارے لوگ اس کی تعظیم کر نے لگے۔ 44 تمام اہلِ ایمان ایک جگہ رہنے لگے اور ہر ایک معاملہ میں ایک دوسرے کی مدد کر تے رہے۔ 45 اور اپنی زمینات اور دوسری اشیاء فروخت کر کے ایسے لوگوں کے کام آتے جو ضرورت مند ہو تے تھے۔ ان کو اپنا مال متاع وغیرہ بانٹ دیتے تھے۔ 46 سب اہلِ ایمان ایک ساتھ ہر روز عبادت خا نے میں اجلا س کر نے کے لئے جمع ہو تے سب کا ایک ہی مقصد ہو تا اور خوشی خوشی ایک دل ہو کر اپنے گھروں میں ساتھ کھا تے۔ 47 اہلِ ایمان خدا کی تعریف کر تے اور تمام لوگ انہیں چاہتے تھے۔ زیا دہ سے زیادہ لوگ ان کے ساتھ شامل ہو تے گئے اور خداوند انہیں اہلِ ایمان کے ساتھ ملا دیتا تھا۔

3

لنگڑے آدمی کا پطرس کے ذریعہ شفاء پا نا

1 ایک دن پطرس اور یوحناّ ہیکل میں دوپہر تین بجے گئے۔اور یہ وقت ہیکل کی روزا نہ کی دعا کا وقت تھا۔ 2 وہ جب ہیکل کے آنگن میں داخل ہو رہے تھے تو وہاں ایک معذور آدمی ملا۔ جو پیدائشی لنگڑ ا تھا اور چل پھر نہیں سکتا تھا وہ ہر روز اس کو ہیکل لے آتے اور ہیکل کے دروازہ کے نزدیک چھو ڑ جا تے جو خوبصورت دروازہ کہلا تا تھا جہاں وہ ہیکل میں ہر ایک آنے جانے وا لے سے بھیک مانگتا تھا۔ 3 اس روز اس معذور نے پطرس اور یوحناّ کو دیکھا کہ وہ ہیکل کو جا رہے ہیں تو اس نے ان سے بھیک مانگی۔

4 پطرس اور یو حناّ نے اس لنگڑے معذور کو دیکھا اور کہا، “ہما ری طرف دیکھ۔” 5 تب معذور نے انہیں دیکھا اور یہ خیال کیا کہ یہ لوگ اسے کچھ رقم دیں گے۔ 6 لیکن پطرس نے کہا، “میرے پاس کوئی سونا یا چاندی نہیں بلکہ میرے پاس کچھ اور چیزہے جو میں تمہیں دے سکتا ہوں اور تو ناصرت کے یسوع مسیح کے نام سے کھڑا ہو اور چل۔”

7 تب پطرس نے اس لنگڑے معذور کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا فوراً ہی اس لنگڑے معذور کے پیروں میں طاقت آئی۔ 8 وہ کود کر کھڑا ہوگیا اور چلنا شروع کیا۔ وہ ہیکل کے اندر گیا۔ وہ اچک اچک کر چلنے لگا اور خدا کی تعریف کر تا رہا۔ 9‏-10 سب لوگوں نے اس کو پہچان لیا کہ وہ لنگڑا معذور وہی تھا جو ہیکل کے خوبصورت دروازہ کے پاس بیٹھ کر بھیک مانگا کرتا تھا اور سب نے دیکھا کہ اب چل رہا ہے اورخدا کی حمد کر رہا ہے۔لوگ حیرت زدہ تھے اور سمجھ نہیں سکے ایسا کیسے ہو گیا۔

پطرس کا لوگوں سے بات کر نا

11 وہ آدمی پطرس اور یوحنا کو پکڑا ہوا تھا تمام لوگ حیران تھے آدمی کو شفاء یاب دیکھ کر وہ بر آمدہ سلیمان کی جانب دوڑے جہاں پطرس اور یوحناّ کھڑے تھے۔

12 پطرس نے یہ دیکھ کر لوگوں سے کہا، “اے میرے یہودی بھا ئیو!، کیا تم اس چیز سے حیران ہو تم ہمیں اس طرح دیکھ رہے ہو گویا یہ ہما ری کوئی طاقت تھی جس کی وجہ سے وہ آدمی چلنے لگا۔ تم سمجھتے ہو کہ ہم کوئی نیک ہیں جس کی وجہ سے اس کو چلنے کے قابل بنایا۔ 13 نہیں! بلکہ یہ خدا نے کیا جو ابراہیم کا خدا ہے اور اسحاق کا خدا ہے یعقوب کا خدا ہے وہ ہما رے آباؤاجداد کا بھی خدا ہے۔اس نے یسوع کو جو اس کا خاص بندہ ہے اپنے جلا ل سے نوازا۔لیکن تم نے انہیں قاتلوں کے حوا لے کردیا تاکہ ماردیا جا ئے۔جب پیلا طس نے یسوع کو چھڑا نے کا ارادہ کیا تو تم نے اس کوقبول نہیں کیا۔ 14 یسوع تو پاک اور اچھا ہے لیکن تم نے پیلا طس سے کہا کہ یسوع کی بجا ئے کوئی قاتل کو رہا کیا جائے۔ 15 تم نے زندگی دینے والے کو مار ڈالا لیکن خدا نے اسے موت سے اٹھا لیا جس کے ہم گواہ ہیں جس کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

16 یسوع کی قوت نے لنگڑے معذور کو شفاء دی یہ اس لئے ہوا کہ ہمیں یسوع کی قوت پر بھروسہ ہے تم اس آدمی کو دیکھتے ہو وہ با لکل شفایاب تندرست ہے کیوں کہ اس کو یسوع پر ایمان ہے۔

17 “میرے بھا ئیو! میں جانتا ہوں کہ تم نے جو کچھ یسوع کے ساتھ کیا تم واقف نہ تھے کہ تم کیا کر رہے ہو تمہا رے قائد بھی واقف نہ تھے کہ کیا کر رہے ہیں۔ 18 خدا نے اپنے نبیوں کے ذریعہ کہا تھا کہ جو واقعات ہو نے وا لے تھے اس سے مسیح موت کا دکھ اٹھا ئیگا، میں نے اب ان حا لا ت سے جو کچھ اس نے کہا تھا اس کو پورا کیا۔ 19 اس لئے تمہیں چاہئے کہ تم دلوں میں اور زندگی میں تبدیلی کر تے ہو ئے واپس خدا کے پاس آجا ؤ۔ اس طرح خدا تمہا رے گنا ہوں کو معاف کرے گا۔ 20 تب خداوند تمہا رے لئے وقت دے گا تا کہ تم رُوحا نی سکون حا صل کرو وہ یسوع کو تمہارے پاس بھیجے گا جس کو مسیح چنا گیا ہے۔

21 یسوع آسمان میں رہتے ہیں وہ وہیں رہیں گے جب تک وہ سب باتیں بحال نہ کی جا ئیں جن کا ذکر خدانے اپنے مقدس نبیوں کی زبانی کیا ہے۔ 22 موسیٰ نے کہا خداوند تمہا را خدا تمکو نبی دے گا۔ وہ نبی تم لوگوں میں سے ہی آئے گا وہ میرے جیسا ہو گا۔ جو کچھ وہ تم سے کہے اسے سننا ہوگا۔ 23 اور جو کوئی اس نبی کو سننے سے انکار کرے گا تو وہ مر جا ئے گا اور خدا کے محبوب لوگوں سے الگ کر دیا جا ئے گا۔+ 3‏:23 اِقتِباس استثناء ۱۹‏،۱۵‏:۱۸*

24 سموئیل اور دوسرے نبیوں نے جو کچھ خدا کی جانب سے کہا انہوں نے اس مو جودہ وقت کے متعلق ہی کہا تھا۔ 25 جن چیزوں کے بارے میں نبیوں نے کہا تھا تم نے اسے حا صل کیا ہے تمہا رے آبا ؤ اجداد سے خدا نے جو معاہدہ کیا تھا اس کو حاصل کیا خدا تمہارے باپ ابراہیم سے کہہ چکا ہے کہ روئے زمین کی ہر قوم پر انکی نسل کے ذریعہ ہی فضل ہو گا ۔+ 3‏:25 اِقتِباس پیدائش ۱۸‏:۲۲؛۲۴‏:۲۶*26 “خدا نے اپنے خاص خادم کو تمہارے پاس بھیجا خدا نے اسکو سب سے پہلے تمہارے پاس بھیجا۔ تمہارے پاس تم پر فضل کر نے کے لئے بھیجا تاکہ تم بدی کی راہ چھوڑ کرپلٹ آؤ۔”

4

پطرس اور یوحنّا یہودی مجلس کے رو برو

1 جب پطرس اور یوحنا لوگوں سے باتیں کر رہے تھے تب کچھ لوگ ان کے پاس آئے ان میں کچھ یہودی کاہن اور جن میں ہیکل کے سردار بھی تھے جن میں ہیکل کے حفاظتی دستہ کا کپتان اور تھوڑے صدوقی بھی تھے۔ 2 وہ غصّہ میں تھے کیونکہ پطرس اور یوحنا یہ تعلیم دے رہے تھے کہ لو گوں کو موت کے بعد اٹھایا جائے گا اور وہ دو رسولوں کو مر کر زندہ ہو نے کی بات یسوع کی مثال دے کر کہہ رہے تھے۔ 3 انہوں پطرس اور یوحنا کو پکڑ کر حوالات میں رکھا یہ رات کا وقت تھا اور انہوں نے پطرس اور یوحنا کو دوسرے دن صبح تک حوالات میں بند رکھا۔ 4 کئی لوگ پطرس اور یوحنا کی تعلیمات سنیں ایمان لائے اہل ایمان کے گروہ میں ان کی تعداد تقریباً پانچ ہزار تک بڑھ گئی۔

5 دوسرے دن یہودی قائد اور انکے قدیم یہودی رہنما اور شریعت کے معلمین یروشلم میں جمع ہو ئے۔ 6 حنّا (اعلٰی کاہن)، کائفا ،یوحنّااور سکندر بھی موجود تھے جو اعلٰی کاہن کی خدمت انجام دیا کرتے تھے۔ 7 پطرس اور یوحنا کو ان کے سامنے لے آئے اور یہودی قائدین نے ان سے کئی بار پو چھا، “تم نے لنگڑے معذور آدمی کو کس طرح اچھا اور تندرست کیا ؟ تم نے کونسی طاقت استعمال کی ؟کس اختیار کے تحت کیا؟”

8 تب اسی وقت پطرس روح القدس سے معمور ہوا اور اس نے کہا، “اے لوگوں کے قائدو!اور اے بزرگ قائدو! 9 کیا تم اس بھلائی کے متعلق سوال کر رہے ہو جو اس لنگڑے معذور کے ساتھ آج کی گئی ؟کیا تم ہم سے پوچھ رہے ہو کہ کس چیز نے اسے اچھا کر دیا ؟ 10 ہم چاہتے ہیں کہ تم سب یہودی یہ جان لو کہ ناصری یسوع مسیح کی طا قت سے یہ شخص تندرست ہوا ہے۔تم نے اس یسوع کو مار ڈالا اور مصلوب کیا لیکن خدا نے اسے موت سے پھر اٹھا یا اور یہ آدمی جو لنگڑا معذور تھا اب دوبارہ چلنے کے قابل ہو گیا محض اسی یسوع کی قوّت کی وجہ سے ہوا ہے۔ 11 یسوع وہی پتھّر ہے

جسے معماروں نے کو ئی اہمیت نہ دی،

لیکن وہی پتھّر کو نے پتھّر ہو گیا۔ زبور۱۱۸‏:۲۲

12 صرف یسوع ہی لوگوں کو بچا سکتا ہے دنیا میں صرف اسی کا نام نجات کے لئے کافی ہے۔ہم یسوع کے ذریعے ہی نجات پا سکتے ہیں۔”

13 یہودی سردار یہ جان کر کہ پطرس اور یوحنا کو ئی تعلیم یافتہ اور مذہبی تربیت یافتہ نہیں ہیں وہ حیران ہو ئے۔اور یہ کہ پطرس اور یو حنا بلا کسی خوف و جھجھک کے باتیں کر تےہیں تب وہ سمجھے کہ پطرس اور یوحنا یسوع کے ساتھ تھے۔ 14 انہوں نے دیکھا کہ لنگڑا شحص جو معذور تھا۔ان کے قریب تندرست کھڑا تھا اس لئے انہوں نے رسولوں کے جواب میں کچھ نہ کہا۔

15 انہوں نے انہیں اس مجلس سے باہر جا نے کا حکم دیا اور پھر آپس میں ایک دوسرے سے مشورہ کر نے لگے کہ انہیں کیا کر نا چاہئے۔ 16 انہوں نے کہا، “ہم ان آدمیوں کے ساتھ کیا کریں ؟ہر ایک جو یروشلم میں ہے وہ اچھی طرح واقف ہے کہ انہوں نے ایک عظیم معجزہ دکھایا ہے در حقیقت ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ 17 لیکن ہمیں چاہئے کہ انہیں دھمکائیں اور کہیں کہ وہ لوگوں سے مزید مسیح کی بات نہ کریں ور نہ اور بھی زیادہ یہ مسئلہ لوگوں میں پھیل جائیگا۔”

18 یہودی قائدین نے پطرس اور یوحنا کو بلاکر تاکید کی کہ وہ لوگوں کو یسوع کا نام لیکر کسی قسم کی تعلیمات کی بات نہ کریں۔ 19 لیکن پطرس اور یوحنا نے انکو جواب دیا، “تم یہ فیصلہ کرو کہ خدا کی نظر میں کیا صحیح ہے، کہ ہم تمہاری اطاعت کریں یا خدا کی اطاعت کریں ؟ 20 ہم خاموش نہیں رہ سکتے ہم نے جو دیکھا اور سنا اسے لوگوں سے کہیں گے۔”

21‏-22 وہ انہیں سزا دینے کا کو ئی جواز نہ پا سکے کیوں کہ معجزہ جو واقع ہوا اسے دیکھ کر لوگ خدا کی بڑا ئی بیان کر رہے تھے اور جو آدمی اچھا ہوا وہ چالیس سال سے زیا دہ کا تھا اس لئے یہودی قائدین نے انہیں ایک بار پھر دھمکا کر اور تاکید کر کے چھوڑ دیا۔

پطرس اور یوحنا کا اہل ایمان کی طرف واپس ہو نا

23 پطرس اور یوحنا یہودی قائدین کی مجلس سے باہر نکل آئے اور اپنے گروہ سے جا ملے پرا نے یہودی کاہن اور بزرگ یہودی سرداروں نے جو کچھ ان سے کہا تھا وہ سب کچھ ان سے کہدیا۔ 24 جب انکے گروہ نے یہ سنکر ایک ساتھ خدا کی حمد کی اور کہا، “خداوند تو ہی ہے جس نے آسمان زمینوں اور سمندر کو اور دنیا کی ہر چیز کو پیدا کیا۔ 25 ہمارے آبا ؤ اجداد بھی تمہارے خادم تھے اور روح القدس کی مدد سے انہوں نے یہ الفاظ لکھے:

قومیں کیوں چیخ اور چلّا رہی ہیں،

دنیا کے لوگ خدا کے خلاف کیوں منصوبے باندھ رہے ہیں، جو بے فائدہ ہے۔

26 زمین کے بادشاہوں نے اپنے آپ کو لڑا ئی کے لئے تیار کیا

اور تمام حکام، خداوند اور اسکے مسیح کے خلاف ملکر اکٹھا ہو نے لگے۔ زبور۲‏:۱۔۲

27 حقیقت میں یہ واقعہ اس وقت ہوا جب ہیرودیس ، پنطیس، پیلاطیس، دیگر قومیں اور یہودی لوگ ایک ساتھ ملکر یسوع کے خلاف یروشلم میں جمع ہو ئے۔ یسوع ہی تمہا را خاص خادم ہے یہ وہی ہے جسے خدا نے مسیح کے طور پر چنا ہے۔ 28 یہ لوگ جو یہاں یسوع کے خلاف اکٹھے ہو ئے ہیں تمہارے منصبوبہ کے مطابق اور تمہاری قوت اور منشا سے سارے کام کر نے کے لئے جمع ہو ئے ہیں۔ 29 انہیں خداوند سنتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں وہ ہمیں ڈرانا چاہتے ہیں۔اے خداوند ہم سب تیرے خادم ہیں اسلئے ہماری مدد کر تا کہ ہم تیرے کلام کو جرات ہمّت کے ساتھ کہہ سکیں۔ 30 ہمیں ہمت دے تا کہ ہم تیری قوت کا اظہار کرسکیں۔ اور بیمار کو تندرست کر سکیں۔ ثبوت دکھا کر انہیں معجزہ فراہم کریں اور یہ سب مقدس خادم یسوع کی طاقت کے بل بوتے پر ہوں۔”

31 جب وہ دعا ختم کر چکے تو وہ جگہ جہاں وہ جمع تھے دہل گئی اور وہ سب روح القدس سے معمور ہو گئے اور وہ خدا کے پیغام کو بغیر کسی خوف کے دلیری سے جاری رکھا۔

اہل ایمان کا حصّہ

32 اہل ایمان کا گروہ ایک دل اور ایک روح رکھتا تھا اور کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ ملکیت انکی ہے۔ بلکہ ہر چیز کا ایک دوسرے سے اشتراک کیا۔ 33 مسیح کے رسولوں نے بڑی قوت سے خداوند یسوع کے دوبارہ جی اٹھنے کی گواہی دی ا ور خدا کا بہت بڑا فضل ا ن تما م لوگوں پر تھا۔ 34 اور وہ تمام حاصل کیا جن کی انکو ضرورت تھی۔کیوں کہ جس کسی کے پاس زمینات یا مکانات تھے وہ فروخت کر دیتے اور انکی قیمت لاکر رسولوں اور مریدوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ 35 اس طرح ہر ایک رسول کو اسکی ضرورت کے مطابق دیا گیا۔

36 ایک شخص جس کا نام یوسف اور رسولوں میں اسکو برنباس یعنی “دوسروں کی مدد کر نے والا رکھا۔” وہ لاوی تھا اور وہ کپرس میں پیدا ہوا تھا۔ 37 یوسف کا ایک کھیت تھا اس نے اسکو فروخت کیا اور رقم لاکر مسیح کے رسولوں کو دیدی

5

حننیاہ اور صفیرہ

1 حننیاہ نامی ایک شخص تھا۔حننیاہ کی ایک بیوی تھی جس کا نام صفیرہ تھا۔ اس نے زمین کا کچھ حصہ فروخت کردیا۔ 2 لیکن اپنی زمین فروخت کر نے کے بعد رقم کا ایک حصہ رسولوں کو پیش کیا اور ایک حصہ بیوی کی مرضی سے اپنے لئے رکھ لیا۔

3 پطرس نے کہا، “حننیا ہ کیا شیطان نے تیرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ روح القدس سے جھوٹ بولے اور زمین کی قیمت میں سے کچھ اپنے لئے رکھ چھوڑے۔؟ 4 فروخت کر نے سے پہلے اس پر تمہا را حق تھا اور بعد اس کے بھی تم رقم کو اپنی مرضی کی مطا بق رکھ سکتے تھے پھر یہ شیطا نی خیال کیسے آیا ؟ دل میں کس طرح آیا۔ تم نے انسان سے نہیں خدا سے جھوٹ کہا۔

5‏-6 جب حننیاہ نے یہ سنا تو وہ گرا اور مر گیا کچھ نو جوانوں نے آکر اس کے جنازہ کو لپیٹ کر دفن کیا۔ اور جس کسی نے بھی یہ واقعہ سنا تو سن کر خوفزدہ ہو گیا۔ 7 تین گھنٹے کے بعداس کی بیوی صفیرہ اندر آئی اس کو تمام واقعات معلوم نہیں تھے جو اس کے شوہر کے ساتھ پیش آئے تھے۔ 8 پطرس نے اس سے کہا، “تمہیں کتنی رقم زمین کے فروخت کرنے پر ملی تھی کیا رقم اتنی ہی تھی جتنی کہ حننیاہ نے بتا ئی تھی؟”صفیرہ نے جواب دیا ، “ہاں اتنی ہی رقم ملی تھی۔”

9 پطرس نے کہا، “تم اور تمہا رے شوہر نے کیوں خداوند کی روح کو جانچنے کا فیصلہ کیا؟ سنو!”کیا تم پیروں کی آہٹ سنتی ہو وہ آدمی جس نے تمہا رے شوہر کو دفنایا وہ دروازے پر ہے۔ اور وہ تمہیں بھی لے جا ئیں گے۔” 10 دوسری صبح صفیرہ اس کے پیروں پر گری اور مر گئی نو جوان نے اندر آکر دیکھا تو وہ مر چکی تھی چنانچہ با ہر لے جا کر اس کے شوہر کے پاس دفن کر دیا۔ 11 تمام اہلِ ایمان اور وہ لوگ جنہوں نے یہ واقعہ دیکھا اور سنا تو یہ سن کر خوفزدہ ہو گئے۔

خدا کی طرف سے ثبوت

12 رسولو ں نے بہت سے معجزے دکھا ئے اور کئی عجیب چیزیں بھی ظاہر کیں تمام لوگو ں نے ان چیزوں کو دیکھا۔ تمام رسول ایک ساتھ سلیمان کے بر آمدہ میں جمع ہوئے۔ ان تمام کا ایک ہی مقصد تھا۔ 13 لیکن ان لوگوں میں سے کسی کو جرأت نہیں ہوئی کہ ان میں جا ملے ، اور تمام لوگ مسیح کے رسولوں کے متعلق اچھے خیالات بیان کرے۔ 14 زیادہ سے زیادہ لوگ جن میں مرد اود عورتیں بھی ہیں خداوند پر ایمان لا ئے۔ 15 پس لوگ اپنے بیماروں کو سڑکوں پر لے آئے، کیوں کہ وہ سن چکے تھے کہ پطرس وہاں آرہا ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنے بیمار لوگوں کو چار پائیوں اور پلنگوں پر لا ئے اس خیال سے کہ کم ازکم اس کا سا یہ ہی پڑنے سے وہ لوگ تندرست ہو جا ئیں گے۔ 16 جو لوگ یروشلم کے اطراف گاؤں سے آکر جمع تھے، اور اپنے ساتھ بیماروں اور نا پاک روحوں کے ستا ئے ہو ئے لوگوں کو لا ئے تھے اور یہ تمام لوگ شفا یاب ہو گئے۔

یہودی رہنماؤں کا رسولوں کو روکنے کی کوشش کر نا

17 اعلیٰ کا ہن اور اس کے دوستوں کا گروہ جن کا تعلق صدوقیوں سے تھا ان سے حسد کر نے لگے تھے۔ 18 انہوں نے مسیح کے رسولوں کو گرفتار کر کے حوا لات میں بند کردیا۔ 19 لیکن رات کے وقت خداوند کے فرشتے نے جیل کے دروازے کو کھولا اور انہیں باہر لا کر کہا،۔ 20 “جاؤ اور ہیکل میں کھڑے ہو کر تمام لوگوں کو اس یسوع کی نئی زندگی کے متعلق بتا ؤ۔” 21 جب رسولوں نے یہ سنا تو انہوں نے حکم کی تعمیل کی اور ہیکل کو گئے یہ پہلی صبح کا وقت تھا۔ رسولوں نے تعلیم دینی شروع کی۔

اعلیٰ کاہن اور ان کے دوستوں کے گروہ نے یہودی قائدین کی اور اہم یہودی بزرگوں کی مجلس طلب کی۔ 22 انہوں نے چند لوگوں کو جیل بھیجا تا کہ وہ مسیح کے رسولوں کو لا ئیں۔ وہ لوگ جیل گئے۔ لیکن انہوں نے وہاں رسولوں کو نہیں پا یا اور وہ واپس آئے، آکر یہودی قائدین سے اس واقعہ کی اطلاع دی۔ 23 انہوں نے کہا، “جیل بند اور اس میں تالا لگا ہوا تھا اور نگراں کار سپا ہی بھی دروازوں پر تھے۔ لیکن جب ہم نے جیل کا دروازہ کھو لا تو ہم نے دیکھا کہ وہاں کو ئی نہ تھا۔” 24 ہیکل کے کپتان اور دوسرے کاہنوں کے رہنما نے یہ سنا تو حیران ہو ئے اور سوچنے لگے کہ“اس کاانجام کیا ہوگا ؟”

25 تب دوسرا شخص آیا۔اور ان سے کہا، “سنو! جن لوگوں کو تم نے جیل میں رکھا تھا وہ ہیکل کے آنگن میں کھڑے ہیں اور لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔” 26 تب کپتان اور پہرے دار ہیکل گئے اور رسولوں کو لے آئے۔ لیکن انہوں نے طاقت کا استعمال نہیں کیا کیوں کہ وہ لوگوں سے ڈرے ہو ئے تھے اس خیال سے کہ کہیں لوگ غصّہ میں آکر انہیں سنگسار نہ کر دیں۔

27 سپاہی رسولوں کو مجلس میں لے آئے اور انہیں یہودی قائدین کے سامنے کھڑا کر دیا۔ اعلیٰ کاہن نے رسولوں سے سوال کیا۔ 28 “ہم نے تم سے کہا تھا کہ اس آدمی کے متعلق سے تعلیم نہ دینا لیکن تم نے سارے یروشلم میں اپنی تعلیم پھیلا دی اس طرح تم اس شخص کی موت کی ذمّہ داری ہماری گردن پر رکھنا چاہتے ہو۔”

29 پطرس اور دوسرے رسولوں نے جواب دیا، “ہمیں خدا کا حکم ماننا ہے تمہارا نہیں۔ 30 تم نے یسوع کو صلیب پر لٹکا کر مار ڈالا ، لیکن خدا جو ہمارے آباؤ اجداد کا خدا ہے یسوع کو موت سے اٹھا لیا ہے۔ 31 یسوع کو خدا نے داہنی جانب سے بلند کیا اور اسکو خدا وند اور نجات دہندہ بنایا۔ یہ اس لئے کیا تاکہ تمام یہودی اپنے دلوں کو اور زندگیوں کو بدلیں تب خداوند انکے گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔ 32 ہم نے یہ سب کچھ دیکھا اسلئے ہم کہتے ہیں، “یہ سب کچھ سچ ہے۔روح القدس بھی اور سب چیزیں سچ ہیں۔خدا نے ان سب لوگوں کو جو اسکی اطا عت کر تے ہیں روح دی ہے۔”

33 جب یہودی قائدین نے یہ ساری باتیں سنیں تو غصہ میں آگئے اور رسولوں کو قتل کر نا چاہا۔ 34 ایک فریسی جس کا نام گیملی ایل جو شریعت کا استاد تھا۔سب لوگ اسکی عزت کر تے تھے اس نے کہا کہ مسیح کے رسولوں کو چند منٹ کے لئے اجلاس سے باہر بھیج دیا جائے۔ 35 اور پھر ان سے کہا، “اے بنی اسرائیلیو خبردار رہو تم ان لوگوں کے ساتھ جو کر نا چاہتے ہو ہوشیاری سے کرو۔ 36 یادکرو جب تھیوداس ظاہر ہوا تھا۔اس نے کہا تھا کہ میں ایک اہم شخص ہوں تو تقریباً ۴۰۰ آدمی اسکے ساتھ ہو گئے۔لیکن وہ مارا گیا اور اسکے لوگ سب پراگندہ ہو گئے۔اور تمام چیزیں بغیر فائدہ کے ختم ہو گئیں۔ 37 اس کے بعد ایک آدمی یہودا گلیل سے مردم شماری کے وقت آیا تھا۔اس نے بھی کچھ لوگوں کو اپنی طرف راغب کر لیاتھا۔وہ بھی مارا گیا اور جتنے اسکے ماننے والے تھے سب پراگندہ ہو گئے۔اور بھاگ گئے 38 میں تم سے کہتا ہوں ان آدمیوں سے دور رہو انہیں تنہا چھوڑ دو اگر یہ لوگوں کا منصوبہ ہے تو یہ ناکام ہوگا۔ 39 لیکن اگر یہ خدا کی طرف سے ہے تو تم انہیں روک نہیں سکو گے اور تم بھی شاید خدا سے لڑنے والوں میں شمار کئے جاؤ گے۔”

یہودی قائدین نے گیملی ایل کی بات سے اتفاق کر لیا۔ 40 انہوں نے رسولوں کو دوبارہ بلایا اور انکو پٹوایا اور حکم دے کر چھوڑ دیا، “وہ دوبارہ یسوع کے متعلق کچھ نہ کہا، “تب انہوں نے رسولوں کو آزاد کیا۔ 41 مسیح کے رسولوں نے وہاں مجلس کو چھو ڑا۔وہ خوش ہو ئے کیوں کہ یسوع کے نام کی خاطر بے عزت ضرور ٹھہرے۔ 42 اور ہر روز وہ مسلسل لوگوں کو تعلیم دیتے رہے گھروں میں اور ہیکل میں اور خوشخبری کہتے تھے کہ یسوع ہی مسیح ہے۔

6

مخصوص کام کے لئے سات آدمیوں کا انتخاب

1 یسوع کے ماننے والے کئی لوگ شامل ہو تے گئے تو یونانی مائل یہودی عبرانیوں کی شکایت کر نے لگے وہ کہتے تھے کہ انکی بیویاں برابر کا حصّہ جو ہر روز تقسیم ہو تا تھا نہیں پاتی تھیں۔ 2 مسیح کے بارہ رسولوں نے تمام اہل ایمان کو بلاکر کہا،

“یہ صحیح نہیں ہے کہ خدا کے پیغام کی تعلیم کو روک دو جو ہمارا کام ہے۔ہمارے لئے یہی بہتر ہو گا کہ غذا کی تقسیم میں مدد کر نے کی بجائے ہم خدا کی تعلیمات کو جاری رکھیں۔ 3 پس اے میرے بھائیو! اپنے میں سے کسی سات آدمیوں کو چن لو ، جو روحانی طور سے کامل اور عقلمند بھی ہو ں۔ہم یہ کام انکے حوالے کر دیں گے۔ 4 تا کہ اپنے کام میں دل جوئی سے وقت دیں: دعا اور خدا کے کلام کی تعلیم دے سکیں۔”

5 تمام گروہ نے اس منصوبہ کو پسند کیا اور یہ سات افراد چنے گئے جو یہ ہیں:اسٹیفن (جو روح القدس اور بہتر عقیدہ کا مالک فلکیہ کا رہنے والا )، لوگپ، پروکورس،نکاتور،تائمون،پرمناس اور نیکلاؤس(جو انطاکیہ کا نو مرید یہو دی تھا)- 6 ان لوگوں نے ان آدمیوں کو رسولوں کے سامنے لائے۔ رسولوں نے انکے لئے دعا کی اور اپنا ہاتھ ان پر رکھا۔

7 خدا کا کلام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا شروع ہو گیا ،یروشلم میں اہل ایمان کا گروہ زیادہ سے زیادہ بڑھتا گیا حتیٰ کہ یہودی کاہنوں کی بڑی کلیساء ا س دین کی تابع ہو گئی۔

یہودی کا اسٹیفن کے خلاف کرنا

8 اسٹیفن جو فضل اور قوّت سے معمور تھا خدا نے اسکو معجزہ دکھا نے کی اور لوگوں کو نشانیاں دکھا نے کی صلاحیت دی تھی۔ 9 چند یہودی جن کا تعلق یہودیوں کے کسی ایک یہودی ہیکل سے تھا اسٹیفن کے پاس آکر لڑنے لگے جو لبرتینوں کا ہیکل کہلاتا تھا یہ ہیکل کرینیوں کے یہودیوں کا بھی تھا اور اسکندریہ کے رہنے والے یہودیوں کا بھی سلیسیاہ اور ایشیاء کے یہودی بھی ان میں تھے۔ یہ تمام آئے اور اسٹیفن سے بحث کر نے لگے۔ 10 لیکن روح اسٹیفن کی مدد کررہی تھی اور وہ دانائی کی بات کر رہا تھا۔ اسکے الفاظ اتنے طاقتور اور جامع تھے کہ یہودی اسکا مقابلہ نہ کر سکے۔

11 وہ یہودی چند آدمیوں کو لائے جنہوں نے کہا، “ہم نے سنا ہے کہ اسٹیفن لوگوں سے موسٰی اور خدا کے خلاف بری باتیں کہتا ہے۔” 12 ان یہودیوں نے لوگوں کو مشتعل کرنا شروع کردیا اور ساتھ ہی عمر رسیدہ یہودی قائدین اور شریعت کے معلّمین کو بھی اور وہ سب اسٹیفن کے پاس گئے اس کو پکڑا یہودی قائدین کے اجلاس میں پیش کیا۔

13 یہودیوں چند لوگوں کو اس مجلس میں اسٹیفن کے خلاف جھوٹ بولنے کے لئے لا ئے ان لوگوں نے کہا، “یہ آدمی مقدس مقامات کے لئے نہ صرف بری باتیں کہتا ہے بلکہ موسٰی کی شریعت کے خلاف بھی کہتا ہے اور یہ باز نہیں آتا۔ 14 ہم نے اس کو یہ کہتے سنا ہے کہ یسوع ناصری اس مقام کو برباد کریگا۔اور ان رسموں کو بدل ڈالیگا جو موسٰی نے ہمیں سونپی ہیں۔” 15 تمام لوگ جو اجلاس میں تھے بغور اسٹیفن کو دیکھ رہے تھے اور انہوں نے دیکھا اس وقت اسکا چہرہ کسی فرشتے کے مماثل تھا۔

7

اسٹیفن کی تقریر

1 اعلیٰ کاہن نے اسٹیفن سے پوچھا، “کیا یہ سب چیزیں سچ ہیں ؟” 2 اسٹیفن نے جواب دیا، “میرے یہودی باپ اور بھائیو غور سے سنو! “خدا ذوالجلال ہمارے باپ ابراہیم پر اس وقت ظا ہر ہوا جب کہ وہ مسوپتامیہ میں تھے یہ ان کے حاران میں رہنے سے پہلے کی بات ہے۔ 3 خدا نے ابراہیم سے کہا، “تم اپنے ملک اور لوگوں کو چھوڑو اور ایسے ملک کو چلے جاؤ جو میں تمہیں بتاؤنگا۔+ 7‏:3 اِقتِباس پیدائش ۱‏:۱۲*

4 اس لئے ابراہیم نے کلدیہ کو چھوڑا اور حاران میں جا بسا اور وہاں اسکے باپ کے مرنے کے بعد خدا نے اسکو اس ملک میں لا کر بسا دیا جہاں اب تم رہتے ہو۔ 5 لیکن خدا نے اسکو یہاں کی زمین کی کوئی میراث نہیں دی حتٰی کہ ایک فٹ زمین بھی نہیں دی لیکن خدا نے ابراہیم سے وعدہ کیا کہ آئندہ اسکو اور اسکے بچوں کو یہ زمین دیگا۔اس وقت ابراہیم کے کوئی اولاد نہیں تھی۔

6 اور یہی خدا نے ابراہیم سے کہا تھا، “تمہاری نسل دوسرے ملک میں اجنبی کی طرح رہے گی اور وہاں کے لوگ انکو غلا می میں رکھیں گے اور ان سے چار سو سال تک برا سلوک کریں گے۔” 7 لیکن میں اس قوم کے لوگوں کو سزا دونگا جنہوں نے انہیں غلام بنایا+ 7‏:7 اِقتِباس پیدائش ۱۴‏-۱۳‏:۱۵* اور خدا نے یہ بھی کہا اس کے بعد تمہاری نسل وہاں سے چلی آئیگی اور اسی جگہ میری عبادت کریگی۔+ 7‏:7 اِقتِباس پیدائش ۱۴‏:۱۵، خر وج ۱۲‏:۳*

8 خدا نے ابراہیم سے ایک عہد لیا اور اس عہد کی نشا نی تھی ختنہ اور جب ابراہیم کا بیٹا ہوا تو اس نے اس کی پیدا ئش کے آٹھویں دن ختنہ کر وا یا یہ لڑکا اسحاق کہلا یا اسحاق نے بھی اپنے بارہ لڑ کوں کا ختنہ کر وایا۔ جو بعد میں بارہ قبیلوں کے بزرگ پیدا ہو ئے۔

9 “یہ بزرگ باپ اپنے بھا ئی یوسف سے حسد کر تے تھے۔ انہوں نے یوسف کو بطور غلام بنا کر مصر میں فروخت کر دیا لیکن خدا یوسف کے ساتھ تھا۔ 10 یوسف نے کئی تکا لیف کا سامنا کیا لیکن خدا نے اس کو ان تمام تکا لیف سے بچایا، فرعون جو مصر کا بادشا ہ تھا یوسف کو چاہتا تھا اور اس نے یوسف کو مقبولیت دی یہ مقبولیت اس کی دانائی کی بنا ء پر جو خدا نے یوسف کو عطا کی تھی۔ فرعون نے یوسف کو مصر کا سردار بنایا اور یوسف کو فرعون کے محل کا حاکم بھی۔ 11 مصر اور کنعان میں ز بردست قحط پڑا جس کی وجہ سے بڑی مصیبت آئی اور ہمارے آباؤ اجداد کو کھانے کے لئے کچھ نہیں ملا تھا۔

12 لیکن یعقوب نے سنا کہ مصر میں اناج جمع ہے تو اس نے اپنے بز رگ آباؤ اجداد کو روا نہ کیا یہ مصر کے لئے پہلا سفر تھا۔ 13 پھر اس کے بعد انہوں نے دوبارہ سفر کیا اس مرتبہ یوسف نے اپنے بھا ئیوں کو بتا یا کہ وہ کو ن ہے ؟ اور فرعون اس طرح یوسف کے خاندان سے واقف ہوا۔ 14 تب یوسف نے چند آدمیوں کو اپنے باپ یعقوب کو مصر کو بلا نے کے لئے بھیجا اور ساتھ ہی اپنے تمام رشتہ داروں کو بھی جو تقریباً۷۵ کی تعداد میں تھے۔ 15 یعقوب مصر کو گئے اور یعقوب اور اس کے باپ دا دا مصر میں ان کے مر نے تک رہے۔ 16 بعد میں ان نعشوں کو سکم میں منتقل کیا گیا اور اس جگہ دفن کئے گئے جسے ابراہیم نے چاندی دے کر ہمور کے بیٹوں سے خرید لیا تھا۔

17 “جب مصر میں اسرائیلیوں کی تعداد بڑھ گئی اور ان کی آبا دی بڑھی اس طرح خدا نے ابراہیم سے جو وعدہ کیا تھا اس کے پورے ہو نے کا وقت قریب آرہا تھا۔ 18 تب ایک دوسرا بادشاہ مصر پر حکومت کر نا شروع کر دیا اس کو یوسف کے متعلق کچھ معلوم نہ تھا۔ وہ یوسف کو نہ جانتا تھا۔ 19 اس بادشاہ نے ہما رے آباؤاجداد سے ایسی بد سلو کی کی کہ اس نے ان پر زبر دستی کی ان کے بچوں کو باہر مر نے کے لئے چھو ڑدیا۔

20 ایسے موقع پر موسیٰ پیدا ہوا جو بہت خوبصورت لڑکا اور خدا کو پیارا تھا۔ وہ تین مہینے تک اپنے باپ کے گھر میں پلتا رہا۔ 21 جب انہیں بھی باہر پھینک دیا گیا تو فرعون کی بیٹی نے انہیں لیا اور اس لڑکے کی اس طرح پرورش کی جیسے وہ اس کا اپنا لڑکا ہو۔ 22 موسیٰ نے مصریوں کے تمام علوم کی تعلیم پائی وہ بہت زیادہ ذہین اور قادرالکلام تھا۔

23 “جب موسیٰ تقریباً چا لیس سال کے ہو ئے تو اسکے دل میں یہ خیال آیا کہ اپنے ہم وطن اسرائیلی بھائیوں سے ملے۔ 24 موسیٰ نے دیکھا کہ ایک مصری ایک اسرائیلی سے بد سلوکی کررہا ہے۔ اور موسٰی نے اسرائیلی کی طرف داری کی اور موسٰی نے اس مصری کو اسرائیلی کو ستانے پر سزا دی اور اس طرح مارا کہ وہ مر گیا۔ 25 موسٰی نے محسوس کیا کہ اسرائیلی برادری یہ سمجھیں گے کہ خدا انکو بچانے کے لئے اسکو استعمال کر رہا ہے لیکن وہ لوگ نہیں سمجھے۔

26 دوسرے دن موسٰی نے دیکھا کہ دو اسرائیلی لڑ رہے ہیں اور موسٰی نے دونوں میں سلامتی و مصالحت کی یہ کہتے ہو ئے کو شش کی کہ تم دونوں آپس میں بھا ئی ہو پھر کیوں ایک دوسرے پر ظلم کر تے ہو۔ 27 ان میں سے ایک جو غلطی پر تھا موسٰی کو ڈھکیل دیا اور موسٰی سے کہا! کیا کسی نے تم کو ہمارے درمیان منصف یا بادشاہ حکمران مقرر کیا ہے۔؟ 28 کیا تم مجھے مارنا چاہتے ہو جس طرح تم کل اس مصری کو ماردیا تھا؟+ 7‏:28 اِقتِباس خروج ۱۴‏:۲*29 جب موسٰی نے اس آدمی کو اس طرح کہتے سنا تو وہ مصر چھوڑ دیا اور مدیان میں رہنے چلے گئے۔ وہ مدیان میں ایک اجنبی کی مانند تھا مدیان میں رہنے کے دوران موسٰی کے دو لڑکے ہوئے۔

30 “چالیس سال تک موسٰی کوہ سینا کی ریگستان میں تھے تب اسکے سامنے ایک فرشتہ شعلہ پوش جھا ڑی میں ظا ہر ہوا۔ 31 موسٰی دیکھ کر بہت حیرت زدہ تھا وہ دیکھنے کو قریب ہوا تو ایک آواز سنی جو خداوند کی آواز تھی۔ 32 خداوند نے کہا، “میں تمہارے آباؤ اجداد کا خدا ابراہیم کا خدا، اسحٰق کا خدا، اور یعقوب کا خدا ہوں”+ 7‏:32 اِقتِباس خروج ۶‏:۳* اور موسٰی ڈر سے کانپنے لگا۔ وہ جھا ڑی کی طرف دیکھتے ہو ئے بھی خوفزدہ تھا۔

33 تب خداوند نے ان سے کہا، “ا پنے پیر سے جوتے نکال دو کیوں کہ یہ جگہ جہاں تم کھڑے ہو مقدس ہے۔ 34 میں دیکھ چکا ہوں کہ میرے لوگ مصر میں مصیبت زدہ ہیں اور انہیں دکھ سے کراہتے سنا ہے میں انہیں بچانے آیا ہوں۔موسٰی!آؤ میں تمہیں مصر واپس بھیجونگا۔+ 7‏:34 اِقتِباس خروج ۱۰‏-۵‏:۳*

35 موسٰی وہی آدمی ہے جنہیں اسرائیلیوں نے ردّ کیا تھا ان الفاظ سے کہ “کس نے تمہیں ہمارا منصف اور حکمران بنایا۔”+ 7‏:35 اِقتِباس خروج ۱۴‏:۲* ہاں موسٰی ہی وہ آدمی تھا جسے خدا نے حاکم اور نجات دہندہ بنا کر بھیجا تھا خدا نے موسٰی کو فرشتہ کی مدد سے بھیجا تھا۔ وہ فرشتہ شعلہ پوش جھاڑیوں میں انکے لئے ظا ہر ہوا تھا۔ 36 یہی شخص موسٰی کہلایا اور لوگوں کو مصر کے باہر لے گیا اس نے طاقتور چیزیں اور معجزے دکھلائے اور موسٰی نے یہ سب چیزیں مصر میں بحر قلزم کے پاس کیں اور چالیس سال تک صحرا میں بھی رہا۔

37 یہ وہی موسٰی ہے جس نے اسرائیلیوں سے کہا تھا کہ خدا تمہارے لئے ایک نبی بھیجے گا جو مجھ جیسا اور تم میں سے ہی ہو گا۔+ 7‏:37 اِقتِباس استثناء ۱۵‏:۱۸*38 یہ وہی موسٰی ہے جو آدمیوں کے ساتھ بیابان میں تھا اور وہ اس فرشتہ کے ساتھ تھا جس نے کوہ سینا پر اس سے کلام کیا اور ہمارے باپ دادا کے ساتھ تھا۔ موسٰی کو خدا کی طرف سے احکام ملے اور اسنے ہم تک پہنچا ئے۔

39 “لیکن ہمارے باپ دادا نے موسٰی کا کہنا نہیں مانا اور اسکا انکار کردیا اور انکو دوبارہ مصر چلے جانے کے لئے کہا۔ 40 ہمارے باپ دادا نے ہارون سے کہا، ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ موسٰی کا جو ہمیں مصر سے باہر نکال لا یا ہے، کیا ہوا۔اس لئے کوئی ایسا خدا بنایا جائے جو ہماری رہنمائی کرے+ 7‏:40 اِقتِباس خروج ۱‏:۳۲*41 لوگوں نے ایک بچھڑے کا بت بنایا اور اس بت کی قربانی پیش کی۔اور لوگ اسکی تقاریب منانے میں خوش تھے- جو خود انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا 42 خدا نے انکی طرف سے منھ پھیر لیا اور انہیں اجرام فلکی ( جھوٹے خداؤں ) کی عبادت کر نے سے نہ رو کا- یہ نبیوں کی کتاب میں لکھا ہے:

خدا کہتا ہے، اے اسرائیل کے گھرا نے! کیا تم نے بیابان میں چالیس برس مجھکو ذبیحے اور قربانیاں پیش کی؟

43 اور تم اپنے ساتھ مولک خیمہ کو لئے پھر تے تھے

اور رفان دیوتا کے تارے کو لئے پھرتے تھے۔

گویا تم ان بتوں کے لئے پھرتے تھے جنہیں تم نے عبادت کے لئے بنایا تھا۔

اس لئے تمہیں بابل سے دور نکالتا ہوں۔ عاموس۵‏:۲۵۔۷

44 “شہادت کا خیمہ بیابان میں ہمارے باپ دادا کے پاس تھا۔ خدا نے موسٰی سے کہا تھا کہ کس طرح خیمہ بنائے اور خدا کے بنائے ہو ئے طریقہ کے مطابق اس نے خیمہ بنایا۔ 45 بعد میں ہمارے ہمارے باپ دادا نے یشوع(جوشوا) کی قیادت میں دوسری قوموں کی زمینوں کو فتح کئے، خدا نے دوسری قوموں کو باہر کیا اور ہمارے آباؤاجداد زمین پر اسی خیمہ کے ساتھ داخل ہوئے جو انہوں نے اپنے آباؤ اجداد سے لیا تھا۔ انہوں نے اسکو ویسا ہی رکھا جو داؤد کے زمانہ تک رہا۔ 46 خدا داؤد سے بہت خوش تھا۔داؤد سے خدا نے کہا، “وہ یعقوب کے خدا کے لئے ایک مکان (ہیکل ) بنانے کی اجازت دے۔” 47 لیکن یہ سلیمان تھا جو خدا کے لئے ہیکل بنایا۔

48 لیکن خدائے تعالیٰ اس گھر میں نہیں رہتا جو انسان کے بنا ئے ہو ئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ نبی کہتا ہے۔

“خداوند فرماتا ہے

آسمان میرا تخت ہے۔

49 اور زمین میرے پیروں تلے کی چوکی ہے

اور تم کس قسم کا گھر میرے لئے بناؤ گے۔

ایسی کو ئی بھی جگہ نہیں جہاں میں آرام کر سکوں۔

50 یاد رکھو یہ سب چیزیں میری ہی بنائی ہو ئی ہیں۔” یسعیاہ۶۶‏:۱۔۲

51 تب اسٹیفن نے کہا، “اے یہوداہ تم ہر وقت روح القدس کی مخالفت کرتے ہو خدا کی نہیں سنتے۔ تم ہمیشہ روح القدس کے خلاف ہمارے آباؤ اجداد کی طرح کھڑے رہتے ہو۔ 52 تمہارے باپ دادا نے ہر نبی کو ستایا ان نبیوں نے کہا تھا کہ ایک پر ہیزگار آئیگا۔ تمہارے باپ دادا نے ان نبیوں کو قتل کیا اور اب تم پر ہیزگار کے خلاف ہو گئے اور اس کو قتل کردینا چاہتے ہو۔ 53 تم وہ لوگ ہو جو موسٰی کی شریعت کو پائے اور یہ قانون خدا نے اسکے فرشتوں کے ذریعہ دیا لیکن تم نے اسکی اطا عت نہیں کی۔”

اسٹیفن کی موت

54 یہودی قائدین نے اسٹیفن کو یہ کہتے سنا اور غصہ سے پاگل ہو گئے وہ غصہ میں اسٹیفن کے خلاف دانت پیسنے لگے۔ 55 لیکن اسٹیفن روح القدس سے معمور تھا اس نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں اس نے خدا کے جلال اور یسوع کو خدا کے داہنے طرف کھڑا دیکھا۔ 56 اسٹیفن نے کہا، “دیکھو! میں آسمان کو کھلا دیکھتا ہوں اور ابن آدم کو خدا کی داہنی جانب کھڑا دیکھتا ہوں۔”

57 یہودی قائدین بلند آواز سے چلا نا شروع کیا اور اپنے کانوں کو بند کر لیا سب کے سب مل کر اسٹیفن پر جھپٹ پڑے۔ 58 وہ اس کو شہر سے باہر لے آئے اور اس پر پتھر پھینکنا شروع کر دیا۔ وہ لوگ جو اسٹیفن کے خلا ف گوا ہ تھے، اپنے کپڑے اتار کر ساؤل نامی جوان کے پا ؤں کے پاس رکھ دئیے۔ 59 جیسے جیسے وہ اسٹیفن پر پتھر پھینکتے تھے وہ یہ دعا کرتا رہا کہ “اے یسوع میری روح کو لے لے۔” 60 وہ گھٹنوں کے بل گرا اور بلند آواز سے پکا را! “خداوند انکو اس گناہ کا ذمہ دار نہ بنا ۔” اتنا کہہ کر وہ مر گیا

8

1 ساؤل اسٹیفن کے قتل پر راضی تھا۔

ایمان والوں کے لئے تکلیف

2‏-3 چند نیک اور پر خلوص لوگوں نے اسٹیفن کی تجہیز و تدفین کی اور اسکی موت پر بہت ماتم کیا۔اس روز یروشلم میں یہودیوں نے اہل ایمان کے گروہ کو ستا نا شروع کیا اور ساؤل نے بھی ان کے گروہ کو تباہ کر نے کی کو شش شروع کی وہ ان کے گھر میں گھس کر مردوں اور عورتوں کو گھسیٹ لاتا اور قیدخانے میں ڈال دیتا۔سب اہل ایمان نے یروشلم کو چھوڑ دیا صرف وہاں مسیح کے رسول رہ گئے۔اہل ایمان چلے گئے اور دوسری جگہوں میں پھیل گئے جیسے یہودیہ اور سامریہ۔ 4 اہل ایمان ہر جگہ پھیل گئے اور وہاں جا کر وہ لوگوں کو کلام کی خوشخبری دینے لگے۔

فلپ کا سامریہ میں تبلیغ کرنا

5 فلپ سامریہ کے شہر میں گیا اور لوگوں میں مسیح کے متعلق تبلیغ شروع کر دی۔ 6 اور لوگوں نے اس کی تعلیمات کو سنا اور اس کے معجزوں کو دیکھا جو اس نے دکھایا انہوں نے بغور اس کی کہی باتوں کو سنا۔ 7 ان میں بہت سارے لوگوں کے اندر بد روحیں تھیں۔ لیکن فلپ نے ان بدرحوں کو انہیں چھو ڑ نے پر مجبور کیا اور نا پاک روحیں ان میں سے گرجدار آوازوں میں چلا کر باہر نکل گئیں۔ وہاں بہت سے مفلوج اور معذور لنگڑے لوگ بھی تھے فلپ نے ان لوگوں کو بھی اچھا کیا۔ 8 شہر کے لوگ اس کے کام سے بہت خوش تھے۔

9 فلپ کے آنے سے پہلے اس شہر میں سائمن نامی ایک شخص رہتا تھا۔ سائمن اپنے جادو کے بتو ں سے سامریہ کے لوگوں کو حیران کرتا تھا۔ سائمن اپنے آپ کی بڑائی کرتا اور دوسروں کے سامنے اپنی اہمیت جتا تا تھا۔ 10 تمام لوگ کم اہمیت اور زیادہ اہمیت کے اس کی پیرو ی کرتے تھے۔ اور کہتے کہ “اس آدمی کے پاس خدا کی قدرت ہے جسے بڑی طاقت کہتے ہیں۔” 11 سائمن لوگوں کو اپنے جادوئی کرتوتوں سے بڑی مدت تک متاثر کرتا رہا اور لوگ اس کی طرف متوجہ ہو تے گئے۔ 12 لیکن فلپ لوگوں کو خدا کی بادشاہت اور یسوع مسیح کی طا قت کے متعلق خوش خبری دیتا تھا۔ تو سب لوگ خواہ مرد ہو یا عورت دونوں ایمان لے آتے اور بپتسمہ لینے لگ جاتے۔ 13 شمعون بھی ایمان لا یا اور بپتسمہ لیا اور فلپ کے ساتھ رہنا شروع کیا تب وہ معجزے اور طاقتور چیزوں کو دیکھ کر حیران ہوا جو فلپ نے کئے تھے اور سائمن بہت حیران تھا۔

14 رسول یروشلم میں تھے انہیں کہ سامریہ کے لوگوں کے متعلق معلوم ہوا کہ انہوں نے خدا کے پیغام کو قبول کیا رسولوں نے پطرس اور یوحناّ کو سامریہ کے لوگوں کے پاس روا نہ کیا۔ 15 جب پطرس اور یوحناّ سامریہ پہونچے تو انہوں نے لوگوں کے لئے دعا کی کہ وہ روح القدس پا ئیں۔ 16 ان لوگوں نے خداوند یسوع کے نام پر بپتسمہ لیا تھا۔ لیکن وہ روالقدس اب تک کسی ایک پر بھی نازل نہ ہوا تھا اسی لئے پطرس اور یو حناّ نے ان کے لئے دعا کی۔ 17 پھر دو رسولوں نے ان لوگوں پر ہاتھ رکھا تب ا ن لوگوں نے اس روح ا لقدس کو پا یا۔

18 شمعون نے دیکھا کہ جب رسولوں نے اپنے ہاتھ لوگوں پر رکھے تو روح ان کو دے دی گئی۔ اس لئے شمعون نے رسولوں کو رقم پیش کی اور کہا۔ 19 مجھے بھی یہ طاقت دو کہ میں اپنے ہاتھ آدمی پر رکھوں تا کہ وہ روح القدس کو پا سکے۔

20 پطرس نے شمعون سے کہا، “تم اور تمہا رے پیسے غارت ہوں اس لئے کہ تم نے سوچا کہ خدا کے تحفے کو تم روپیوں سے خرید سکتے ہو۔ 21 تم ہمار ے ساتھ اس کام میں شریک نہیں ہوسکتے تمہا را دل خدا کی نظر میں صاف نہیں ہے۔ 22 اپنے دل کو بدلو اور کی ہو ئی بری چیزوں سے پلٹو۔ خداوند سے دعا کرو ہو سکتا ہے وہ تمہاری ایسی سوچ رکھنے کو معاف کر دے۔ 23 میں دیکھتا ہوں کہ تم میں حسد کا جذبہ بہت ہے تم گناہ کے زیر اثر ہو۔”

24 شمعون نے جواب دیا، “تم دونوں میرے لئے خداوند سے دعا کرو کہ جو باتیں تم نے کہی ہیں وہ مجھ میں نہ ہو نے پائیں۔”

25 تب رسولوں نے ان چیزوں کی گوا ہی دی جو انہوں نے دیکھا اور خداوند کا پیغام سنا کر وہ یروشلم واپس ہو ئے راستے میں وہ سامریہ کے کئی گاؤں گئے وہاں انہوں نے خوش خبری کی تبلیغ لوگوں سے کی۔

فلپ کا ایتھو پیا کے ایک شخص کو تعلیم دینا

26 خداوند کے ایک فرشتے نے فلپ سے کہا، “تیار ہو جا ؤ اور جنوب کی طرف سے ا س ر استے پر جا ؤ جو یروشلم سے غازہ کو جاتا ہے۔ اور یہ راستہ ریگستا ن سے جاتا ہے۔” 27 اسی لئے فلپ تیار ہوا اور روانہ ہوا ، راستے پر اس نے ایک ایتھو پیا کے شخص کو دیکھا جو خوجہ تھا جو کندہ کی ملکہ کا ایک اہم افسر تھا وہ شخص اس ملکہ کے خزانے کا خزانچی تھا اور وہ یروشلم کو عبادت کے لئے آیا تھا۔ 28 وہ اپنی رتھ پر بیٹھا اور یسعیاہ نبی کی کتاب کو پڑھتا ہوا گھر کو واپس جا رہا تھا۔

29 روح نے فلپ سے کہا، “جاؤ اور جاکر رتھ کے قریب ٹھہرو۔” 30 فلپ رتھ کی طرف دوڑا وہ شخص یسعیاہ نبی کی کتاب پڑھ رہا تھا۔فلپ نے اس سے کہا، “جو کچھ تو پڑھ رہا ہے کیا اسے سمجھ سکتا ہے؟”

31 اس آدمی نے کہا، “میں کس طرح سمجھ سکتا ہوں مجھے ایسے شخص کی ضرورت ہے جو مجھے یہ سمجھا سکے۔” تب اس نے فلپ سے کہا، “وہ اچک کر اس کے ساتھ بیٹھ جائے۔” 32 صحیفہ کا جو حصّہ وہ پڑھ رہا تھا وہ اس طرح تھا:

“وہ اس بھیڑ کی مانند تھا جس کو ذبح کر نے کے لئے لے جایا جا رہا ہو

اس میمنہ کی طرح جس کے بال کترے جا رہے ہوں

اور وہ کچھ آواز نہ نکالے۔

33 وہ پشیماں تھا کہ اسکے سب حقوق غصب کر لئے گئے۔

اسکی زندگی زمین پر ختم ہو گئی ہے۔

کوئی بھی اسکی نسل کا حال بیان نہ کر سکا۔” یسعیاہ۵۳‏:۷۔۸

34 افسر نے فلپ سے کہا، “مہر بانی کر کے مجھے بتائیے کہ نبی کون ہے ؟ کس کے بارے میں کہتا ہے؟” کیا وہ اپنے بارے میں کہتا ہے یا پھر کسی اور کے بارے میں کہتا ہے۔ 35 فلپ نے کہنا شروع کیا ، اس نے اسی صحیفہ سے شروع کیا۔ اور اسے یسوع کے بارے میں خوشخبری سنائی۔

36 دوران سفر جب وہ کسی ایسی جگہ پر پہونچے جہاں پا نی تھا۔تو افسر نے کہا، “دیکھو!یہاں پا نی موجود ہے اب مجھے بپتسمہ لینے سے کو ئی بھی چیز روک نہیں سکتی ہے۔” 37+ 8‏:37 آیت ۳۷ چند یونانی “اعمال” میں اس آیت ۳۷ کو شامل کیا گیا ہے جو اس طرح ہے:فلپس نے جواب دیا اگر تو دل و جان سے ایمان لاتا ہے تو،تو لا سکتا ہے تب حاکم نے کہا کہ یسوع مسیح خدا کا بیٹا ہے ۔*

38 تب افسر نے رتھ بان کو روکنے کے لئے کہا پھر افسر اور فلپ دونوں پا نی میں گئے اور فلپ نے اسکو بپتسمہ دیا۔ 39 جب وہ پا نی سے نکل کر اوپر آئے تو خدا وند کی روح فلپ کو اٹھا لے جا چکی تھی اور افسر نے اسے پھر نہ دیکھا وہ خوشی سے گھر کی راہ پر چلتا رہا۔ 40 فلپ شہر اشدود میں پایا گیا وہاں سے قیصریہ کہ لئے چلا۔ اس نے تمام قریوں کا سفر کیا وہ خوشخبری کی تبلیغ قیصریہ کے پہونچنے تک کر تا رہا۔

9

ساؤل کا بدلنا

1 ساؤل ابھی تک یروشلم میں تھا خداوند کو ماننے والوں کو ڈرانے اور مارڈالنے کی کوشش کر رہا تھا اس لئے وہ اعلیٰ کاہن کے پاس گیا۔ 2 ساؤل نے ان سے التجا کی کہ وہ شہر دمشق کی یہودی عبادت گاہوں کے نام خطوط لکھے۔ساؤل یہ بھی چاہتا تھا کہ اعلیٰ کا ہن اسے اختیار دے وہ دمشق میں ایسے لوگوں کو تلاش کرے مر دہو یا عورت جو مسیح کے راستے پر چلتے ہوں تو انکو گرفتار کر کے دمشق سے یروشلم لے آئے۔

3 جب وہ سفر کرتے کرتے شہر دمشق کے قریب پہونچا تو یکا یک آسمان سے چمکدار روشنی آئی اور اسکے گرد چھا گئی۔ 4 ساؤل زمین پر گر گیا اس نے ایک آواز سنی جو اس سے مخاطب ہو کر کہہ رہی تھی۔ “ساؤل!ساؤل تم کیوں مجھے ستا رہے ہو۔”

5 ساؤل نے پو چھا، “خداوند تو کون ہو؟” آواز نے کہا، “میں یسوع ہوں جس کو تم ستا رہے ہو۔” 6 “زمین سے اٹھو اور شہر جاؤ وہاں تمہیں کو ئی مل کر بتائے گا کہ تمہیں کیا کر نا ہو گا۔”

7 لوگ جو ساؤل کے ساتھ سفر کر رہے تھے وہیں رک گئے۔وہ خاموش تھے۔انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے آوازتو سنی لیکن کسی کو دیکھ نہ سکے۔

8 ساؤل زمین پر سے اٹھ کھڑا ہوا لیکن جب اپنی آنکھیں کھولیں تو اس کو کچھ دکھا ئی نہ دیا۔اور جو لوگ اسکے ساتھ تھے اسکا ہاتھ پکڑ کر دمشق لے گئے۔ 9 تین دن تک وہ کچھ نہ دیکھ سکا اور کچھ کھا پی نہ سکا۔

10 وہاں دمشق میں یسوع کا ایک ماننے والا تھا جس کا نام حننیاہ تھا۔خدا وند یسوع نے حننیاہ سے عالم رویا میں کہا، “اے حننیاہ! حننیاہ نے کہا، “اے خداوند میں یہاں حاضر ہوں۔”

11 تب خداوند نے حننیاہ سے کہا، “اٹھ اور اس گلی میں جا جسے سیدھی گلی کہا جاتا ہے۔اور یہوداہ کے مکان کو تلاش کر اور ساؤل نامی آدمی کو پوچھ جو طرسوس کا ہے تم اس کو دعا کرتا پاؤگے۔ 12 ساؤل نے حننیاہ نامی ایک آدمی کو دیکھا کہ اندر آیا ہے اور اپنے ہاتھ اس پر رکھا ہے۔تب ساؤل دوبارہ دیکھ سکا۔”

13 لیکن حننیاہ نے کہا، “اے خداوند! کئی آدمیوں نے مجھے اس شخص کے بارے میں کہا ہے اور اسکی بد سلوکی کے بارے میں جو وہ تمہارے مقدس لوگوں کے ساتھ یروشلم میں کیا ہے۔ 14 اب وہ دمشق میں آیا ہے اور اسکو کاہنوں کے رہنما نے اختیار دیا ہے کہ جو لوگ تیرا نام لیتے ہیں انہیں گرفتار کرے۔”

15 لیکن خداوند نے حننیاہ سے کہا، “تو جا! میں نے ساؤل کو اایک اہم کام کے لئے چنا ہے۔وہ بادشاہ سے میرے بارے میں کہے گا اور دوسری قوموں اور یہودیوں سے بھی کہے گا۔ 16 اور میں اسے بتاؤنگا کہ اسے میرے نام کی خاطر کس قدر دکھ اٹھانا پڑیگا۔”

17 پس حننیاہ اٹھا اور یہوداہ کے گھر کی طرف چلا وہ گھر میں داخل ہوا اپنا ہاتھ ساؤل پر رکھ کر کہا، ساؤل!میرے بھائی! خداوند یسوع نے مجھے بھیجا ہے یہ وہی ہے جسے تم نے یہاں آتے ہو ئے سڑک پر دیکھا تھا۔ “اسی نے مجھے یہاں بھیجا ہے تا کہ تم بینائی پا سکو۔ اور روح القدس سے معمور ہو جاؤ۔” 18 تب فوراً اسکی آنکھوں سے مچھلیوں کے چھلکے گرے اور اس کی بینائی واپس آگئی اور ساؤل دوبارہ دیکھنے کے قابل ہوا وہ اٹھا اور بپتسمہ لیا۔ 19 تب اس نے کچھ کھا یا تو اور طاقت بحال ہو نے لگی۔

ساؤل کا دمشق میں تبلیغ کرنا

ساؤل دمشق میں چند روز یسوع کے ماننے والوں کے ساتھ ٹھہرا رہا۔ 20 بہت جلد ہی وہ یہودیوں کی عبادت گاہ میں یسوع کے متعلق تبلیغ شروع کی اس نے لوگوں سے کہا، “صرف یسوع ہی خدا کا بیٹا ہے۔”

21 جب سب لوگوں نے یہ بات سنی تو حیران ہو ئے انہوں نے کہا، “وہ یہی آدمی ہے جو یروشلم میں تھا اور یسوع کے ماننے وا لوں کو تباہ کر نے کی کوشش کررہا تھا۔ اور وہ یہی کرنے کے لئے یہاں آیا ہے اور یہاں یسوع کے ماننے وا لوں کو گرفتار کر نا چاہتا ہے اور انہیں کا ہنوں کے رہنما کے پاس لے جانا چا ہتا ہے جویروشلم میں تھے۔”

22 ساؤل زیادہ سے زیادہ طاقتور ہو رہا تھا۔ اس نے ثا بت کیا کہ صرف یسوع ہی مسیح ہے۔ اس کا ثبوت اتنا طاقتور تھا کہ جو یہودی دمشق میں رہتے تھے اس سے بحث کر نے کے قابل نہ رہے۔

ساؤل کا یہودیوں سے فرار ہونا

23 کئی دنوں کے بعدیہودیوں نے ساؤل کو مارڈالنے کا منصوبہ بنایا۔ 24 رات دن یہودی شہر پناہ کے دروازوں پر نگرانی کرتے رہے کہ اس کو مار ڈالیں۔ لیکن ساؤل کو ان کے منصوبہ کا علم ہوگیا۔ 25 لیکن ایک رات اس کے کچھ شاگردوں نے اسے لے جا کر ٹوکرے میں بٹھا دیا اور دیوار سے نیچے اتار دیا۔

ساؤل کا یروشلم میں ہو نا

26 ساؤل یروشلم گیا اور وہاں شاگردوں کے مجمع میں مل جانے کی کو شش کی لیکن سب ہی اس سے ڈرتے تھے ان کو یقین نہیں آتا تھا کہ ساؤل حقیقت میں یسوع کا شاگرد ہے۔ 27 لیکن برنباس نے اس کو قبول کیا اسے رسولوں کے پاس لے گیا اور کہا کہ ساؤل نے دمشق کی راہ پر خدا وند یسوع کو دیکھا تھا بر نباس نے رسولوں کو سمجھا یا کہ کس طرح یسوع نے اس کو مخاطب کیا اور دمشق میں اس نے کس طرح یسوع کی تبلیغ بلا خوف شروع کی تھی۔

28 ساؤل شاگردوں کے ساتھ یروشلم میں ہر جگہ گیا اور بلا خوف خداوند کی تعلیم کی خوشخبری دیتا رہا۔ 29 ساؤل نے اکثر یہودیوں سے بات کی جو یونانی بولتے تھے اور ان سے بحث کی لیکن وہ لوگ اسے مارڈالنے کے درپے تھے۔ 30 جب یہ بات بھا ئیوں کو معلوم ہوئی تو وہ اسکو قیصریہ میں لے گئے اور وہاں سے طرسوس کو روانہ کر دیا۔

31 کلیساء کو ہر جگہ پر یہوداہ، گلیل اور سامریہ میں امن تھا روح القدس کی مدد سے ماننے والے اور زیادہ طاقتور ہو گئے اور انکی تعداد بڑھ رہی تھی اہل ایمان نے اپنے طریقے زندگی سے دکھلا ئے کہ وہ خداوند کی تعظیم کی اس کے مطابق رہے اسی لئے اس مجمع کو زیادہ سے زیادہ ترقی ملی۔

پطرس کا لدّہ اور جپّا میں ہو نا

32 پطرس یروشلم کے اطراف تمام گاؤں میں سفر کر تے ہو ئے ان ایمان والوں کے پاس پہنچا جو لدّہ میں رہتے تھے۔ 33 پطرس لدّہ میں ایک مفلوج شخص سے ملا جس کا نام عینیاس تھا یہ مفلوج تھا اور آٹھ سال سے اپنے بستر پر پڑا ہوا تھا۔ 34 پطرس نے اسکو کہا، “عینیاس خداوند یسوع مسیح تجھے شفاء دیگا کھڑے ہو جا اور اپنا بستر ٹھیک کر۔” اور عینیاس اچانک کھڑا ہو گیا۔ 35 تمام لدّہ کے اور شائرون کے رہنے والے لوگوں نے اسے اس حالت میں دیکھا اورخداوند یسوع پر ایمان لا نے والے ہو گئے۔

36 جوفا شہر میں تبیاہ نام کی ایک عورت تھی جو یسوع کے ماننے والوں میں تھی۔ (اسکا یونانی نام ڈارکس بمعنی ہرن) تھا۔وہ ہمیشہ لوگوں سے بھلائی کرتی تھی اور ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کرتی تھی۔ 37 جب پطرس میمنہ میں تھا۔ تبیاہ بیمار ہو ئی اور مرگئی اسکے جنازہ کو نہلا کر اوپر بالا خانہ میں رکھا گیا۔ 38 شاگردوں نے سنا کہ پطرس لدّہ میں ہے اور چونکہ جوفا لدّہ کے قریب تھا انہوں نے دو آدمی پطرس کے پاس بھیجے اور یہ درخواست کی کہ ہمارے پاس جتنا جلد ہو سکے آجائے دیر نہ کرے۔

39 پطرس تیار ہوکر ان کے ساتھ ہو گیا اور جب وہ وہاں پہونچا تو لوگ اسے بالا خانہ پر لے گئے سب بیوائیں پطرس کے اطراف کھڑی تھیں وہ رو رہی تھیں انہوں نے پطرس کو ڈارکس (تبیاہ) کے ملبوسات اور کوٹ جو اس نے اپنی زندگی میں بنائے تھے دکھا ئے۔ 40 پطرس نے سب کو کمرے کے باہر جانے کو کہا اور گھٹنوں کے بل ہو کر دعا کی اور پھر وہ تبیاہ کی نعش کی طرف متوجہ ہوکر کہا، “اے تبیاہ اٹھو!” اور اس نے اپنی آنکھیں کھولدیں اور پطرس کو دیکھا۔ 41 وہ بیٹھ گئی۔اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھا یا اسکے بعد اس نے تمام ماننے والوں کو اور بیواؤں کو کمر ے میں بلا یا اور بتایا کہ تبیّاہ زندہ ہے۔

42 جوفا کے تمام لوگوں کو اس بارے میں معلوم ہوا اور کئی لوگ خداوند پر ایمان لے آئے۔ 43 پطرس جو فا میں کئی دنوں تک ٹھہرا وہ شمعون نامی آدمی کے ساتھ ٹھہرا تھا جو چمڑے کی تجارت میں مشغول تھا۔

10

پطرس اور کرنیلیس

1 شہر قیصر یہ میں ایک شخص کرنیلیس نامی تھا۔ وہ ایک فوجی پلٹن کا صوبے دار تھا جو “اطالیاتی” کہلا تی تھی۔ 2 کرنیلیس ایک نیک آدمی تھا۔ وہ اور دوسرے لوگ جو اس کے گھر میں رہتے تھےسچے خدا کی عبادت کر تے تھے۔ وہ بہت خیرات دیتا اور ہر وقت خدا سے دعا کیا کر تا تھا۔ 3 ایک دن دوپہر تقریباً تین بجے کر نیلیس نے عالم رویا میں دیکھا کہ خدا کے فرشتہ نے آکر اس کو پکارا اور کہا، “کر نیلیس۔”

4 کر نیلیس نے فرشتہ کو دیکھا اور ڈر گیا لیکن اس نے پو چھا، “کیا بات ہے جناب؟”

“فرشتہ نے کر نیلیس سے کہا، “خدا نے تمہاری دعا سن لی ہے اور وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ تم غریبوں کی مدد کرتے ہو۔خدا تمہیں یاد کرتا ہے۔ 5 اب تم کچھ آدمی جوفا بھیجو ایک آدمی جس کا نام شمعون ہے اور وہ پطرس کہلا تا ہے۔ 6 شمعون اب ایک دوسرے آدمی کے ساتھ ٹھہرا ہوا ہے اسکا نام دبّاغ ہے جو چمڑے کا کام کر تا ہے اور سمندر کے کنارے مکان میں رہتا ہے۔” 7 فرشتہ نے یہ کہا اور چلا گیا۔کر نیلیس اپنے دو ملازموں اور سپاہیوں کو بلایا یہ سپا ہی دیندار تھا۔ جو کرنیلیس کے قریبی مدد گاروں میں تھا۔ 8 کر نیلیس نے ان تینوں کو ہر چیز اچھی طرح سمجھا دی اور انہیں جوفا روانہ کیا۔

9 دوسرے دن وہ سفر کرتے ہو ئے اور جو فا کے قریب آئے اس وقت پطر س اوپر چھت پر دعا کر نے کو چڑھا یہ دوپہر کا وقت تھا۔ 10 پطرس بھوکا تھا۔اور کچھ کھا نا چاہتا تھا لیکن جب وہ لوگ کھانا تیار کر رہے تھے اس وقت پطرس نے رویا (خواب) میں دیکھا۔ 11 اس نے دیکھا کہ آسمان کھل گیا اور ایک چیز جیسے ایک بڑی چادر ہو زمین کی طرف آرہی ہے اس کے چاروں کو نے پکڑے ہو ئے تھے۔ 12 اس میں ہر قسم کہ جانور کیڑے مکوڑے چوپا ئے اور پرندوں جو ہوا میں اڑتے ہیں اس میں مو جود تھے۔ 13 تب ایک آواز نے پطرس سے کہا، “اٹھ اے پطرس! ان میں سے کسی بھی جانور کو ما رو اور اس کو کھا جا ؤ۔”

14 لیکن پطرس نے کہا، “اے خداوند میں ایسا نہیں کر سکتا میں نے ایسی کو ئی غذا نہیں کھا ئی جو صاف نہ ہو اور نا پاک ہو۔”

15 لیکن دوسری بار آواز آئی اور کہا، “خدا نے یہ سب تمہا رے لئے پاک کر دیا ہے اور انہیں نا پا ک نہ کہو۔” 16 اس طرح تین بار ایسا ہی ہوا اور پھر وہ تمام چیزیں آسمان پر اٹھا لی گئیں۔ 17 پطرس حیران ہوا کہ آخر یہ کیا رویا تھی۔

کر نیلیس نے جن آدمیوں کو روا نہ کیا تھا انہوں نے مکان دریافت کر کے شمعون کے گھر پہنچے اور دروازے پر آکھڑے ہو ئے۔ 18 انہوں نے پو چھا! “کیا شمعون جو پطرس کہلا تا ہے یہاں رہتا ہے؟”

19 پطرس ابھی تم اس رویا کے با رے میں سوچ رہا تھا لیکن روح نے اس کو کہا، “سنو! تین آدمی تمہیں دیکھ رہے ہیں۔” 20 “اٹھو اور نیچے جاؤ ان آدمیوں کے ساتھ جاؤ اور ان سے کو ئی سوال نہ کرو” میں نے ہی انہیں تمہا رے پاس بھیجا ہے۔ 21 چنانچہ پطرس نیچے ان آدمیوں کے پاس گیا اور کہا، “میں ہی وہ آدمی ہوں جسے تم لوگ دیکھ رہے ہو۔ آپ لوگ یہاں کیوں آئے ہیں ؟۔”

22 ان آدمیوں نے کہا، “یہ مقدس فرشتہ ہے” کر نیلیس سے کہا، “وہ تمہیں اپنے گھر بلا ئے کرنیلیں ایک فوجی افسر ہے۔ و ہ بہت اچھا اور راست باز آدمی ہے۔ وہ خدا کی عبادت کرتا ہے اور تمام یہو دی اس کی عزت کر تے ہیں۔ اسی فرشتے نے کر نیلیس سے کہا کہ وہ تمہیں اس کے گھر بلا ئے اور جو کچھ تم کہیں اس کو وہ سنے۔” 23 پطرس نے آدمیوں سے کہا وہ اندر آئیں اور رات کو یہیں ٹھہریں۔

دوسرے دن پطرس تیار ہو کر ان آدمیوں کے ساتھ روانہ ہوا یسو ع کے کچھ شاگرد جو جوفا میں تھے پطرس کے ساتھ ہو لئے۔ 24 دوسرے دن وہ شہر قیصریہ میں آئے۔کر نیلیس انہی کے انتظار میں تھا۔ اور اپنے رشتہ داروں اور فریسی دوستوں کو گھر پر جمع کر رکھا تھا۔

25 جب پطرس گھر میں داخل ہوا تو کر نیلیس اس سے ملا اور پطرس کے قدموں میں گر گیا اور اس کی عبا دت کر نے لگا۔ 26 لیکن پطرس نے اس سے اٹھنے کو کہا۔ پطرس نے کہا، “اٹھو اور کھڑے ہو جا ؤ! میں تم جیسا ہی ایک آدمی ہوں۔” 27 پطرس نے کر نیلیس سے باتوں کا سلسلہ جا ری رکھا اور پھر پطرس اندر گیا اور اس نے دیکھا کہ لوگوں کی ایک بڑی کلیسا وہاں جمع ہے۔

28 پطرس نے لوگوں سے کہا، “تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہودیوں کی شریعت کے خلا ف ہے کہ ایک یہودی دوسرے سے جو غیر یہودی ہے ملے لیکن خدا نے مجھ سے کہا کہ میں کسی بھی آدمی کو “نجس”نہ کہوں۔ 29 اسی لئے میں ان آدمیوں کے ساتھ بے عذر چلا آیا پس اب مجھے کہو کہ تم نے انہیں میرے پاس کیوں بھیجا ؟”

30 کر نیلیس نے کہا، “چار روز پہلے میں اپنے گھر میں دعا کر رہا تھا وہ یہی وقت ہوگا تین بجے کا۔ اچا نک ایک آدمی میرے سامنے کھڑا ہوا تھا جو بہت ہی چمکدار پو شاک پہنے ہوئے تھا۔” 31 اس نے کہا، “اے کر نیلیس خدا نے تمہا ری دعا سن لی اور خیرات کو دیکھ چکا ہے۔ 32 اس نے قبول کیا اور وہ تمہیں یاد کرتا ہے۔ اس لئے تم کچھ آدمیوں کو جو فا روا نہ کرو اور شمعون پطرس کو بلا ؤ پطرس اس شخص کے مکان میں ہے جس کا نام شمعون دباّغ ہے اور اس کا مکان سمندر کے کنا رے ہے۔ 33 اسی لئے میں نے جلد ہی تمہیں لا نے کیلئے آدمیوں کو روا نہ کیا تم نے بہت اچھا کیا جو آگئے اب ہم سب یہاں موجود ہیں تا کہ جو بھی خدا وند نے تم سے کہا ہے وہ ہم تم سے سنیں گے۔”

پطرس کا کرنیلیس کے گھر میں وعظ کر نا

34 پطرس نے کہنا شروع کیا، “میں اب سچا ئی سے سمجھتا ہوں کہ خدا کی نظر میں ہر ایک برا بر ہیں۔وہ کسی کا طرفدار نہیں۔ 35 اورخدا ہر اس آدمی کو قبول کرتا ہے جو اس کی عبادت کرتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں۔ اس بات کی کوئی بھی اہمیت نہیں کہ کون سے ملک سے وہ آیا ہے ؟ 36 خدا نے یہودیوں سے کہا ہے اور انہیں خوشخبری دی ہے کہ امن وامان یسوع مسیح سے ہی آتا ہے۔یسوع ہی سب لوگوں کا خدا وند ہے۔

37 تم جانتے ہو کہ سارے یہوداہ میں کیا ہوا۔ یہ گلیلی میں شروع ہوا اس کے بعد یوحناّ نے لوگوں کو تبلیغ کی اور بپتسمہ کے متعلق بتا یا۔ 38 کیا تم یسوع ناصری کے متعلق جانتے ہو کہ خدا نے اسے روح ا لقدس سے معمور کر کے طاقت دی اسے مسیح بنایا۔ یسو ع ہر طرف گیااور لوگوں کے لئے اچھے کام کئے۔ یسوع نے ان لوگوں کو اچھا کیا جو ابلیس کے شکار ہو ئے تھے۔ا س سے ظاہر ہے کہ خدا یسوع کے ساتھ ہے۔

39 ہم نے دیکھا کہ ان تمام چیزوں کو جو یسوع نے یہودیوں کے ملک اور یروشلم میں کیا تھا۔ہم اسکے گواہ ہیں۔ لیکن یسوع کو مار ڈالا گیا انہوں نے یسوع کو کیل سے چھیدا اور لکڑی کے تختہ پر مصلوب کیا۔ 40 لیکن اسکی موت کے تیسرے دن خدا نے یسوع کو جلا یا تاکہ لوگ واضح طور پر یسوع کو دیکھ سکیں۔ 41 لیکن سب لوگ یسوع کو نہ دیکھ سکے بلکہ وہی لوگ جس کو خدا نے گواہی کے لئے چنا تھا وہی دیکھ سکے۔ ہم اسکے گواہ ہیں کیوں کہ موت کے بعد جب یسوع کو زندگی دیکر اٹھا یا گیا تو ہم نے اسکے ساتھ کھا یا پیا ہے۔

42 یسوع نے کہا کہ تم لوگوں میں تبلیغ کرو۔ پھر اس نے ہم سے کہا کہ ہم لوگوں سے کہیں کہ وہ وہی ہے جس کو خدا نے سب لوگوں کے لئے منصف بنایا جو لوگ زندہ ہیں اور جو مر گئے ہیں۔ 43 ہر آدمی جس کا ایمان یسوع پر ہے اسکے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ خدا اسکے گناہوں کو معاف کر دیگا خدا کے نام پر اور سب نبیوں نے کہا کہ یہ سچ ہے۔”

روح القدس کی غیر یہودیوں پر آمد

44 جب کہ پطرس یہ الفاظ کہہ ہی رہا تھا کہ روح القدس کا ظہور تمام لوگوں پر ہوا جو اسکی تقریر سن رہے تھے۔ 45 وہ اہل ایمان یہودی جو پطرس کے ساتھ آئے تھے بہت حیران تھے۔ وہ حیران اس لئے تھے کہ روح القدس کا نزول غیر یہودیوں پر بھی ہوا تھا۔ 46 یہودی اہل ایمان نے سنا کہ وہ طرح طرح کی زبانیں بولتے ہیں اور خدا کی تعریف بیان کر تے ہیں۔ 47 تب پطرس نے کہا، “ہم انہیں پا نی سے بپتسمہ دینے سے انکار نہیں کر سکتے انہوں نے ہماری طرح روح القدس کو پا یا ہے جیسا کہ ہم نے پایا تھا۔” 48 پطرس نے کر نیلیس کو حکم دیا اور اسکے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی حکم دیا کہ یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لیں۔ تب لوگوں نے پطرس سے کہا، “کچھ اور دن وہ انکے ساتھ رہے۔”

11

پطرس کا یروشلم واپس ہونا

1 یہوداہ میں رسولوں اور بھا ئیوں میں سنا کہ غیر یہودیوں نے بھی خدا کی تعلیم کو قبول کرلیا ہے۔ 2 جب پطرس یروشلم میں آیا تو کچھ یہودی جو اہل ایمان تھے اس سے بحث کر نے لگے۔ 3 انہوں نے کہا، “تم ایسے لوگوں کے گھر میں گئے جو یہودی نہیں مختون بھی نہیں حتیٰ کہ تم نے انکے ساتھ کھا نا کھایا۔”

4 چنانچہ پطرس نے انکو سارا واقعہ سنایا۔ 5 پطرس نے کہا، “جب میں جوفا شہر میں تھا اور میں دعا میں مشغول تھا تو میں نے رویا میں دیکھا کو ئی چیز چادر جیسی لٹکتی ہوٹی زمین کی طرف آرہی ہے وہ چیز میرے قریب آکر ٹھہر گئی۔ 6 اس پر میں نے نظر کی تو اس میں زمین کے چوپا ئے اور جنگلی جانور کیڑے مکوڑے اور پرندے دیکھے۔ 7 میں نے ایک آواز سنی جو مجھ سے کہہ رہی تھی “اے پطرس اٹھو!ان میں سے کسی بھی جانور کو مارو اور اسے کھا ؤ۔”

8 لیکن میں نے کہا نہیں اے خدا وند!میں نے کبھی بھی کوئی بھی ایسی چیزوں کو نہیں کھا یا جو حرام و ناپاک ہو۔

9 لیکن دوبارہ ہی آسمان سے آواز آئی کہا کہ جن کو خدا نے پاک و طاہر کیا اسے تم نجس نہ کہو۔

10 اس طرح تین مرتبہ ہوا پھر سب چیزیں آسمان کی طرف چلی گئیں۔ 11 اسکے بعد ہی تین آدمی اس مکان پر آئے جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا ان تینوں آدمیوں کوقیصریہ سے میرے پاس بھیجا گیا۔ 12 روح نے کہا کہ میں بلا کسی جھجھک ان کے ساتھ جاؤں اور یہ چھ بھائی جو میرے ساتھ آئے ہیں اور ہم کرنیلیس کے گھر میں داخل ہوں۔ 13 کرنیلیس نے فرشتے کے متعلق کہا جو اس نے اپنے گھر میں کھڑا دیکھا تھا اس فرشتہ نے کرنیلیس سے کہا، “ کچھ آدمیوں کو جوفا بھیجو تا کہ وہاں سے شمعون پطرس کو بلایا جائے۔” 14 وہ تم سے وہ باتیں کہے گا جس سے تم اور تمہارے گھر میں رہنے والے سب لوگ نجات پائیں گے۔

15 جب میں بولنا شروع کیا تو وہ روح القدس ان پر اس طرح نازل ہوا جس طرح شروع میں ہم پر نازل ہوا تھا۔ 16 تب میں نے خدا وند کے الفاظ کو یاد کیا۔خداوند نے کہا کہ یوحنا نے لوگوں کو پانی سے بپتسمہ دیا مگر تم کو روح القدس سے بپتسمہ دیا جائیگا۔ 17 خدا نے ان لوگوں کو وہی نعمت عطا کی جو ہمیں خدا وند یسوع مسیح پر ایمان لا نے سے ملی تھی۔ تو پھر مجھے کیا اختیار تھا کہ میں خدا کے کام کو روک سکتا۔

18 جب یہودیوں نے اہل ایمان سے یہ سنا تو انہوں نے بحث نہیں کی وہ خدا کی تعریف کر نے لگے پھر کہا، “خدا نے غیر یہودی قوم کو بھی توبہ کر نے کی مہلت دی ہے تا کہ وہ بھی ہماری طرح زندگی گزاریں۔”

انطاکیہ سے خوشخبری کا آنا

19 پس اسٹیفن کی موت کے بعد جو لوگ مصیبت میں گھر کر ادھر ادھر منتشر ہو گئے تھے۔ گھومتے پھر تے فیکیے، قبرص اور انطاکیہ میں پہونچے اور ان مقامات پر وہ خدا کی خوشخبری سنائے مگر یہودیوں کے سوا اور کسی کو کلام نہ سنا تے تھے۔ 20 ان میں سے کچھ لوگوں کا قبرص سے اور کچھ کا سائرن سے تعلق تھا اور جب یہ انطاکیہ آئے تو انہوں نے یونانیوں کو بھی خدا وند یسوع کے متعلق خوشخبری دی۔ 21 انکے ساتھ خداوند کی مدد ہمیشہ ساتھ تھی اور کثیر لوگوں کا گروہ ایمان لے آیا اور خداوند کی طرف رجوع ہوئے۔

22 ا ن لوگوں کی خبر یروشلم کے کلیساء کے کانوں تک پہونچی تو انہوں نے برنباس کو انطاکیہ بھیجا۔ 23‏-24 برنباس ایک اچھا آدمی تھا۔ وہ کامل عقیدہ رکھتا تھا اور روح القدس سے معمور تھا۔ جب برنباس انطاکیہ پہونچا تو اس نے دیکھا کہ ان پر خدا کا فضل ہے اس وجہ سے بر نباس بہت خوش ہوا اس نے انطاکیہ کے اہل ایمان کو تقویت دی اور انہیں یہ نصیحت کی کہ “اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں اور ہمیشہ خداوند کی فرماں برداری اپنے دل سے کریں۔”اس طرح بہت سارے لوگ خداوند کو ماننے لگے۔

25 تب برنباس شہر طر سوس کی طرف چلا وہ ساؤل کی تلاش میں تھا۔ 26 جب ساؤل اسکو ملا تو اس نے اسکو انطاکیہ لے آیا۔ ساؤل اور برنباس دونوں وہاں تقریباً ایک سال تک رہے۔ ہر وقت اہل ایمان کے گروہ ایک جگہ جمع ہو تے تو ساؤل اور برنباس ان سے ملتے تعلیم دیتے اور یسوع کے ماننے والے پہلی مرتبہ انطاکیہ ہی میں “مسیحی ” کہلا ئے۔

27 انہی دنوں میں چند نبی یروشلم سے انطاکیہ آئے۔ 28 ان میں سے ایک جس کا نام اگبس تھا انطاکیہ میں روح القدس کی رہنمائی سے اس بات کا اعلان کیا کہ ساری دنیا میں “برا وقت آئیگا اور قحط پڑیگا۔”اور قحط کلودیس کے زمانے میں بھی واقع ہوا تھا۔ 29 تب اہل ایمان نے طے کیا کہ اب انہیں اپنی بہنوں بھائیوں کی مدد کر نی ہوگی جو یہوداہ میں رہتے ہیں ہر ایک اپنی بساط کے مطابق جو کر سکتا ہے کرے۔ ہر ماننے والے نے یہ طے کیا ہر ایک سے جو مدد ہو سکے وہ کرے۔ 30 انہوں نے رقم جمع کی اور ساؤل اور برنباس کے حوالہ کی اور ان دونوں نے یہوداہ میں اس کو بزرگ لوگوں کے سپرد کیا۔

12

ہیرودیس کا اگرّپا کی کلیسا کو نقصان پہنچا نا

1 اسی وقت بادشاہ ہیرودیس نے کلیساء کے کچھ لوگوں کو ستانا شروع کیا اور انہیں اپنا نشانہ بنایا۔ 2 ہیرودیس نے حکم دیا، “یعقوب کو تلوار سے قتل کیا جائے ۔”یعقوب یوحناّ کا بھا ئی تھا۔ 3 ہیرودیس نے جب دیکھا کے یہ عمل یہودیوں کو پسند ہے تو اس نے طئے کیا کہ پطرس کو بھی گرفتار کیا جائے یہ یہودیوں کی فسح کی تقریب+ 12‏:3 فسح کی تقریب یہ یہودیوں کا ایک مخصوص دن اور مقدس دن ہے یہودی اس دن مخصوص کھانا بناتا ہے ہر سال یہ یادکرتے ہیں کہ خدا نے اسی دن مصر میں موسٰی کے زمانے میں اپنے غلاموں کو آزاد کیا تھا-* کا دن تھا۔ 4 ہیرودیس نے پطرس کو گرفتار کیا۔ اور جیل میں ڈال دیا اس نے سولہ سپا ہیوں کے گروہ کو پطرس کی نگرانی پر مقرر کیا۔ ہیرودیس فسح کی تقریب کے گذر نے تک انتظار کرتا رہا۔ اور پھر اس نے پطرس کو لوگوں کے سامنے پیش کر نے کا منصوبہ بنا یا۔ 5 اسی لئے پطرس کو جیل میں رکھا گیا لیکن یہ کلیسا بار بار پطرس کے لئے خدا سے دعا کر رہی تھی۔

پطرس کی قید سے رہا ئی

6 اس وقت پطرس زنجیروں سے جکڑا دو سپا ہیوں کے درمیان سو رہا تھا۔کچھ دوسرے سپا ہی جیل کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ رات کا وقت تھا اور ہیرودیس نے منصوبہ بنایا کہ پطرس کو دوسرے دن لوگوں کے سامنے پیش کیاجائے۔ 7 اچا نک خداوند کا فرشتہ آکھڑا ہوا اور کمرہ میں نور چمک گیا اور اس نے پطرس کی پسلی کو چھو کر اس کو جگا یا۔فرشتےنے کہا، “جلدی اٹھو” زنجیریں اس کے ہاتھوں سے کھل پڑیں۔ 8 فرشتہ نے پطرس سے کہا، “اٹھ لباس اور جوتی پہن ۔” پطرس نے ایسا ہی کیا تب فرشتے نے کہا، “اپنا کوٹ پہن کر میرے ساتھ چل۔”

9 وہ فرشتہ باہر چلا اور اسکے پیچھے پطرس بھی باہر چلا۔پطرس یہ سمجھ نہ سکا کہ یہ سب کچھ فرشتہ کی جانب سے ہو رہا ہے وہ یہ سمجھا کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ 10 پطرس اور فرشتہ پہلے اور دوسرے پہرے سے نکل کر آہنی دروازہ تک آگئے جو شہر کی طرف کھلتا تھا دروازہ ان کے لئے خود بخود کھل گیا پطرس اور فرشتہ دروازے سے باہر تھوڑا آگے اور نکل کر اس سرے تک گئے اور فوراً فرشتہ اسکے پاس سے چلا گیا۔

11 پطرس جان گیا کہ کیا ہوا۔ اس نے سوچا، “اب میں سمجھا کہ خدا وند نے میرے لئے اپنے فرشتہ کو بھیجا تھا جس نے مجھے ہیرودیس سے بچا لیا یہودی لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ مجھ پر برا وقت آرہا ہے۔ لیکن خداوند نے مجھے ان سب چیزوں سے بچا لیا ۔”

12 اور پطرس اس پر غور کر کے مریم کے گھر گیا جو یوحنا کی ماں تھی (یوحنا کو مرقس بھی کہا جاتا ہے) وہاں کئی لوگ جمع تھے۔ وہ سب ملکر دعا کر رہے تھے۔ 13 تب پطرس نے بیرونی دروازہ کھٹکھٹایا تو ردی نامی ملازمہ آواز سننے آئی۔ 14 تو ردی نے پطرس کی آواز پہچان لی اور وہ بہت خوش ہو ئی۔ اس لئے وہ دروازہ کھولنا بھول گئی اور وہ اندرونی سمت دوڑ کر اندر خبر کی کہ “پطرس دروازہ پر ہے۔” 15 انہوں نے اس سے کہا، “تم پاگل ہو گئی ہو۔” لیکن وہ برابر کہتی رہی کہ میں سچ کہہ رہی ہوں تب اس نے کہا، “یہ پطرس کا فرشتہ ہوگا۔”

16 لیکن پطرس نے اپنے ہاتھ سے ایک نشان بنایا انہیں خاموش رہنے کے لئے کہا اور اس نے بتایا کہ کس طرح خداوند نے اس کو جیل سے باہر نکالا۔ 17 اس نے، “یعقوب اور دوسرے بھائیوں کو اس واقعہ کے متعلق کہا۔”اور پطرس وہاں سے دوسری جگہ کے لئے روانہ ہوا۔

18 دوسرے دن سپا ہی بہت غصہ میں آئے۔ وہ بہت حیران تھے کہ آخر پطرس کو کیاہو سکتا ہے۔ 19 ہیرودیس نے پطرس کو ہر جگہ تلاش کیا لیکن کہیں نہ پایاتب ہیرودیس نے پہرے داروں سے دریافت کیا اور پھر پہرے داروں کو قتل کر نے کا حکم دیا۔

ہیرودیس اگرّپا کی موت

ہیرودیس یہوداہ چھوڑ کر قیصریہ چلا گیا اور وہیں رہا۔ 20 ہیرودیس شہر صوُ ر اورصیدا کے لوگوں سے نا خوش تھا وہ سب لوگ ایک گروہ کی شکل میں ہیرودیس کے پاس آئے اور بلستس کو اپنی طرف کر لیا۔ بلستس بادشاہ کا خصوصی خادم تھا۔ لوگوں نے ہیرودیس سے امن چاہا کیوں کہ ان کے ملک کو غذا کے لئے ہیرودیس کے ملک پر انحصار کر نا پڑتا تھا۔

21 ہیرودیس نے ایک دن ان لوگوں سے ملنے کے لئے طے کیا۔ اس دن ہیرودیس بہترین شاہی پوشاک پہن کر تخت پر بیٹھا اور لوگوں سے مخاطب ہو کر کلام کرنے لگا۔ 22 سب لوگ چلّا اٹھے کہ “یہ خدا کی آواز ہے آدمی کی نہیں۔” 23 ہیرودیس یہ سنکر بہت خوش ہوا لیکن خدا کی تعریف کر نے کی بجائے خود کی تعریف کو قبول کیا۔ خداوند کے فرشتے نے اس کو بیمار بنادیا اس کے جسم کو کیڑے کھا گئے اور وہ مر گیا۔

24 خدا کا پیغام زیادہ سے زیادہ پھیل رہا تھا اور زیادہ سے زیادہ لوگ اسکے ماننے والے ہو تے جارہے ہیں اور ایمان والوں کا گروہ پھیلتا جارہا تھا۔

25 جب برنباس اور ساؤل نے اپنا کام یروشلم میں ختم کیا اور انطاکیہ واپس ہو ئے تو یوحنا مرقس بھی ان کے ساتھ تھے۔

13

برنباس اور ساؤل کو ایک خاص کام دیا جانا

1 انطا کیہ کی کلیسا میں چند نبی اور استاد بھی تھے وہ برنباس اور شمعون تھے۔ جو نائجر بھی کہلا ئے لو کیس جو سائیرن کا تھا منا ہم جو بادشاہ ہیرودیس کے ساتھ پرورش پا ئی تھی اور ساؤل۔ 2 یہ تمام لوگ خداوند کی خدمت کر رہے تھے اور روزہ رکھ رہے تھے رُ وح القدس نے ا ن سے کہا، “بر نباس اور ساؤل کو علحٰدہ رکھو تا کہ ذمہ دا ری کا کام دے سکوں جس کے لئے میں نے انہیں چُنا ہے۔”

3 تب انہوں نے رو ز ہ رکھا اور دعا کر کے اپنا ہاتھ ان پر رکھا اور انہیں روا نہ کیا۔

برنباس اور ساؤل کپرس میں

4 بر نباس اور ساؤل کو روح القدس نے روانہ کیا وہ سلو کیہ گئے پھر وہاں سے جہاز کے ذریعہ جزیرہ کپرس میں پہو نچے۔ 5 جب بر نباس اور ساؤل شہر سلا میس پہونچے اور یہودیوں کے عبادت خانے میں خدا کا پیغام سنا نے لگے تو یوحنا اور مرقس ان کی مدد کے لئے ان کے ساتھ تھے۔

6 وہ سب کے سب جزیرہ کے ذریعہ شہر پا فس تک گئے شہر پافس میں سب کے سب ایک یہودی سے ملے جو جادو کا کام جانتا تھا۔اسکا نام بریسوس وہ جھو ٹا نبی تھا۔ 7 بریسوس ہمیشہ سرگیس پولس کے ساتھ ٹھہر تا تھا جو گور نر تھا۔ سرگیس پولس ایک عقلمند آدمی تھا اس نے بر نباس اور ساؤل کو بلایا وہ ان سے خدا کا پیغا م سننا چاہتا تھا۔ 8 لیکن ایلیماس جادوگر برنباس اور ساؤل کا مخالف تھا۔ایلیماس بریسوس کا ایک اور نام ہے ایلیماس نے گور نر کو خداوند پر ایمان لے آنے اور عقیدہ قبول کر نے سے روکنے کی کوشش کی۔ 9 لیکن ساؤل جس کانام پولس بھی ہے روح القدس سے معمور ہو کر اس پر نظر کی اور کہا۔ 10 “اے شیطان کے فرزند تو ہر نیکی کا دشمن ہے تو شیطانی حر کتوں اور جھو ٹ سے بھرا ہے۔ کیا تو خداوند کی سیدھی راہوں کو بگاڑنے سے باز نہ آئیگا۔ 11 اب خداوند تجھے چھوکر کچھ وقت کے لئے اندھا کر دیگا اور تو اندھا ہو کر کسی چیز کو دیکھنے کے قابل نہ ہوگا حتٰی کہ سورج کی روشنی بھی نہ دیکھ سکے گا-۔”

تب ہر چیز ایلیماس کے لئے دھندلا اور سیاہ ہو گئی اور وہ تلاش کر نا شروع کیا تا کہ کو ئی اسکا ہاتھ پکڑ کر لے چلے۔ 12 گور نر یہ سب دیکھ کر خداوند کی تعلیمات سے بے حد متاثر ہوا اور ایمان لے آیا

پولس اور برنباس کی کپرس سے روانگی

13 پولس اور اس کے ساتھ جو لوگ تھے پافس چھوڑ کر جہا ز پر روانہ ہو ئے اور وہ پرگہ پہونچے جو پلفیلیا کا شہر ہے۔ لیکن یوحنا ان سے جدا ہو کر یروشلم چلے گئے۔ 14 انہوں نے پرگہ سے سفر جاری رکھا اور شہر انطاکیہ پہونچے جو شہر لپیڈیا کے قریب تھا۔

انطاکیہ میں وہ سبت کے دن یہودی عبادت گاہ میں جاکر بیٹھ گئے۔ 15 موسٰی کی شریعت توریت اور نبیوں کی کتابیں پڑھیں تب عبادت خانے کے سرداروں نے بر نباس کے پاس پیغام بھیجا، “بھا ئیو! اگر تم کچھ کہنا چاہتے ہو جس سے لوگوں کی مدد ہو تو بیان کرو۔”

16 پولس اٹھا اس نے اپنا ہاتھ اٹھا کر کہا، “میرے یہودی بھائیو اور دیگر لوگو! جو سچے خدا کی عبادت کر تے ہو سنو! 17 اسرائیل کے خدا نے ہمارے باپ دادا کو چن لیا ہے۔ اس نے ہمارے ان لوگوں کی مدد کی جو مصر میں پر دیسیوں کی طرح رہتے تھے۔ خدا نے انکو اپنی عظیم طاقت سے مصر سے باہر نکال لایا۔ 18 اور چالیس سال تک صحرا میں ان کو برداشت کر تا رہا۔ 19 خدا نے کنعان کی سر زمین پر سات قوموں کو تباہ کیا اور اس زمین کو انکی میراث بنا دی۔ 20 یہ سارا کام تقریباً چار سو پچاس سال کی مدّت میں ہوا۔

“اسکے بعد خدا نے سموئیل نبی کے زمانے تک ان میں قاضی مقرر کئے۔ 21 تب اسکے بعد لوگوں نے بادشاہ سے درخواست کی۔خدا نے انہیں قیس کے بیٹے ساؤل کو جو بنیمین خاندان کے گروہ کا تھا مقرر کیا اس نے ۴۰ سال تک حکومت کی۔ 22 پھر خدا نے ساؤل کو ہٹا کر داؤد کو بادشاہ بنایا اور داؤد کے متعلق کہا داؤد جو یسّی کا بیٹا ہے میری مرضی کے مطا بق ہے اور وہ وہی کریگا جو میں اس سے چاہونگا۔

23 اس کے وعدہ کے موافق خدا نے داؤد کی اولاد میں سے ایک کو اسرائیل کے لئے ایک مُنّجِی کو بھیجا ہے جو یسوع ہے۔ 24 یسوع کے آنے سے پہلے یوحنا نے تمام لوگوں کے لئے تبلیغ کی کہ اپنی زندگی کو بدلیں اور بپتسمہ لیں۔ 25 جب یوحنا اپنا کام ختم کر رہے تھے تو اس نے کہا، “تم لوگ مجھے کیا سمجھتے ہو ؟میں مسیح نہیں ہوں وہ تو میرے بعد آنے والا ہے میں تو اسکی جوتی کا تسمہ کھولنے کے لا ئق بھی نہیں ہوں۔

26 “اے بھائیو! ابراہیم کے فرزندو! اور غیر یہودیو!جو سچے خدا کی عبادت کر تے ہو سنو!” اس نجات کا پیغام ہمارے پاس بھیجا گیا۔ 27 یروشلم کے لوگوں اور انکے یہودی قائدین نے اس بات کو نہ پہچا نا کہ یسوع نجات دینے والا ہے اور نہ نبیوں کی باتیں سمجھیں جو ہر سبت کو سنائی جاتی ہیں۔اس لئے اس پر فتویٰ دیکر ان کو پورا کیا۔ 28 انہیں کوئی معقول وجہ بھی نہیں ملی کہ یسوع کو کیوں مار دیا جائے لیکن انہوں نے پیلاطس کو اسے ماردینے کے لئے کہا۔

29 ان یہودیوں کو کام کر ناتھا وہ سب کر چکے جیسا کہ صحیفہ میں یسوع کے متعلق لکھا ہے جب وہ سب کر چکے تو یسوع کو صلیب پر چڑھا دیا اور وہاں سے اتار کر قبر میں رکھا۔ 30 لیکن خدا نے اسے مردہ سے زندہ کر دیا۔ 31 اسکے بعد وہ انکو د کھا ئی دیتا رہا جو اس کے ساتھ گلیل سے یروشلم آئے تھے۔ اور یہی لوگ ا ب دوسرے لوگوں کے سامنے انکے گواہ ہیں۔

32 ہم تمہیں خوشخبری دیتے ہیں اس وعدہ کیلئے جو خدا نے ہمارے باپ دادا سے کیا تھا- 33 ہم اس کے بچے ہیں اور خدا نے وعدہ کو پورا کر دکھا یا اور ہمارے لئے خدا نے یسوع کو موت سے جلایا یہ سب کچھ ہمارے لئے کیا یہ دوسری زبور میں لکھا ہے:

تو میرا بیٹا ہے

اور آج میں تیرا باپ بن گیا۔ زبور۲‏:۷

34 خدا نے یسوع کو موت سے زندہ کیا۔ آج سے یسوع کبھی بھی قبر میں نہیں جائے گا اور نہ سڑ گل سکے گا اس لئے خدا نے کہا:

میں تمہیں سچّے اور مقدس وعدے دونگا جیسا کہ داؤد کو دیا تھا۔ یسعیاہ ۵۵‏:۳

35 ایک دوسری جگہ خدا کہتا ہے: تم اپنے مقدس بدن کو نہیں پا ؤگے کہ قبر میں وہ سڑ گل سکے۔ زبور۱۲‏:۱۰

36 داؤد نے اپنی زندگی میں ہر کام خدا کے منشا ء کے مطا بق کیا تب ان کا انتقال ہوا۔ داؤد اپنے آباؤاجداد کے ساتھ دفن ہوا اور اسکی نعش سڑ گل گئی۔ 37 لیکن وہ ایک شخص جسے خدا نے موت کے بعد اٹھا یا قبر میں نہ گلا اور نہ ہی سڑا۔ 38‏-39 اے بھائیو! تمہیں سمجھنا چاہئے کہ ہم تم سے کیا کہہ رہے ہیں تم اپنے گنا ہوں کی معا فی صرف اسی کے ذریعہ حا صل کر سکتے ہو۔ ہر وہ شخص جو اس پر ایمان لا تا ہے ان تمام چیزوں سے آزاد ہو جاتاہے۔ جس کو شریعت موسیٰ بھی چھڑا نہیں سکتی۔ 40 نبیوں نے کہا ہے کہ کچھ حادثات ہو نگے اس لئے خبردار رہو ایسا نہ ہو کہ نبیوں نے جو کہا وہ تم پر صادق آئے کہ:

41 سنو! جو لوگ شک کرتے ہیں

تم تعجب کر سکتے ہو لیکن تب وہ جائیں گے اور مریں گے

میں تمہارے زمانے میں

ایک کام کرتا ہوں

ایسا کام کہ اگر کوئی تم سے بیان کرے تو کبھی اس کا یقین نہ کروگے۔” حبقوق۱‏:۵

42 جس وقت پولس اور برنباس یہودی عبادت گاہ سے جا رہے تھے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ وہ دو بارہ آئیں اور اگلے سبت کے دن انہیں مزید باتیں بتا ئیں۔ 43 اس مجلس کے ختم ہو نے پر کئی یہودی پولس اور برنباس کے ساتھ ہو گئے ان کے ساتھ اور کئی لوگ بھی تھے۔ جو یہودی مذہب اپنا لئے تھے۔اور سچے خدا کی عبادت کر رہے تھے۔ پولس اور برنباس نے ان سے بات کی اور ترغیب دی کہ خدا کی راہ پر قائم رہیں اور اسکے فضل پربھر وسہ رکھیں۔

44 سبت کے دوسرے دن تقریباً تمام شہر کے لوگ جمع ہو ئے۔ تا کہ خدا وند کے کلا م کو سن سکیں۔ 45 جب یہودیوں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا تو حسد سے بھر گئے۔ اور انکے خلاف فحش کلا می کی اور جو کچھ پولس نے کہا انکی مخالفت میں تکرار کر نے لگے۔ 46 لیکن پولس اور برنباس بلا کسی ڈر اور خوف کے بو لے “سب سے پہلے یہ ضروری تھا کہ خدا کا پیغام تم یہودیوں تک پہونچائیں لیکن تم اسکا انکار کرتے ہو تم اس طرح سے اپنے آپکو ہمیشہ کی زندگی کے لئے موافق ٹھہرا تے ہو اسی لئے ہم اب دوسری قوموں کی طرف متوجہ ہو تے ہیں۔ 47 اور یہی سب خداوند نے ہم سے کر نے کے لئے کہا ہے:

“میں نے تمہیں دوسری قوموں کے لئے نور کی طرح بنایا

تا کہ تم دنیا کے لوگوں کو نجات پا نے کی راہ بتا سکو۔” یسعیاہ۴۹‏:۶

48 جب غیر یہودی لوگوں نے پولس کو اس طرح کہتے سنا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے اس خدا وند کے پیغام کی تعظیم کی اور بڑا ئی کر نے لگے۔ اور جنہیں ہمیشہ کی زندگی کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہ ایمان لے آئے۔

49 اس طرح خدا وند کا پیغام تمام ملک میں پھیل گیا۔ 50 لیکن انہوں نے کچھ اہم مذہبی عورتوں اور شہر کے قائدین کو اس بات پر اکسایا کہ وہ پولس اور بر نباس کے مخالف ہو جائیں ا ن لوگوں نے پولس اور برنباس کے مخالف ہو کر انہیں شہر سے باہر نکال دیا۔ 51 پولس اور برنباس نے اپنے پاؤں کی خاک ان کے سامنے جھا ڑ کراکو نیم شہر کی طرف روا نہ ہو ئے۔ 52 لیکن خداوند کے شاگرد جو انطاکیہ میں تھے بہت خوش تھے اور روح القدس سے معمور ہو تے رہے۔

14

پولس اور برنباس کی اکونیم میں آمد

1 پولس اور بر نباس شہر اکو نیم گئے اور یہودیوں کے عبادت خا نے میں داخل ہو ئے۔(جیسا کہ انہوں نے ہر شہر میں کیا ) وہاں انہوں نے لوگوں سے بات کی جس کی وجہ سے کئی یہودی اور یو نانی ایمان لا ئے۔ 2 لیکن کچھ یہودی ایمان نہیں لا ئے اور انہوں نے غیر یہودی لوگوں کے دلوں میں بد گمانی پیدا کر نے کی کوشش کی اپنے بھا ئیوں کے خلاف ہو نے پر انہیں اکسا یا۔

3 پولس اور بر نباس کا فی عرصہ تک اکو نیم میں رہے اور بڑی دلیری سے خداوند کے بارے میں بولے اور خدا کے فضل کے بارے میں تعلیمات دئیے۔ خداوند نے معجزے دکھا نے اور عجیب وغریب کاموں کو انجام دینے میں رسولوں کی مدد کر کے ، ان لوگوں کے کہے ہو ئے باتوں کو سچ ثابت کیا۔ 4 لیکن چند لوگ شہر میں یہودیوں کی طرف ہو گئے۔ اور کچھ ایمان وا لے لوگ شہر میں پو لس اور بر نباس کی طرف ہو گئے اس طرح شہر تقسیم ہو گیا۔

5 چند غیر یہودی اور یہودی اور ان کے سرداروں نے پولس اور بر نباس کو ضرر پہو نچا نے کی کو شش کی۔ انہوں نے ان کو سنگسار کر کے مار ڈالنا چا ہا۔ 6 جب پولس اور بر نباس کو یہ سب معلوم ہوا تو انہوں نے گا ؤں چھوڑ دیا اور لسترہ اور دربے چلے گئے۔ جو لکانیہ کے اطراف کے ارد گرد نواح کے شہر تھے۔ 7 اور وہاں بھی خوش خبری دیتے رہے۔

پولس کا لسترہ اور دربے میں ہو نا

8 لسترہ میں ایک شخص تھا جس کے پیروں میں نقص تھا اور وہ پیدائشی لنگڑا تھا اور کبھی چل نہ پایا۔ 9 یہ شخص وہاں بیٹھا ہوا پولس کی تقریر سن رہا تھا جب پولس نے دیکھا کہ اس میں خدا پر ایمان لا نے کا جذبہ ہے اور خدا اس کو شفاء دے سکتا ہے۔ 10 پولس نے اس کو اونچی آواز سے پکار کر کہا، “اپنے پیروں پر کھڑے ہو جا ؤ ۔” فوراً وہ شخص اچھلا اور چلنا شروع کیا۔

11 لوگوں نے دیکھا کہ پولس نے جو کہا تھا وہ لکانیہ کی زبان میں پکار کر کہا تھا، “دیوتا انسان کی شکل میں ہمارے پاس آیا ہے۔” 12 انہوں نے برنباس کو “زیوس”+ 14‏:12 زیوس یونانی خداؤں کا اہم خدا۔* کہا اور زیوس کو “ہر میس”+ 14‏:12 ہرمیس یونان کا ایک خدا – یونان والے یقین کرتے تھے کہ یہ دوسرے خدا ؤں کا پیغام لے کر آتے تھے۔* کیوں کہ پولس ہی اہم کلام کر نے والا تھا۔ 13 “زیوس” کا ہیکل شہر سے قریب تھا اور اس ہیکل کا کاہن بیل اور پھول لے کر شہر کے دروازے پر کھڑا تھا۔ کاہن اور دوسرے لوگ اپنی قربانیوں کا نذرانہ پو لس اور بر نباس کو پیش کرنا چاہتے تھے۔

14 لیکن جب پو لس اور بر نباس رسول نے یہ جانا کہ وہ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اپنے کپڑے پھاڑ کر کودے اور مجمع میں پہونچے اور پکار کر کہنے لگے۔ 15 “اے لوگو یہ کیا کر رہے ہو؟ ہم خدا نہیں ہیں ہم تم جیسے انسان ہیں۔ہم تو تمہیں خوش خبری دے رہے ہیں۔ اور یہ کہنے آئے ہیں کہ تم لوگ ایسی بیکار کی حرکت کر نے سے باز آجا ؤ اور زندہ خدا کی طرف آؤ جس نے آسمان اور سمندر کو اور جو کچھ ان میں ہے اسی نے بنایا۔

16 “ گذرے ہو ئے زمانے میں خدا نے سب قوموں کو انکی اپنی راہ پر چلنے دیا۔ 17 لیکن خدا نے کچھ ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جس سے اس کی فطرت ظا ہر ہو تی ہے وہ تمہا رے لئے مہر بان ہے اور تمہارے لئے آسمان سے بارش بر ساتا ہے اور تمہا رے لئے منا سب وقت پر فصل اگاتا ہے۔ اور بے حساب رزق دیتا ہے اور تمہا رے دلوں کو خوشیوں سے بھر دیتاہے۔”

18 پولس اور برنباس نے لوگوں سے یہ سا ری باتیں کہیں۔ لیکن بڑی مشکل سے لوگوں کو ان کے لئے نذرانہ اور قربانیاں پیش کر نے سے روکا۔

19 تب بعض یہودی انطاکیہ اور اکو نیم آئے اور لوگوں کو اپنی طرف راغب کر کے پو لس کو سنگسار کیا اور اس کو مردہ سمجھ کر شہر کے باہر گھسیٹ کر لے گئے۔ 20 یسوع کے شاگرد پولس کے اطراف جمع ہو ئے تو وہ اٹھا اور واپس شہر گیا۔ دوسرے دن وہ اور بر نباس وہاں سے نکل کر د ربے شہر پہونچے۔

سیر یہ کے انطاکیہ کو واپسی

21 پولس اور بر نباس نے دربے میں بھی لوگوں کو خوش خبری سنا تے رہے اور کئی لوگ یسوع کو ماننے والے ہو گئے پولس اور بر نباس لسترہ ، اکونیم اور انطاکیہ کے شہروں کو وا پس گئے۔ 22 ان شہر وں میں انہوں نے یسوع کے ماننے وا لوں کی ہمت بندھا کر انہیں ایمان پر قائم رہنے کی نصیحت دیتے رہے۔ پو لس اور بر نباس نے کہا، “ہمیں خدا کی بادشاہت میں پہونچنے کے لئے کئی دکھ اٹھا نے پڑ تے ہیں۔” 23 پھر پولس اور بر نباس نے ہر کلیسا میں چند بزرگوں کو مقرر کیا اور روزہ رکھ کر دعا کر کے انہیں خداوند یسوع کے حوا لے کردیا یہ وہ بزرگ تھے جو ایمان لا چکے تھے۔

24 پو لس اور بر نباس پسیدیہ کے ذریعہ پمفیلیہ کے شہر پہونچے۔ 25 وہا ں پر گہ میں انہو ں نے خدا کے پیغام کی تبلیغ کی اور پھر اتالیہ کے شہرگئے۔ 26 پھر وہاں سے پولس اور بر نباس جہا ز کے ذریعہ شام میں انطا کیہ آئے جہاں اس شہر کے ایمان وا لے لوگوں نے ان کے کام کے لئے انہیں خدا کے ہا تھوں سپرد کر دیا اور جہاں انہوں نے اس کام کو پورا کیا۔

27 جب پولس اور بر نباس آئے تو انہوں نے کلیسا کے ایمان وا لے گروہ کو جمع کیا اور ان کے سامنے وہ سب کچھ بیان کیا جو خدا نے ان لوگوں کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے کہا، “خدا نے دوسرے ملکوں کے لئے بھی ایمان کا دروازہ کھو ل دیا ہے۔” 28 پو لس اور بر نباس وہاں ایک عرصہ تک مسیح کے شاگردوں کے ساتھ رہے۔

15

یروشلم میں اجلاس

1 تب کچھ لوگ یہوداہ سے انطا کیہ آئے اور غیر یہودی بھا ئیوں کو تعلیم دینے لگے کہ “تم اس وقت تک نجات نہیں پاسکتے جب تک تم موسیٰ کی شریعت کے مطا بق ختنہ نہ کر وا لو۔”

2 پو لس اور بر نباس اس تعلیم کے سخت خلاف تھے۔ اور انہوں نے ان آدمیوں سے بحث کی تو ان کے گروہ نے یہ طئے کیا کہ پولس بر نباس اور چند دوسرے لوگوں کو یروشلم روا نہ کیا جا ئے یہ لوگ وہاں کے رسو لوں او ر بزرگو ں سے اس موضوع پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے تھے۔

3 پس کلیسا نے ان کو روا نہ کیا وہ فیکیے اور سامریہ سے گذرتے ہو ئے گئے اور کہا کہ کس طرح غیر یہودی سچے خدا کی طرف رجوع ہو ئے۔ اس واقعہ سے سب بھا ئیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ 4 پولس بر نباس اور دوسرے لوگ یروشلم پہونچے جہاں تمام ایمان وا لے گروہ رسولوں اور بزرگوں نے ان استقبال کیا۔ پو لس برنباس اور دوسرے لوگوں نے ان سب باتوں کے متعلق بتا یا جو خدا نے ان کے ساتھ کیا تھا۔ 5 یروشلم میں کچھ ایمان وا لے کا تعلق فریسیوں سے تھا ، انہوں نے اٹھ کر کہا، “غیر یہودی اہل ایمان کو ختنہ کرا نا ہوگا ہمیں ان سے یہ کہنا چاہئے کہ وہ موسیٰ کی شریعت پر عمل کریں۔”

6 تب رسولوں اور بزرگوں نے جمع ہو کر اس مسئلہ پر غور کر نا شروع کیا۔ 7 اور کافی بحث کے بعد پطرس نے کھڑے ہو کر ان سے کہا، “میرے بھا ئیو تم اچھی طرجانتے ہو گزشتہ دنوں میں کیا ہوا۔خدا نے مجھے تم میں سے چنا کہ غیر یہودیوں میں خوش خبری کی تبلیغ کروں غیر یہودیوں نے جب مجھ سے خوشخبر ی سنی تو ایمان لا ئے۔ 8 خدا ہر ایک آدمیوں کے دلوں میں کیا ہے جانتا ہے اور وہ انہیں روح القدس سے معمور کر کے قبول کر تا ہے جیسا کہ اس نے ہمارے ساتھ کیا۔ 9 خدا کے پاس وہ لوگ ہم سے کچھ مختلف نہیں ہیں۔ جب وہ ایمان لائے تو خدا نے ان کے دلوں کو پاک کر دیا۔ 10 تو اب اس طرح کا جوا کیوں ان کی گردن پر رکھتے ہو ؟کیا تم خدا کو غصّہ میں لا نا چاہتے ہو ؟” ہم اور ہمارے باپ دادا اس بوجھ کو اٹھا نے کے قابل نہیں۔ 11 ہمیں یقین ہے کہ ہم اور یہ لوگ خدا وند یسوع کے فضل سے بچا لئے جائیں گے۔

12 تب سارا گروہ خاموش ہو کر پولس اور بر نباس کی تقریر سنتے رہے۔ پولس اور برنباس عجیب نشانیوں اورمعجز وں کے بارے میں کہتے رہے کہ جو خدا نے ان کے ذریعہ غیر یہودی لوگوں میں کیا۔ 13 جب پولس اور برنباس نے اپنی اپنی تقریریں ختم کیں تو یعقوب نے کہا، “اے میرے بھا ئیو! سنو۔ 14 شمعون نے ہم سے کہا کہ خدا نے کس طرح اپنی محبت کا اظہار غیر یہودیوں کے لئے کیا پہلی مرتبہ خدا نے غیر یہودیوں کو قبول کیا اور انہیں اپنا بنایا۔ 15 نبیوں کے الفاظ بھی اس کی تائید کر تے ہیں:

16 میں اسکے بعد دوبارہ آؤنگا۔

اور میں داؤد کے گھر کو دوبارہ بناؤنگا

جو گر چکا ہے۔

میں اس کے گھر کے حصّوں کو دوبارہ بناؤنگا جو گرادیا گیا ہے

میں اسکے گھر کو نیا بناؤنگا۔

17 تب تمام لوگ خدا وند کی تلاش کریں گے

تمام غیر یہودی بھی میرے ہی لوگ ہیں۔

خداوند نے یہ کہا

اور وہی ہے جو یہ سب کچھ کرتا ہے۔ عاموس۹‏:۱۱۔۱۲

18 یہ ساری چیزیں شروع ہی سے جانی گئی۔

19 “اس لئے میں سوچتا ہوں کہ ہمیں غیر یہودی بھائیوں کو تکلیف نہیں دینی چاہئے جو خدا کی طرف رجوع ہو تے ہیں۔ 20 اس کے باوجود ہمیں انکو ایک خط لکھنا ہو گا اور یہ سب باتیں کہنی ہو گی کہ:

ایسی چیزیں مت کھا ؤ جو بتوں کو پیش کی گئیں ایسی غذا ناپاک ہو تی ہے

اور حرام کاری کے گناہ نہ کریں۔

اور خون مت کھا ؤ اور ایسے جانور مت کھاؤ جو گلا گھونٹ کر مار دیا گیا ہو۔

21 یہ سب چیزیں مت کرو کیونکہ ابھی بھی یہودی ہر شہر میں ہیں جو موسٰی کی شریعت کی تعلیم دیتے ہیں اور موسٰی کی شریعت کے الفاظ ہر سبت کے دن تمام یہودی عبادت خانوں میں کئی نسلوں سے پڑھے جاتے ہیں۔”

غیر یہودیوں کے نام خط

22 رسولوں بزرگوں اور تمام کلیسا کے ایما ن والے گروہ نے طے کیا کہ چند آدمی پولس اور برنباس کے ساتھ انطاکیہ کو بھیجیں اور یہ کلیسا یہوداہ کو چنا جسے بر نباس بھی کہا جاتا ہے اور سیلاس کو چنا۔ یہ لوگ مانے ہوئے سردار اور یروشلم کے بھا ئیوں میں سے ہیں۔ 23 گروہ نےان لوگوں کے ساتھ خط روانہ کیا خط یہ ہے:

منجانب رسولوں ، بزرگو ں اور تمہارے بھائیوں ،انطاکیہ ، شام او کلکیہ شہروں میں رہنے والے تمام غیر یہودی بھا ئیوں کے لئے:

عزیز بھا ئیو!

24 ہم نے سنا ہے کہ ہماری کلیسا سے چند لوگ تمہارے پاس آئے ہیں اور وہ تکلیفیں پیدا کر تے ہیں جو کچھ انہوں نے کہا اس سے تمہیں تکلیف اور پریشانی ہوتی ہے۔ لیکن ہم نے ان سے ایسا کر نے کے لئے نہیں کہا۔ 25 ہم تمام متفق ہیں کہ چند آدمیوں کو چن کر تمہارے پاس بھیجیں وہ ہمارے عزیز دوستوں کے ساتھ آرہے ہونگے۔ بر نباس اور پولس جنہوں نے۔ 26 اپنی زندگیاں خدا وند یسوع مسیح کے لئے وقف کی تھی۔ 27 اس لئے ہم نے یہوداہ اور سیلاس کو ان کے ساتھ بھیجا وہ بھی اپنی زبان سے وہی باتیں کہیں گے۔ 28 کیونکہ ہم نے اور روح القدس نے طے کیا ہے کہ تمہیں کوئی زیادہ بار نہیں اٹھا نا ہو گا اور ہم جانتے ہیں کہ تم کو صرف انہیں چیزوں کو کر نا ہے۔

29 ایسی غذا مت کھا ؤ جو بتوں کو نذر کی گئی ہو۔

ایسے جانور کو مت کھا ؤ جنکی موت گلا گھونٹنے سے ہو ئی ہو۔

اور آپس میں جنسی گناہ مت کرو،

اگر تم ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھو گے تو سلامت رہو گے۔

والسلام

30 پولس ،برنباس، یہوداہ اور سیلاس یروشلم سے نکلے اور انطاکیہ پہونچے۔ انطاکیہ میں انہوں نے ایمان والے گروہ کو جمع کیا اور انہیں خط دیا۔ 31 جب شا گردوں نے خط پڑھا تو وہ خوش تھے خط سے انہیں تسلّی ملی۔ 32 یہوداہ اور سیلاس بھی نبی تھے جنہوں نے بھائیوں کو کئی باتیں اور نصیحتیں کر کے انہیں مضبوط کر دیا۔ 33 اور اسکے بعد یہوداہ اور سیلاس کچھ عرصہ ٹھہرے اور نکل گئے انہوں نے بھا ئیوں کی سلامتی کی دعائیں حاصل کی یہوداہ اور سیلاس واپس اپنے بھائیوں کے پاس یروشلم آئے جنہوں نے انکو بھیجا تھا۔ 34+ 14‏:34 آیت ۳۴ چند یونانی نسخوں کے اعمال میں آیت ۳۴ اس طرح ہے: لیکن سیلاس وہیں رہنا طے کیا*

35 لیکن پولس اور برنباس انطا کیہ میں ٹھہرے وہ اور دوسروں نے لوگوں کو خوشخبری دی اور خداوند کے پیغام کی تعلیم دی۔

پولس اور برنباس کا جدا ہو نا

36 چند دن بعد پولس نے برنباس سے کہا، “ہم نے کئی شہروں میں خدا وند کا پیغام سنایا ہے۔ ہمیں ان شہروں کو دوبارہ واپس جا کر ان سے ملنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ وہ کیسے ہیں۔” 37 برنباس چاہتا تھا کہ یوحنا مرقس بھی ان کے ساتھ چلے۔ 38 کیوں کہ ان کے پہلے سفر میں یوحنا مر قس نے انہیں پمفیلیہ میں ہی چھوڑ دیا تھا اور انکے ساتھ کام کو جاری نہ رکھا تھا اسی لئے پولس نے یہ خیال نہ کیا کہ اسے ساتھ لے جائیں۔ 39 پولس اور برنباس میں اس سلسلے میں زور دار بحث ہو ئی اور دونوں نے علحیٰدہ ہ ہو کر الگ راستہ اختیار کرلیا۔ برنباس جہاز سے قبرص گیا اور اپنے ساتھ مرقس کو لے گیا۔ 40 پولس نے سیلاس کو اپنے سفر میں ساتھ لیا انطاکیہ میں بھا ئیوں نے پولس کو خدا وند کی نگرا نی میں باہر بھیجا۔ 41 پو لس اور سیلاس کلیساؤں کو مضبوط کر تا ہوا شام اور قلیقیہ سے ہو تے ہو ئے گزرا۔

16

تیُمتھُیِس کا پولس اور سیلاس کے ساتھ جانا

1 پولس دربے اور لسترہ کے شہروں میں گیا۔ ایک مسیح کا ماننے والا جس کا نام تیمتھیس تھا وہاں رہتا تھا۔ تیمتھیس کی ماں ایک یہودن تھی جو ایمان والی تھی مگر اسکا باپ یونانی تھا۔ 2 لسترہ اور اکونیم کے ایمان والے شہریوں نے اسکے متعلق اچھی باتیں کہیں تھیں۔ 3 پولس نے چاہا کہ تیمتھیس بھی اسکے ساتھ سفر کرے کیوں کہ تمام یہودی جو اس علا قہ میں رہتے تھے اچھی طرح جانتے تھے کہ تیمتھیس کا باپ یونانی تھا یہودی نہ تھا۔ اس لئے پولس نے یہودیوں کو خوش رکھنے کے لئے تیمتھیس کا ختنہ کر وایا۔ 4 تب پولس اور اسکے دوسرے ساتھیوں نے دوسرے شہری علاقوں کو گئے اور وہاں ماننے والوں کو یروشلم کے بزرگوں اور رسولوں کے احکام اور فیصلوں سے آ گاہ کیا۔ انہوں نے ایمان والوں سے کہا کہ ان احکام کی پابندی کریں۔ 5 پس کلیسا دن بدن ایمان میں مضبوط اور طاقتور ہو تی چلی گئیں۔ انکی تعداد بڑھتی گئی۔

پولس کو مکدینیہ بلایا گیا

6 پولس اور اسکے ساتھی فر یگیہ اور گلاتیہ سے گزرے کیوں کہ روح القدس نے انہیں ایشیاء کے ملک میں کلام کی خوشخبری سنانے سے منع کیا تھا۔ 7 تب وہ ملک موسیہ کے قریب گئے اور وہاں سے وہ ملک تبونیہ جا نا چاہتے تھے لیکن یسوع کی روح نے انہیں جانے نہیں دیا۔ 8 موسیہ سے گزر کر شہر تروآس پہونچے۔

9 اس رات پولس نے رویا میں دیکھا کہ ایک شخص مگدنیہ سے اسکے پاس آیا ہے اور وہ آدمی جو کھڑا ہو ا تھا اس سے التجا کی کہ “وہ مگدنیہ سے گزر کر ہماری مدد کرے۔” 10 اس رات پولس نے رویا میں دیکھنے کے فو رًا بعد مگدنیہ جا نے کا ارادہ کیا۔ ہمیں یہ قائل کیا گیا کہ خدا نے ہمیں بلا یا ہے تا کہ ہم ان لوگوں کو خوشخبری دیں۔ 11 ہم نے ٹراوس سے جہاز کے ذریعہ جزیرہ سماتر پہونچ کر دوسرے دن نیا پلس کے شہر پہونچے۔ 12 پھر ہم فلیپی گئے۔ فلیپی مگدنیہ کے صوبہ کے حصہ کا ایک اہم شہر ہے اور یہ رومیوں کی بستی ہے اور ہم وہاں چند روز ٹھہرے۔

13 سبت کے دن ہم شہر کے دروازے کے باہر پرندی کے پاس پہونچے کیوں کہ ہم نے سوچا کہ دعا کے لئے جمع ہو نے کی ایک خاص جگہ تلاش کر لی۔ وہاں چند عورتیں جمع تھیں ہم نے بیٹھ کر ان سے گفتگو کی۔ 14 وہاں لدیہ نامی ایک عورت جو تھواتیرہ شہر کی تھی جو قرمزی رنگ کے کپڑے فروخت کر تی تھی۔ اور سچے خدا کی عبادت کر تی تھی۔خدا وند نے اس کے دل کو پولس کی باتیں سننے کے لئے کھول دیا۔ اور پولس نے جو کچھ کہا اس کی باتوں پر وہ ایمان لائی۔ 15 تب وہ عورت اور اسکے گھر کے تمام لوگوں نے بپتسمہ لیا تب اس عورت نے اپنے گھر میں ہمیں مدعو کیا اور کہا، “اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ میں خداوند یسوع کی سچی ماننے والی ہوں تو تم آؤ اور میرے مکان میں ٹھہرو”اور اس نے اپنے مکان میں ٹھہر نے کے لئے مجبور کیا۔

پولس اور سیلاس جیل میں

16 ایک دفعہ جب ہم دعا کرنے کی جگہ جا رہے تھے وہاں ہمیں ایک خدمت گذار لڑ کی ملی جس میں روح+ 16‏:16 روح یہ روح شیطانی روح تھی جسے خاص علم تھا۔* تھی یہ روح اس کو مستقبل کے پیش آنے والے واقعات کی پیشین گوئی کر نے میں مددکر تی تھی۔ اس طرح سے اپنے مالکوں کے لئے کا فی رقم کمائی تھی۔ 17 یہ لڑکی ہمار ے اور پولس کے ساتھ ہو گئی۔ اس نے بلند آواز میں کہا، “یہ لوگ عظیم تر خدا کے بندے ہیں اور تمہیں نجات کا راستہ بتانے آئے ہیں۔جس سے تم بچ سکو گے۔” 18 اس طر ح وہ کئی روز تک ایسا کرتی رہی پولس اس کے طرز عمل سے رنجیدہ ہوکر پلٹا اور رُ وح سے کہا، “میں تجھے یسوع مسیح کے نام سے حکم دیتا ہوں کہ تم ا س میں سے باہر نکل جاؤ “اور اسی لمحہ وہ روح باہر نکل گئی۔”

19 جب اس لڑ کی کے مالکو ں نے دیکھا کہ ان لوگوں نے اس لڑ کی کو بیکار بنا دیا ہے اور وہ لوگ اس لڑکی سے کوئی رقم نہیں حاصل کر سکتے تو انہوں نے پو لس اور سیلاس کو پکڑا حاکموں کے پاس چوک میں کھینچ لے گئے۔ 20 انہو ں نے شہر کے حاکموں سے کہا، “یہ لوگ یہودی ہیں اور شہر میں گڑ بڑ پیدا کرتے ہیں۔ 21 یہ لوگ ہما رے شہر کے لوگوں کو اپنی تعلیم دیتے ہیں ان چیز وں کو کرنے کے لئے کہتے ہیں جو ان کے لئے صحیح نہیں ہیں۔ ہم رومی شہری ہیں اور ان کی باتوں کو قبول نہیں کر سکتے۔”

22 لوگ پولس اور سیلاس کے مخا لف ہو گئے تھے اور شہر کے مقتدروں نے پولس اور سیلاس کے کپڑے پھاڑ کر اتار دئیے اور چند لوگوں سے کہا کہ انہیں مارے۔ 23 انہوں نے پولس اور سیلا س کو کئی گھونسے ما رے اور پھران حاکموں نے پولس اور سیلاس کو قید خانہ میں ڈال دیا۔ حاکموں نے داروغہ سے کہا، “ان کی ہوشیاری سے نگرانی کرو۔” 24 ان کا حکم سن کر پولس اور سیلاس کو جیل کے اندرونی حصّہ میں رکھا اور ان کے پا ؤں کو وزنی لکڑی کے تختوں سے باندھ دیا۔

25 آدھی رات کے قریب پولس اور سیلاس دعا کرتے ہوئے خدا کے لئے گانا گارہے تھے اوردوسرے قیدی نہیں سن رہے تھے۔ 26 اسی وقت اچانک ایک بڑا زلزلہ آیا یہ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اس سے جیل کی اصل بنیادیں تک ہل گئی اور جیل کے سب دروازے کھل گئے تمام قیدی اپنی زنجیروں سے آزاد ہو گئے۔ 27 داروغہ جاگا اور دیکھا کہ جیل کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ اس نے سوچا تمام قیدی جیل سے فرار ہو چکے ہونگے۔ اس لئے اس نے اپنی تلوار نکا لی اور اپنے آپ کو مارڈالنا چا ہا۔ 28 لیکن پولس نے چلا کر کہا، “اپنے آپ کو نقصان مت پہونچاؤ کیوں کہ ہم سب یہاں موجود ہیں۔”

29 تب داروغہ نے کسی سے روشنی لا نے کو کہا، “اور اندر دوڑا وہ کانپ رہا تھا وہ پولس اور سیلا س کے سامنے گر گیا۔ 30 وہ انہیں باہر لا یا اور ان سے کہا، “اے صاحبو! نجات کے لئے مجھے کیا کر نا چا ہئے؟”

31 انہوں نے کہا، “تم خداوند یسوع پر ایمان لا ؤ تم اور تمہارے گھرکے سب لوگ نجات پا ؤگے۔” 32 تب پولس اور سیلا س نے خد اوند کا پیغام داروغہ کو سنایا اور اس کے گھر میں رہنے والے تمام لوگوں کو بھی۔ 33 داروغہ ا س وقت رات میں پولس اور سیلاس کو لے جاکر ان کے زخم دھو ئے اور مرہم پٹی کی اور اسی وقت وہ اپنے لوگوں کے ساتھ ان سے بپتسمہ لیا۔ 34 اسکے بعد داروغہ نے پولس اور سیلاس کو اپنے گھر لے جا کر کھا نا پیش کیا سب لوگ اس وقت بہت خوش تھے کیوں کہ وہ سب خدا پر ایمان لا ئے تھے۔

35 دوسرے دن حاکموں نے چند حوالداروں کو داروغہ کے پاس روانہ کیا “یہ کہنے کے لئے کہ وہ ان لوگوں کو رہا کردے۔”

36 داروغہ پولس سے کہا، “سپاہیوں کے ساتھ حاکموں نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ تمہیں رہا کر دے۔لہذا تم اب آزاد ہو اور تم سلامتی کے ساتھ جا سکتے ہو۔”

37 لیکن پولس نے سپاہیوں سے کہا، “تمہارے حاکموں نے ہماری غلطیوں کو عدالت میں ثابت نہیں کیا۔لیکن انہوں نے کہا ہمیں لوگوں کے سامنے مارا پیٹا۔ اور ہمیں جیل میں ڈال دیا۔ ہم رومی شہری ہیں۔ اور ہمارے بھی حقوق ہیں۔ اور اب تمہارے حاکم ہمیں راز داری سے رہا کر نا چاہتے ہیں۔ نہیں! تمہارے حاکموں کو آنا ہو گا اور ہمیں یہاں سے رہا کر نا ہو گا۔”

38 سپاہیوں نے واپس جا کر اپنے حاکموں سے جو کچھ پو لس نے کہا تھا کہہ دیا جب سرداروں نے یہ سنا کہ پولس اور سیلاس رومی شہری ہیں تو وہ ڈر گئے۔ 39 وہ آئے اور آکر پولس اور سیلاس سے معافی مانگی اور انہیں جیل سے رہا کر کے انہیں شہر سے باہر جا نے کے لئے کہا۔ 40 لیکن جب پو لس اور سیلاس جیل سے باہر آئے اور لدیہ کے گھر گئے وہاں کچھ شاگردوں کو انہوں نے دیکھا جنہوں نے انہیں آرام پہونچایا تھا ۔ تب پولس اور سیلاس وہاں سے روانہ ہو ئے۔

17

پولس اور سیلاس کا تھسلنیکا میں ہو نا

1 پو لس اور سیلاس امفلپس اور اپلونیہ کے شہروں سے گزر کر تھیسلنیکا کے شہر میں آئے وہاں شہر میں ایک یہودی ہیکل تھا۔ 2 پولس اندر یہودی ہیکل میں یہودیوں کو دیکھنے گیا جیسا کہ اس نے ہمیشہ کیا۔ ہر سبت کے دن تین ہفتوں تک صحیفوں کے بارے میں یہودیوں سے بحث کی۔ 3 پو لس نے انجیل کے بارے میں یہودیوں کو سمجھا یا اور دلیل پیش کی کہ مسیح کو دکھ اٹھا کر مردوں میں سےجی اٹھنا ضروری تھا۔ پو لس نے کہا ، “یہی یسوع جن کی میں تمہیں خبر دیتا ہوں یہی مسیح ہے۔” 4 ا ن میں سے کچھ یہودیوں نے تسلیم کیا اور پولس اور سیلاس نے طے کیا کہ ان کے ساتھ مل جائیں وہاں چند یو نانی لوگ بھی تھے۔ جو سچے خدا کی عبادت کر تے تھے اور بہت ساری شریف عورتیں بھی تھیں۔ جو انکے ساتھ شریک ہو گئیں۔

5 لیکن وہ یہودی جنہوں نے ایمان نہیں لا یا وہ حسد کر نے لگے انہوں نے چند غنڈوں کو کرایہ پر لے آیا جنہوں نے شہر میں آدمیوں کو جمع کر کے دنگا مچا یا مجمع نے یاسون کے گھر جا کر پو لس اور سیلاس کو تلاش کیا وہ پولس اور سیلاس کو لاکر لوگوں کے سامنے پیش کر نا چاہتے تھے۔ 6 لیکن وہ لوگ پو لس اور سیلاس کو نہ پا سکے تب انہوں نے یاسون اور دوسرے کئی ایمان والوں کو شہر کے حاکموں کے سامنے کھینچ لایا اور کہا، “ان لوگوں نے ہر جگہ دنیا بھر میں دنگا مچایا ہے۔ اور اب یہ لوگ یہاں بھی آگئے ہیں۔ 7 یامون نے ان لوگوں کو اپنے گھر میں رکھا ہے۔ اور وہ قیصریہ کی شریعت کے خلاف ورزی کر رہے ہیں اور وہ دوسرا بادشاہ ہو نے کا دعوٰی کر تا ہے جس کا نام یسوع ہے۔”

8 شہر کے حاکموں اور دوسرے لوگوں نے سنا اور وہ بہت گھبرا گئے۔ 9 انہوں نے یامون اور دوسرے ایمان والوں کی ضمانت لیکر انہیں چھوڑ دیا۔

پولس اور سیلاس کی بیریا کو روانہ ہو نا

10 اسی رات ایمان والوں نے پو لس اور سیلاس کو شہر بیریا کو روانہ کیا۔ بیریا میں پولس اور سیلاس یہودیوں کے ہیکل میں گئے۔ 11 یہودی تھیسلنیکا کے یہودیوں سے بہتر لوگ تھے ان یہودیوں نے پو لس اور سیلاس نے جو خدا کا پیغام دیا دلجوئی سے قبول کیا اور انہوں نے روزانہ صحیفوں کی تحقیق کر تے اور پڑھتے وہ جانتے تھے کہ آیا یہ سب باتیں سچ ہیں۔ 12 کئی یہودی ایمان لا ئے اور کئی اہم یونانی مرد اور عورتیں بھی ایمان لائے۔

13 لیکن تھسلنیکا کا کے یہودیوں نے جب یہ سنا کہ پولس کلام خدا کو بیریا میں لوگوں کو سنا رہا ہے تو وہ بیریا آپہونچے اور آکر لوگوں کو پریشان کر نا شروع کردیا۔ 14 چنانچہ ایمان والوں نے پولس کو جلد ہی وہاں سے سمندر کے کنارے روانہ کر دیا لیکن سیلاس اور تموتھی بیریا ہی میں ٹھہر گئے۔ 15 اور ایمان والوں نے جو پولس کے ساتھ تھے اسکو ایتھنیز شہر لے گئے تب وہ سیلاس اور تیمتھیس کے لئے یہ پیام پو لس کی طرف سے لا ئے کہ جتنا جلد ہو سکے میرے پاس آؤ۔

پولس کا ایتھینز میں ہونا

16 پولس ایتھینز میں سیلاس اور تیمتھیس کا انتظار کر رہا تھا جب اس نے دیکھا کہ شہر بتوں سے بھرا ہے تو اسکو بہت تکلیف ہو ئی۔ 17 پولس نے یہودی ہیکل میں یہودیوں اور یونانیوں سے بات کی جو سچے خدا کی عبادت کرتے تھے۔ اورشہر کے تجارت پیشہ کلیسا سے بھی بات کی اس طرح ہر روز پو لس یہی کرتا رہا۔ 18 چند اپیکیو رہن اور اسٹوٹک فلسفیوں نے اس سے بحث و تکرار شروع کی۔

ان میں سے چند نے کہا، “یہ آدمی ان چیزوں کی بات کر تا ہے جو خود نہیں جانتا کہ کیا کہہ رہا ہے پولس یسوع کی خوشخبری کے تعلق سے اشاعت کرتا ہے یعنی موت سے جی اٹھنے کی بات کہہ رہا تھا اس لئے انہوں نے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں کو ئی دوسرے خدا ؤں کے بارے میں کہتا ہے؟”

19 انہوں نے پو لس کو اریوپگس کی عدالت میں لے آئے اور کہا، “ہم تمہاری نئی تعلیمات کے متعلق جاننا چاہتے ہیں جو تم تبلیغ کر رہے ہو۔ 20 جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ ہمارے لئے بالکل نئی بات ہے اور ہم نے اس سے پہلے اس قسم کی باتیں نہیں سنیں۔ اور ہم جاننا چاہتے ہیں کہ تمہاری تعلیم کے معنی کیا ہیں ؟” 21 ایتھینز کے تمام لوگ اور دوسرے جو مختلف مما لک سے ایتھینز میں بس گئے تھے۔ وہ اپنا وقت نئی نئی چیزوں کے تعلق سے باتیں کر تے ہو ئے صرف کر تے تھے۔

22 اس لئے پو لس اریوپگس کی عدالت میں اٹھ کھڑا ہوا اور کہا، “ایتھینز کے لوگو! میرا مشاہدہ ہے تم لوگ ہر چیز میں بہت مذ ہبی ہو۔ 23 میں تمہارے شہر سے گزر رہا تھا تب میں نے سب کچھ دیکھا جن کی تم عبادت کر تے ہو۔ میں نے ایک قربان گاہ کو دیکھا جس پر یہ الفاظ لکھے تھے۔ “اس خدا کے لئے جو نامعلوم ہے ” تم اس خدا کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے لئے نامعلوم ہے میں اس خدا کے متعلق کہتاہوں کہ،

24 وہ خدا جس نے ساری دنیا کی تخلیق کی اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا وہی زمین اور آسمان کا خداوند ہے۔ وہ آدمی کے بنائے ہو ئے ہیکل میں نہیں رہتا۔ 25 یہ وہی خدا ہے جو انسان کو زندگی سانس اور ہر چیز دیتا ہے۔ وہ آمیوں سے کسی قسم کی مدد کا طلبگار نہیں ہوتا۔ اس کے پاس ہر چیز موجود ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔ 26 خدا نے ایک آدمی کی تخلیق کی اور اس سے لوگوں کی مختلف قوموں کو بنایا اور دنیا میں ہر جگہ رکھا۔ خدا نے طے کیا ہے کہ کب اور کہاں انہیں رہنا چاہئے۔

27 خدا لوگوں سے چاہتا ہے کہ اسکو ڈھونڈیں اسکو ہر جگہ تلاش کریں لیکن وہ ہم میں سے بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ 28 ہم اسکے ساتھ رہتے ہیں۔ ہم اسکے ساتھ چلتے ہیں۔ ہم اس کے ساتھ ہیں۔ جیسا کہ تمہارے بعض شاعروں نے کہا ہے: کہ ہم اسکے بچے ہیں۔

29 ہم خدا کے بچے ہیں اس لئے تمہیں یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ خدا ایسا ہے جیسا کہ ہم تصور کرتے ہیں اور بناتے ہیں وہ کسی سونا چاندی یا پتھر کے مطابق بنایا نہیں گیا ہے 30 زمانہ قدیم میں لوگوں نے خدا کو نہیں پہچانا لیکن خدا نے اس بھول کو در گزر کردیا لیکن خدا اب ہر آدمی سے یہ مانگ کر تا ہے کہ وہ اپنے دل اور زندگی کو بدل ڈالیں۔ 31 خدا نے طے کر لیا ہے کہ ایک دن جس میں وہ تمام دنیا کے لوگوں کا انصاف کریگا وہ ایک آدمی کو ایسا کر نے کے لئے استعمال کریگا جسے اس نے بہت پہلے چن رکھا ہے اور یہ ثابت کر نے کے لئے اس نے اس آدمی کو موت سے اٹھا یا ہے۔”

32 جب انہوں نے مردے کو جلانے کے متعلق سنا تو بعض لوگوں نے ہنسی اڑائی اور بعض نے کہا، “ہم ان چیزوں کے بارے میں دوسرے وقت میں باتیں کریں گے۔” 33 پو لس ان لوگوں میں سے چلا آیا۔ 34 لیکن ان میں سے چند لوگ پولس کے ساتھ مل گئے اور اہل ایمان ہوئے ان میں سے ایک دیونیسی یس تھا جو ایریو پگاس کا ایک حاکم تھا۔ اور دوسری ایمان لا نے والی ایک عورت تھی جس کا نام دمرس تھا اس کے علا وہ کچھ اور بھی ایمان لائے۔

18

پولس کا کورنتھ میں ہونا

1 اسکے بعد پولس ایتھنز کو چھوڑ کر کورنتھ شہر آیا۔ 2 کورنتھ میں پولس عقیلہ نامی یہودی سے ملا۔ عقیلہ پنطس نامی جگہ میں پیدا ہوا تھا عقیلہ اور اسکی بیوی پر سکلہ اطالیہ (اٹلی) سے حال ہی میں آئے تھے اور کرنتھس میں بس گئے تھے۔ انہوں نے اطالیہ اس لئے چھو ڑا تھا کیوں کہ کلا ڈیس+ 18‏:2 کلا ڈیس روم کا بادشاہ ۵۴‏-۴۱عیسوی* نے تمام یہودیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ روم کو چھوڑ دیں۔پولس اکولہ اور پر سکلہ سے ملنے گیا۔ 3 وہ خیمہ بنا نے والے تھے اور پو لس کا بھی وہی پیشہ تھا۔ پو لس ان کے ساتھ رہ کر کام بھی کیا۔ 4 ہر سبت کے دن پو لس یہودی ہیکل میں یہودیوں اور یونانیوں سے بات کیا کرتا اور انہیں یسوع کو ماننے کی رغبت دلا تا۔ 5 سیلاس اور تموتھی نے مقدونیہ سے کورنتھ پولس کے پاس آئے۔ تب پولس نے اپنا سارا وقت لوگوں کو خوشخبری سنانے میں وقف کیا اس نے یہودیوں کو بتا یا کہ یسوع ہی مسیح ہے۔ 6 لیکن یہودیوں نے پولس کی تعلیمات کو قبول نہیں کیا اور اسے برا کہا۔ اس لئے پولس نے اپنے کپڑوں کی گرد جھا ڑ کریہودیوں سے کہا، “اگر تمہیں نجات نہ ملے تو یہ تمہاری اپنی غلطی ہو گی۔ میں وہ سب کچھ کر چکا ہوں جو میں کر سکتا ہوں۔ اب یہیں سے میں غیر یہودیوں کے پاس جاؤں گا۔”

7 پولس اٹھا اور یہودی ہیکل سے کسی ططِس یُوستس کے مکان میں گیا یہ آدمی سچّے خدا کا عبادت گزار تھا اس کا مکان یہودی عبادت خانے سے ملا ہوا تھا۔ 8 کرسپس یہودی ہیکل کا سردار تھا۔ کرسپس اور اس کے گھر میں رہنے والے تمام لوگوں نے خدا وند پر ایمان لا ئے۔نیز کورنتھ کے رہنے والے دوسرے کئی لوگوں نے پولس کی باتوں کو سنا ایمان لائے اور بپتسمہ لیا۔

9 رات میں پولس نے رویا میں دیکھا کہ خدا وند نے اس سے کہا، “مت ڈرو تبلیغ کو جاری رکھو اور رکو مت۔ 10 میں تمہارے ساتھ ہوں کو ئی بھی تمہارے اوپر حملہ کر کے نقصان نہ پہنچا سکیگا کیوں کہ میرے بہت سے لوگ اس شہر میں ہیں۔” 11 پولس وہاں ڈیڑھ سال رہا اور لوگوں کو خدا کی تعلیمات سکھا تارہا۔

پولس کی گلّیو کے سامنے پیشی

12 گلّیو ملک اخیہ کا صوبہ دار بنا تھا تب کچھ یہودی پولس کے مخالف بن کر آئے اور اسے عدالت میں لا ئے۔ 13 یہودیوں نے گلّیو سے کہا، “یہ شخص لوگوں کو خدا کی عبادت کر نے کے لئے وہ تعلیمات کو سکھا رہا ہے جو ہمارے یہودی قانون کے خلاف ہے۔”

14 پولس کہنے کے لئے تیار ہوا لیکن گلّیو نے یہودیوں سے کہا، “اے یہودیو! میں یقیناً تم لوگوں کی ضرور سنتا اگر تم لوگ کسی برے کام یا خطر ناک جرم کے بارے میں شکایت کر تے۔ 15 لیکن تم لوگ جو بحث کر رہے ہو الفاظ ناموں اور تمہارے یہودی قانون کے متعلق ہے۔ اس لئے اس مسئلہ کو جو تمہارا ہے تمہیں اپنے طور پر حل کرنا ہوگا میں اس قسم کے موضوعات کا منصف بننا نہیں چاہتا۔” 16 اور گلّیوں نے انہیں عدالت سے جانے کے لئے کہا۔

17 تب ان سب لوگوں نے ہیکل کے سردار سوستھینس کو پکڑا اور اسکو عدالت کے سامنے مارا لیکن گلّیونے ان تمام باتوں کی پر واہ نہ کی۔

پولس کا انطاکیہ کی طرف واپسی

18 پولس نےبھا ئیوں کے ساتھ کئی دن گزارے تب نکل کر جہاز کے ذریعہ ملک شام گیا۔ پر سکّلہ اور اکولہ بھی اسکے ساتھ تھے۔ ایک جگہ جو کنخر ییہ کہلا تی ہے۔ پولس نے اپنے بال کٹوائے اس کا مطلب یہ تھا کہ اس نے خدا سے عہد کیا تھا۔ 19 تب وہ افُس شہر گیا جہاں پولس نے پر سکلّہ اور اکولہ کو چھوڑا تھا۔ جب پو لس افُس میں تھا تو وہ یہودیوں کے ہیکل میں گیا اور یہودیوں سے بات کی۔ 20 یہودیوں نے پو لس سے مزید اور کچھ دن ٹھہر ے رہنے کو کہا لیکن اس نے انکی نہیں مانی۔ 21 پولس نے ان سے کہا، “اگر خدا نے چاہا تو میں دوبارہ تمہارے پاس آؤنگا۔” تب افُس سے نکلا اور جہاز سے روانہ ہوا۔

22 پولس قیصریہ شہر کو گیا اور یروشلم میں وہ کلیسا کے ایمان والے گروہ کو سلام کر کے انطاکیہ آیا۔ 23 پولس کچھ عرصہ انطاکیہ سے گلتیہ اور فروُگیہ کے ذریعہ دوسرے کئی شہروں اور قصبات کو گیا اور وہاں شاگردوں کو مضبوط کر تا گیا۔

اپلّوس، افیُس اور اخیہ کا (کورنتھیں) میں ہو نا

24 اپلّوس جو یہودی تھا افیُس کو آیا اپلّوس سکندریہ میں پیدا ہوا تھا وہ ایک تعلیم یا فتہ آدمی تھا۔ اس کو صحیفوں کے متعلق بہت اچھی معلو مات تھی۔ 25 اپلّوس خداوند کے طریقہ کے متعلق پڑھا تھا اور جب کبھی یسوع کے متعلق لوگوں سے کہتا تھا تو جوش میں آجاتا وہ یسوع کے متعلق صحیح صحیح تعلیم دیتا جو اس نے یسوع سے حاصل کی تھی۔ لیکن وہ یوحنا کے بپتسمہ کے متعلق سے بھی واقف تھا۔ 26 اپلّس نے یہودی ہیکل میں بلا خوف کہنا شروع کیا پرسکّلہ اور اکولہ نے اسکو تعلیم دیتے سنا ہے وہ اسکو اپنے گھر لے گئے اور اسکو خدا کی راہ کو اور زیادہ صحیح طریقہ سے بتایا۔

27 ا پلّوس شہر اخیہ کے صوبہ جانا چاہتا تھا اسلئے افیُس کے بھا ئیوں نے اس کی مدد کی انہوں نے اخیہ میں یسوع کے شاگردوں کو ایک خط لکھا کہ وہ اپلّوس کا استقبال کریں۔ اخیہ کے شاگرد خدا کے فضل سے ایمان لائے تھے جب اپلّوس وہاں پہونچا تو انہوں نے اس کی بڑی مدد کی۔ 28 سب لوگوں کے سامنے اس نے یہودیوں سے زور دار بحث کی اور یہودیوں کے مقابلے میں جیت گیا۔ اس نے صحیفوں کی شہادت سے ثابت کیا کہ یسوع ہی مسیح ہے۔

19

پولس افیُس

1 جب اپلّوس کورنتھیں شہر میں تھا پولس کئی جگہوں پر گیا جو شہر افیُس کے راستے میں تھے۔ افیس میں پولس اپنے چند دیگر شاگردوں سے ملا۔ 2 پولس نے لوگوں سے پو چھا! “ کیا تم نے ایمان لا تے وقت روح القدس کو پایا؟” ان شا گردوں نے جواب دیا، “ہم نے کبھی کسی وقت بھی روح القدس کے متعلق نہیں سنا۔”

3 پو لس نے ان سے پوچھا، “تم نے کس قسم کا بپتسمہ لیا؟” انہوں نے جواب دیا، بپتسمہ وہی تھا جیسا کہ یو حناّ نے سکھا یا۔

4 پولس نے کہا، “یو حناّ نے لوگوں سے کہا کہ بپتسمہ لے کر اپنی زند گیوں کو تبدیل کریں۔ اور اس نے ان سے کہا کہ اس پر ایمان لا ئیں جو اس کے بعد آنے وا لا ہے اور وہ آدمی یسوع ہے۔”

5 جب ان شاگردوں نے یہ سنا تو انہوں نے خدا وند یسوع کے نام کا بپتسمہ لیا۔ 6 تب پو لس نے اپنے ہاتھ ان پررکھے اور وہ روح القدس ان پر نازل ہوا اور وہ مختلف زبانیں بولنے اور نبوت کر نے لگے۔ 7 اس وقت تقریبا ً بارہ آدمی اس گروہ میں تھے۔

8 پو لس یہودیوں کے ہیکل میں گیا اور بلا خوف تقریر کی اس نے تقریباً تین ماہ تک ایسا کیا اس نے یہودیوں سے بات کی اور انہیں خدا کی بادشاہت کے متعلق رغبت دلا ئی۔ 9 لیکن چند یہودی جو مخا لف ہو گئے تھے انہوں نے ایمان لا نے سے انکار کیا اور انہوں نے لوگوں کے سامنے خدا کی راہوں کو برا بھلا کہا اور پولس ان یہودیوں سے الگ ہو گیا اور یسوع کے شاگردوں کو الگ کر لیا۔ پو لس ہر روز اسکول میں بحث کیا کر تاتھا اسکو ل کو ترتس نے قائم کیا تھا۔ 10 پولس دو برس تک یہی کرتا رہا۔ جس کے نتیجے میں تمام یہودی اور یونانی نے جو ایشیاء کے ملک میں رہتے تھے خدا وند کے کلام کو سنا۔

سکوا کے بیٹے

11 خدا نے پو لس کے ذریعے چند خاص معجزے دکھا ئے۔ 12 کچھ لوگ رومال اور کپڑے جو پولس نے استعمال کئے تھے لیکر بیمار لوگوں پر ڈالتے او روہ بیماری سے اچھے ہو جاتے اور بری روحیں ان میں سے نکل جاتی تھیں۔

13‏-14 کچھ یہودی جو جھاڑ پھونک کیا کر تے تھے تاکہ بدروحیں نکل جائیں اور سکوا کے سات لڑکے بھی یہی کام کر تے تھے سکوا ایک اعلیٰ پادری تھا وہ لوگ “یسوع کا نام لیکر بد روحوں کو نکالنے کی منا دی کر تے “اور کہتا کہ میں تمہیں اس خدا وند یسوع کے نام جس کا منادی پولس کرتا ہے حکم دیتا ہوں تم باہر نکل جاؤ۔”

15 لیکن ایک دفعہ ایک بد روح نے ان یہودیوں سے کہا، “میں یسوع کو جانتا ہوں اور پو لس کو بھی جانتا ہوں لیکن یہ بتاؤ کہ تم کون ہو ؟”

16 تب وہ آدمی جس میں بد روح تھی کود کر ان پر جا گرا وہ ان تمام لوگوں سے زیادہ طا قتور تھا۔ اس نے ان تمام کو مارنا شروع کیا اور کپڑے پھا ڑ ڈالے اور وہ یہودی ننگے اور زخمی ہو کر بھاگ گئے۔

17 تمام یہودی اور یونانی جو افیس میں رہتے تھے سب کو یہ بات معلوم ہوئی جس وجہ سے سب میں خدا کا خوف آگیا اور سب لوگ خدا وند یسوع کے نام کی حمد کر نے لگے۔ 18 کئی اہل ایمان آنا شروع کئے اور برائی کے کام جو وہ کر چکے تھے اسکا اقرا رکر نے لگے۔ 19 بہت سے ایمان والے جو جادو کر تے تھے ان جادو کی کتابوں کو جمع کیا اور سب کے سامنے جلا ڈالیں ان کتابوں کی قیمت ۵۰۰۰۰ چاندی کے سکّے تھی۔ 20 اس طرح خدا وند کا پیغام تیزی کے ساتھ پھیل رہا تھا اور زیا دہ سے زیادہ لوگ ایمان لا نے والے ہو گئے۔

پولس کے سفر کا منصوبہ

21 ان واقعات کے بعد پولس مگدنیہ اور اخیہ سے گزرتے ہو ئے یروشلم جانے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے کہا، “یروشلم جانے کے بعد مجھے روم بھی جانا چاہئے۔” 22 پولس نے تمیتھیس اور اراستس کو جو دونوں اس کے مدد گار تھے مگدنیہ بھیجا اور وہ ایشیاء میں کچھ روز اور رہا۔

افیس میں مصیبت کا نازل ہونا

23 اس دوران افیُس میں کچھ یسوع کی راہ کے بارے میں شدید فساد ہوا۔ 24 ارتمس نامی ایک چاندی بنانے والا تھا جو چاندی میں اترمس دیوی کے ہیکل سے مشابہ نمونہ بنایا کا ریگروں نے اس تجارت کے ذریعہ کافی رقم حاصل کی۔

25 دیمیریس نے ان کاری گروں کو اور دوسروں کو بھی جو اسی قسم کی تجارت کررہے تھے جمع کیااور کہا، “لوگو! تم جانتے ہو کہ ہم اس کام سے کافی رقم کما رہے ہیں۔ 26 لیکن دیکھو جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور سنتے ہو یہ آدمی پو لس بہت سے لوگوں کی سوچ فکر کو راغب کر کے یہ کہتے ہو ئے تبدیل کر دیا ہے کہ جن خداؤں کو آدمی بنائے وہ حقیقت میں خدا نہیں اس طرح کی باتیں وہ سارے افیُس میں ہی نہیں بلکہ سارے ایشیاء کے صوبے میں کر رہا ہے۔ 27 پولس کا یہ کام شاید ہمارے کام کے لئے نقصان دہ ہو۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ لوگ یہ سوچنا شروع کردیں کہ عظیم دیوی ارتمس کا مندر غیر اہم ہے اس طرح دیوی کا وقار ختم ہو جائے گا ارتمس وہ دیوی ہے جس کی نہ صرف ایشیاء میں بلکہ ساری دنیا میں اس کی عبادت کی جاتی ہے۔”

28 جب لوگوں نے یہ سنا تو غصّہ سے بپھر گئے اور چلا نے لگے “ارتمس شہر افیس کی دیوی ہے اور وہ عظیم ہے۔” 29 گاؤں کے تما م لوگ بے چین ہو گئے لوگوں نے گیتس ارستر خس کو پکڑ لیا اور یہ دونوں مگد نیہ سے تھے اور پو لس کے ساتھ سفر کرہے تھے۔ اور تمام لوگ تماشہ گاہ کی طرف دوڑ پڑے۔ 30 پولس تماشہ گاہ میں اندر جاکر ان لوگوں سے بات کر نا چاہتا تھا۔ لیکن شاگردوں نے اسے اندر جا نے نہیں دیا۔ 31 اسکے علاوہ کچھ رہنما اس ملک میں پولس کے دوست تھے۔ انہوں نے پو لس کے نام ایک پیغام بھیجا جس میں کہا کہ وہ تماشا گاہ کے اندر نہ جائیں۔

32 بعض لوگ کچھ چلا رہے تھے تو بعض لوگ کچھ اور ہی چلا رہے تھے۔ مجلس درہم برہم ہو گئی چونکہ لوگ یہ نہیں جان پا ئے کہ وہ کیوں اکھٹے ہو ئے ہیں۔ 33 یہودیوں نے اسکندر نام کے شخص کو لایا لوگوں کے سامنے کھڑا کیا مجمع میں سے کچھ لوگ اس کو حالات سمجھا ئے اس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کر نا چاہا۔ 34 لیکن لوگوں کو معلوم ہوا کہ اسکندر یہودی ہے تو لوگ ایک آواز ہو کر دو گھنٹے تک چلا تے رہے “افیس کی ارتمس عظیم ہے ، افیس کی ارتمس عظیم ہے۔”

35 اور شہر کے محرر نے شہر کے لوگوں کو خاموش کر نا چاہا اس لئے اس نے کہا، “افیس کے لوگو تم سب جانتے ہو کہ افیس ایک ایسا شہر ہے جس میں ارتمس عظیم دیوی کا مندر اور مقدس چٹان اسکی حفاظت میں ہے۔ 36 کو ئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ سچ نہیں ہے اس لئے آپ لوگ خاموش ہو جائیں اور کچھ نہ کریں اور کچھ کر نے سے پہلے سوچیں۔

37 تم ان آدمیوں کو لا ئے ہو لیکن انہوں نے نہ تو تمہاری دیوی کے خلاف کوئی برا ئی کی اور نہ ہی کو ئی چیز اس کے مندر سے چرائی ہے۔ 38 ہمارے پاس شریعت کی عدالت ہے منصف بھی ہیں اگر دیمتیریس اور اس کے آدمی نے ان کے خلاف کو ئی الزام لگایا ہے۔ تو انہیں عدالت کی طرف رجوع ہو نا چاہئے جس کو دلچسپی ہے وہاں جا سکتے ہیں اور اپنا مقدمہ میں بحث کر سکتے ہیں اور جواب میں دعویٰ پیش کر سکتے ہیں۔

39 اگر مزید اور کو ئی بات ہے تو جس کے متعلق تم گفتگو کر نا چاہو تو شہر کے اجلاس میں آؤ وہیں اسکا فیصلہ ہو گا۔ 40 ہم خطرہ میں ہیں آج کے فساد کی وجہ سے ہم اپنی وضاحت اپنے بچاؤ میں پیش کر نے سے قاصر ہیں جس کی کو ئی وجہ ہی نہیں ہے۔” 41 اس کے بعد محرر شہر نے لوگوں کو اپنے اپنے گھر جانے کی تاکید کی اور سب لوگ چلے گئے۔

20

پولس کا مگدنیہ اور یونان کو روانہ ہونا

1 جب ہلچل رک گئی تو پو لس نے یسوع کے شاگردوں کو مدعو کیا ان کی ہمیت بندھا کر وہاں سے اپنا سفر مقرر کر کے مگدنیہ کے لئے روانہ ہوا۔ 2 اپنے مگدنیہ کے راستے میں اس نے مختلف مقا مات پر یسوع کے شاگردوں کو بہت ساری نصیحتیں کیں تا کہ وہ ثابت قدم رہیں۔ اور پھر یونان روانہ ہوا۔ 3 وہاں وہ تین مہینے تک رہا پھر سوریہ جانے کے لئے تیار ہو گیا۔ لیکن یہودی اس کے خلاف منصوبے بنا رہے تھے۔

اس لئے پو لس نے مگدنیہ سے گذرتے ہو ئے سوریہ جا نے کا فیصلہ کیا۔ 4 کچھ لوگ جو اس کے ساتھ تھے وہ ٹیٹرس کا بیٹا سوپترس جو بیرییہ کا تھا۔ ارستر خس اور سکندس تھسلنیکا کے تھے اور گیس جو دربے کا تھا۔اور تیمتتھیس اور ایشیاء کا نحکس ترخمس ایشیا تک اس کے ساتھ تھے۔ 5 یہ لوگ پہلے شہر تراوس گئے اور ہما را انتظار کیا۔ 6 ہم جہاز کے ذریعہ فلپی سے بغیر خمیر کی روٹی کی تقریب کے بعد روا نہ ہو ئے اور ان لوگوں سے ترا وس میں پانچ دن بعد ملے۔اور سات دن تک وہیں رہے

ترواس کے لئے پولس کا آخری سفر کرنا

7 ہفتہ کے پہلے دن ہم سب وہاں جمع ہو ئے تا کہ خداوند کا کھا نا کھا ئیں پو لس نے گروہ سے کہا کہ دوسرے دن وہ یہاں سے نکلنے کا منصوبہ بنایا ہے اور وہ تقریباً آدھی رات تک باتیں کرتا رہا۔ 8 ہم سب بالا حانہ کے کمرہ میں جمع تھے اور وہاں کئی چراغوں کی روشنی تھی۔ 9 وہاں ایک نو جوان آدمی یُو تخس نامی کھڑ کی میں بیٹھا تھا۔ پولس کی باتیں سن کر آخر کار وہ نیند کے زور میں کھڑ کی کے باہر گرا وہ تیسری منزل سے نیچے گرا اور لوگ نیچے جا کر اس کو اٹھا نا چا ہا تو دیکھا کہ وہ مر چکے تھے۔

10 پولس نیچے گیا جہاں یُوتخس پڑا تھا اور اس پر جھک کر اسے گلے لگا لیا پو لس نے ایمان وا لوں سے کہا، “جو یہاں جمع ہیں پریشان مت ہوں وہ زندہ ہے۔” 11 پو لس دوبارہ اوپر آیا اور روٹی کے ٹکڑے کر کے کھا یا اور ان سے دیر تک باتیں کی جب اس نے اپنی باتیں ختم کیں تو صبح ہو چکی تھی تب پولس روانہ ہوا۔ 12 لوگ یُوتخس کو گھر لے گئے دیکھا تو وہ زندہ ہے اور لوگوں کو بڑی تسلی ہو ئی

ترآ وس سے میلیتس تک کا سفر کرنا

13 ہم بذریعہ جہاز شہراُسس گئے کہ پہلے جاکرپولس کو لے لیں اس نے ہم سے اُسس میں ملنے کا منصوبہ بنا یا تھا اور جہاز کو ٹھہرا کر اُسس تک پیدل جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ 14 پو لس ہم سے اُسس میں ملا اور ہم سب جہاز سے شہر متلینے گئے۔ 15 دوسرے دن متلینے سے جہازسے روانہ ہوئے اور جزیرہ خُیس کے قریب ایک جگہ پہو نچے اور وہ تیسرے دن جہاز سے سامُس پہونچے اور اگلے دن شہر میِلیتُس پہونچے۔ 16 پو لس نے یہ طئے کر لیا تھا کہ افیس میں نہ رکے کیوں کہ وہ زیادہ دن ایشیاء میں گذارنا نہیں چا ہتا تھا، وہ جلدی میں تھا کیوں کہ پنیکست کے دن وہ یروشلم میں رہنا چا ہتا تھا۔

افیس کے بزرگوں سے پولس کی گفتگو

17 میلیتس میں پولس نے افیُس کو پیغام بھیجا اور اس نے کلیسا کے بزرگوں کو ملنے کے لئے بلا یا۔

18 جب بزرگ وہاں آئے تو پولس نے کہا، “آپ جانتے ہیں میں نے کس طرح اپنا سا را وقت گذارا۔ میں آپ کے ساتھ ایشیاء آنے کے پہلے دن ہی سے تھا۔ 19 یہودیوں کے میرے خلاف بنائے ہو ئے منصوبوں سے مجھے کئی دکھ اٹھا نے پڑے اور اکثر میں رو پڑا جیسا کہ تم جانتے ہو کہ میں نے ہمیشہ خداوند کی خدمت کی میں نے اپنے بارے میں کبھی نہیں سوچا 20 میں نے ہمیشہ تمہا ری بہتری کے لئے ہی سوچا اور میں نے تمہیں خوش خبری یسوع کے متعلق عام لوگوں میں دی اور تمہیں گھر میں بھی سکھا یا۔ 21 میں نے یہودیوں سے کہا اور یونانیوں سے بھی کہا کہ وہ اپنے دلوں کو بدلیں اور خدا کی طرف رجوع ہو جائیں۔اور خداوند یسوع پر ایمان لائیں۔

22 لیکن اب میں یروشلم جا رہا ہوں رو ح القدس کی مجبوری سے میں نہیں جانتا کہ وہاں میرے ساتھ کیا ہوگا۔ 23 لیکن ایک بات جانتا ہوں کہ روح القدس خبر دار کرتا ہے ہر شہر میں مجھے مصیبتوں میں گھر نا ہے اور قید حاصل کرنا ہے۔ 24 میں نے کبھی اپنی زندگی کی پر واہ نہیں کی میرے لئے اہم بات یہ ہے کہ اپنا کام پو را کر لوں جسے خداوند یسوع نے مجھے دیاہے وہ کام ہے۔ خدا کے فضل کی خوشخبری کی تعلیم۔

25 “اور اب سنو! میں جانتا ہوں تم میں سے کو ئی بھی مجھے آئندہ نہیں دیکھے گا۔ جب میں تمہارے ساتھ تھا تومیں نے تمہیں خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دی ہے۔ 26 اور آج میں تم سے ایک بات کہوں گا اس یقین سے کہ تم میں سے اگر کسی کی نجات نہ ہو ئی ہو تو خدا مجھے ذمہ دار نہ ٹھہرا ئے گا۔ 27 میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے تمہیں ہر چیز سے آگاہ کر دیا ہے جس کو خدا نے تمہیں پہونچا نا چاہا۔ 28 خبر دار رہ اپنے آپ کے لئے اور ان تمام لوگوں کے لئے جو خدا نے تمہیں دی ہیں۔ روح القدس نے تمہیں یہ ذمہ داری دی ہے کہ تم خدا کے بندوں کی دیکھ بھا ل کرو۔ تم خدا کی کلیسا کے چرواہے کی مانند ہو۔ یہ کلیسا خدا نے اپنے خاص خون سے مول لیا ہے۔ 29 میں جانتا ہوں میرے جانے کے بعد تمہارے گروہ میں کچھ لوگ داخل ہو نگے جو جنگلی بھیڑوں کی مانند ہونگے وہ لوگ تمہارے ریوڑ کو تباہ کر نے کی کو شش کریں گے۔ 30 اور تمہارے گروہ میں کچھ برے قسم کے لوگ رہنما بنیں گے۔ وہ لوگ برائی کی تعلیم شروع کریں گے اور یہ لوگ یسوع کے ماننے والوں کو سچائی سے دور کر نے کی کوشش کریں گے تا کہ وہ انکے ساتھ ہو سکیں۔ 31 اس لئے تم ہو شیارر ہو اور یہ بات ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھو کہ میں تمہارے ساتھ تین سال تک تھا، میں نے ہمیشہ برائی کے خلاف انتباہ کیاہے اور تمہیں دن رات سکھا تا رہا اور اکثر تمہا رے لئے رویا بھی ہوں۔

32 “اب میں تمہیں خدا کی نگرانی کے حوالے کرتا ہوں اور خدا کے فضل کا پیغام تمہیں خدا کی رحمت دیگی اور وہ پیغام خدا کے اپنے مقدس لوگوں کو میراث دیتا ہے۔ 33 جب میں تمہارے ساتھ تھا تو میں نے کبھی تمہاری دولت اور قیمتی پو شاک نہیں چا ہا۔ 34 تم جانتے ہو کہ میں نے ہمیشہ اپنی ضرورتوں کے لئے کام کیا اور انکی ضرورتوں کے لئے جو میرے ساتھ تھے۔ 35 میں تمہیں کہہ چکا ہوں کہ تمہیں اسی طرح سخت کام کر نا چا ہئے جس طرح میں نے کیا ہے اور کمزور لوگوں کی مدد کر نے کے قابل بنائیں۔ میں نے تمہیں سکھا یا ہے کہ خدا وند یسوع نے کیا کہا ان باتوں کو یاد کریں۔ یسوع نے کہا تھا دینے میں زیادہ خوشی ہے بنسبت دوسروں سے لینے میں۔”

36 جب پولس نے اپنی تقریر ختم کی تو وہ سب کے ساتھ گھٹنوں کے بل جھک گیا اور سب نے مل کر دعا کی۔ 37‏-38 وہ سب بہت روئے سب لوگ بہت غمگین تھے کیوں کہ پولس نے کہا کہ اسے پھر کبھی نہ دیکھ سکیں گے۔ انہوں نے پولس کے گلے لگ کر اسے بوسہ دیا اور اسکے ساتھ اسے جہاز تک پہونچا نے گئے اور الوداع کہا۔

21

پولس کا یروشلم روانہ ہونا

1 ہم سب نے بزر گوں کو الوداع کہا تب ہم نے جہاز سے ا پنا سفر شروع کیا اور جزیرہ کوس پہونچے۔ دوسرے دن جزیر ہ رُدُس گئے اور رُدُس سے پترہ گئے۔ 2 پترہ میں ہم نے دیکھا کہ جہاز فینیکے جا رہا ہے۔ ہم جہاز پر سوار ہو ئے۔

3 اور جزیرہ کپرس کے قریب پہونچے۔ ہم کو کپرس شمالی جانب نظر آیا لیکن وہاں رکے نہیں اور ٹھیک سوریہ روانہ ہو گئے ہم شہرصور پر رکے کیوں کہ جہاز کو وہاں اپنا مال اتار نا تھا۔ 4 صور میں کچھ یسوع کے ماننے والوں سے ملے ہم انکے ساتھ سات دن تک ٹھہرے انہوں نے پولس سے کہا کہ یروشلم نہ جائے اسلئے کہ روح القدس نے ان کو خبر دار کیا تھا۔ 5 جب ہم نے وہاں سات دن مکمل کئے ہم نے اپنا سفر جاری رکھا تمام یسوع کے شاگرد جن میں عورتیں اور بچے بھی تھے شہر سے باہر آئے تا کہ الوداع کہیں ہم سب نے گھٹنوں کے بل جھک کر دعا کی۔ 6 تب ہم نے الوداع کہا اور جہاز پر سوار ہو گئے اور شاگرد گھر واپس ہوئے۔

7 اپنا سفر ہم نے صور سے جا ری رکھا اور شہر پتلمیس گئے۔وہاں اپنے ایمان وا لے بھا ئیوں سے ملے اور ایک دن ان کے ساتھ رہے۔ 8 دوسرے دن ہم پتلمیس سے شہر قیصریہ گئے ہم فلپ کے گھر گئے اور اس کے ساتھ رہے فلپ کا کام خوش خبری کی تبلیغ کا تھا وہ ان سات مددگاروں میں سے ایک تھا۔ 9 اس کی چا ر لڑکیاں تھیں جن کی شادیاں نہیں ہو ئی تھیں اور یہ کنواری بیٹیاں نبوت کے تحفے تھیں۔

10 جب ہم وہاں چند روز ٹھہرے تو اگبُس نامی ایک آدمی جو نبی تھا یہوداہ سے آیا۔ 11 وہ ہمارے پاس آیا اور پولس کا کمر بند لیا اگبُس نے کمر بند سے اس کے ہاتھ پیر باندھے اور کہا، “روح القدس مجھ سے کہتا ہے کہ یہودی یروشلم میں آدمی کو اسی طرح باندھیں گے جسے یہ کمر بند باندھا ہو گا اور ان کو غیر یہودیوں کی تحویل میں دیا جائے گا۔”

12 جب ہم نے یہ سنا تو مقا می شاگردوں نے اس سے التجا کی کہ وہ یروشلم نہ جا ئے۔ 13 لیکن پولس نے کہا، “تم کیوں رورہے ہو ؟ اور کیوں مجھے ایسا رنجیدہ کر رہے ہو؟ میں یروشلم میں نہ صرف باندھے جا نے پر راضی ہوں بلکے خداوند یسوع کے نام پر مر نے کے لئے بھی تیار ہوں۔”

14 ہم اس کو یروشلم جانے سے نہ روک سکے اور اس سے التجا کرنا چھوڑ کر کہا، “ہماری دعا ہے کہ خداوند کا منشاء پورا ہو۔”

15 وہاں ہمارے رہنے کا وقت ختم ہو نے کے بعد ہم یروشلم جانے کے لئے تیار ہو ئے۔ 16 کچھ یسوع کے ماننے والے قیصریہ سے ہمارے ساتھ آئے تھے اور یہ شاگرد ہمیں مناسون کے گھر لے آئے تا کہ ہم اس کے ساتھ ٹھہر سکیں۔ مناسون کپرس کا تھا اور وہ یسوع کے ماننے والوں میں پہلا شخص تھا۔

پولس کا یعقوب سے ملاقات کرنا

17 یروشلم میں ایما ن وا لے ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہو ئے۔ 18 دوسرے دن پو لس ہمارے ساتھ یعقوب سے ملنے آیا سب بزرگ بھی وہاں تھے۔ 19 پولس ان سب سے ملا اس نے تفصیل سے ان کو دوسری قوموں میں اس کی وزرات کے متعلق اور تمام چیزیں جو اس کے ذریعہ خدا نے کی اسے کہا۔

20 جب قائدین نے یہ سنا تو انہوں نے خدا کی تمجید کی اور پولس سے کہا، “بھا ئی تم جانتے ہو ہزاروں یہودی ایمان لا ئے ہیں لیکن ان کا مضبوط ایمان ہے وہ سوچتے ہیں موسیٰ کی شر یعت کا پالن کرنا اہم ہے۔ 21 یہ یہودی تمہا ری تعلیمات کو سن چکے ہیں اور یہ بھی سن چکے ہیں کہ تم یہودیوں کو جو دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں یہ تعلیم دیتے ہو کہ موسیٰ کی شر یعت سے ہٹ جا ئیں، اور تمہیں یہ کہتے سنا ہے کہ اپنے لڑ کو ں کا ختنہ نہ کرو اور نہ ہی موسیٰ کی شر یعت و رسم پر عمل کرو۔

22 ہمیں کیا کرنا ہوگا ؟ یہ یہودی اہل ایمان کو یقیناً معلوم ہوگا کہ تم یہاں آئے ہو۔ 23 اس لئے ہم تم کو مشورہ دیتے ہیں حسب ذیل احکام کو بجا لا ؤ ہمارے یہاں چار آدمیوں نے خدا سے ایک منت مانی ہے۔ 24 تم انہیں اپنے ساتھ لے جاؤ اور ان کی پا کی کی تقریب میں شامل رہو ان کے اخرا جات کو ادا کرو تا کہ وہ اپنے سر منڈ وائیں جس سے ہر ایک کو معلوم ہو گا کہ جو کچھ انہوں نے تمہا رے بارے میں سنا ہے وہ سچ میں ہے۔ وہ یہ جان لیں گے کہ تم خود موسیٰ کی شر یعت کے مطا بق رہتے ہو اور تم اس پر عمل کرتے ہو۔

25 ہم فیصلہ کے بعد غیر یہودی ایمان وا لوں کو ایک خط روا نہ کر چکے ہیں جو درج ذیل ہے:

ایسی غذامت کھا ؤ جو بتوں کو پیش کی گئی ہو۔

اور خون کو بطور غذا استعمال مت کرو، ایسے جانور جس کا دم گھٹنے سے موت ہو ئی ہو مت کھا ؤ

اور کسی بھی طرح کے جنسی گناہ سے اپنے آپ کو بچا ئے رکھو۔”

پولس کا گرفتار ہونا

26 تب پو لس نے چارآدمیوں کو اپنے ساتھ لیا اور دوسرے دن اپنے آپ کو پاک کر کے ہیکل کو گیا تا کہ خبر دے سکے کہ کب پاک کر نے کی رسم ختم ہو گی آ خری دن ہر ایک کی جانب سے نذر لی جا ئے گی۔

27 تقریباً سات دن ختم ہو نے کو تھے اور ایشیاء کے کچھ یہودیوں نے پولس کو ہیکل میں دیکھاوہ تمام لوگوں کی پریشا نی کا سبب بنے اور پو لس کو پکڑ لیا۔ 28 وہ چلا ئے “اے یہو دیو ہماری مدد کرو یہ وہی آدمی ہے جو سب لوگوں کو موسیٰ کی شریعت کے خلاف کر نے کی تعلیم دیتا ہے اور ہما رے لوگوں کو اور ہم لوگوں کی اس ہیکل کے خلاف کہتا ہے۔ یہ اس قسم کی تعلیم ہر جگہ لوگوں کو دیتا ہے اور اب چند یو نانی آ دمیوں کو ہیکل کے آنگن میں لا یا ہے اور پاک جگہ کو نا پاک کردیا ہے۔” 29 انہوں نے یہ تمام چیزیں اس لئے کیں کیوں کہ انہوں نے تروفیمس کو پولس کے ساتھ یروشلم میں دیکھ چکے تھے۔ تروفیمس یونانی تھا اور وہ افیس کا تھا۔ یہودیوں نے سمجھا کہ پولس اسکو ہیکل کی مقدس جگہ پر لا یا ہے۔

30 یروشلم میں سب لوگ پریشان تھے اور تمام لوگ دوڑ دوڑ کر جمع ہو ئے اور پولس کو ہیکل کی مقدس جگہ سے باہر کھینچ لا ئے اور ساتھ ہی ہیکل کے دروازوں کو فوراً بند کر دیا۔ 31 لوگ پولس کو قتل کرنا چاہتے تھے اور جب فوج کے سربراہ کو خبر ملی کہ پو رے شہر میں گڑ بڑ ہے۔ 32 فوجی سردار تیزی سے فوجی افسروں اور سپاہیوں کے ساتھ وہاں پہونچ گئے لوگ فوجی سپاہیوں اور سرداروں کو دیکھا اور پولس کو مار پیٹ کر نے سےباز آئے۔

33 فوجی سردار پولس کی طرف بڑھا اور اس کو گرفتار کر لیا اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا، “اسے زنجیروں سے باندھ دو! اور پھر پوچھا کہ یہ کون ہے اور اس نے کیا کیا ہے؟” 34 مجمع میں سے کچھ لوگ ایک بات پر چلا رہے تھے اور دوسرے لوگ کسی اور بات پر۔ کو ئی مختلف باتیں بتا رہا تھا اس ہلٹر بازی میں فوجی سردار کچھ سمجھ نہ سکا کہ اصل واقعہ کیا ہے اس لئے اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ پولس کو فوجی قلعہ میں لے جایئے۔ 35‏-36 اور ساری بھیڑ ساتھ ہو گئی جب سپاہی سیڑھیوں پر پہونچے تو مجمع تشدد پر اتر آیا انہیں پو لس کو اٹھا کر لے جانا پڑا اور اس طرح پو لس کی حفاظت کر نی پڑی کیوں کہ لوگ اس کو ضرر پہونچانا چاہتے تھے اور چلا رہے تھے کہ “اسکو مار ڈا لو۔”

37 جب سپا ہی پو لس کو قلعہ میں لے جا رہے تھے تو پو لس نے فوجی سردار سے کہا، “کیا میں تم سے کچھ کہہ سکتا ہوں؟”

فوجی سردار نے پو چھا، “کیا تم یو نانی جانتے ہو؟ 38 تب تو تم وہ آدمی نہیں جو میں نے سوچا تھا میں نے سوچا تھا کہ تم وہی مصری ہو جس نے کچھ عرصہ پہلے حکو مت کے خلاف گڑ بڑ شروع کی تھی اور تقریباً چار ہزار آدمیوں کو باغی بنا کر انہیں ریگستان میں لے گیا تھا ؟”

39 پولس نے کہا، “نہیں میں تو ترسس کا یہودی ہوں اور ترسس کلکیہ میں ہے اور میں اس کا اہم شہری ہوں براہ کرم مجھے لوگوں سے بات کر نے دیجئے۔”

40 فوجی افسر نے پو لس کو لوگوں سے بات کر نے کی اجازت دی پو لس نے سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا جس سے لوگ خاموش ہو گئے پو لس ان سے یہودیوں کی زبان میں بولا۔

22

پو لس کا لوگوں سے خطاب

1 پو لس نے کہا، “اے میرے بزرگو اور بھا ئیو! سنو میں اپنی صفائی میں تم سے کچھ کہنے جا رہا ہوں۔”

2 جب یہودیوں نے سنا کہ پو لس عبرانی زبان میں باتیں کر رہا ہے تو چپ ہو گئے۔ پو لس نے کہا۔

3 “میں یہودی ہوں اور میں ترسس میں پیدا ہوا ہوں جو ملک کلکیہ میں ہے میری پر ورش شہر یروشلم میں ہو ئی اور میں گملی ایل+ 22‏:3 گملی ایل یہ فریسی گروہ کا ایک اہم استاد تھا جو یہودی مذہبی گروہ سے تھا دیکھو اعمال ۳۴‏:۵* کا طالب علم تھا جس نے مجھے خاص توجہ سے ہمارے باپ دادا کی شریعت کی تعلیم دی میں سچی لگن سے خدا کی خدمت کر رہا تھا جیسا کہ تم لوگ آج یہاں جمع ہو۔ 4 میں نےان لوگوں کو بہت ستا یا جو مسیحی طریقہ پر چلتے تھے ان میں سے چند لوگوں کی موت کا سبب میں ہوں۔ میں نے مردوں اور عورتوں کو گرفتار کرکے قید خا نہ میں ڈا لا۔

5 اعلیٰ کاہن اور بزرگ یہودی سربراہ ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔ ایک مرتبہ ان سربراہوں نے مجھے خطوط دیئے۔ دمشق میں یہودی بھائیوں کے لئے تھے۔ اس طرح میں وہاں یسوع کے شاگردوں کو گرفتار کر نے کے لئے جا رہا تھا تا کہ سزا دینے کے لئے انہیں یروشلم لے آؤں۔

پو لس کا اپنی تبدیلی کے بارے میں کہنا

6 “میرے دمشق کے سفر کے دوران کچھ واقعہ رونما ہوا۔ دو پہر کے قریب جب میں دمشق کے نز دیک تھا کہ اچا نک آسمان سے ایک چمکتا نور میرے چاروں طرف چھا گیا۔ 7 میں زمین پر گر گیا ایک آواز آئی جو کہہ رہی تھی، “ساؤل، ساؤل تو مجھے کیوں ستا تا ہے۔”

8 میں نے جواب دیا کہ تم کون ہو اے خدا وند؟ آواز نے جواب دیا، “میں ناصری یسوع ہو ں میں وہی ہوں جسے تم نے ستا یا تھا۔ 9 جو آدمی میرے ساتھ تھے انہوں نے آواز کو نہ سمجھا لیکن انہوں نے نور کو دیکھا۔

10 میں نے کہا اے خدا وند میں کیا کروں ؟ خدا وند نے جواب دیا، “اٹھو اور دمشق جاؤ وہاں تجھے تمام چیزوں کے متعلق کہا جائیگا جو میں نے تیرے کر نے کے لئے مقرر کیا ہے۔” 11 میں دیکھ نہیں سکا کیوں کہ اس نور کی تجلی نے مجھے اندھا بنا دیا اس لئے جو آدمی میرے ساتھ تھے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے دمشق لے گئے۔

12 “دمشق میں ہننیا ہ نامی ایک شخص میرے پاس آیا جو پر ہیز گار آدمی تھا۔ اور موسیٰ کی شریعت کا اطا عت گزار تھا وہاں تمام یہودی اس کی عزت کر تے تھے۔ 13 اس نے میرے قریب آکر کہا، “بھا ئی ساؤل دوبارہ دیکھو اور اسی لمحہ اچانک میں اسکو دیکھ سکا۔

14 اس نے کہا میرے باپ دادا کے خدا نے تمہیں بہت پہلے منتخب کر لیا ہے تا کہ تم اس کے منصوبہ کو جان لو اور اس راستباز کو دیکھ لو اور اس کے الفاظ کو سن لو۔ 15 تم اس کے گواہ ہو گے۔ سب لوگوں پر اور جو کچھ تم نے دیکھا اور سنا۔ 16 اب زیادہ انتظار مت کرو اٹھو اور بپتسمہ لو۔ اور اپنے گناہوں کو اسکے نام کا بھروسہ کر کے نجات کے لئے دھو ڈا لو۔

17 اس کے بعد میں واپس یروشلم آیا اور جب میں ہیکل میں دعا کر رہا تھا تو میں نے رویا دیکھا۔ 18 میں نے یسوع کو دیکھا اس نے مجھ سے کہا جلدی سے یروشلم کو چھو ڑد و یہاں لوگ میرے متعلق تمہاری نبوت قبول نہیں کریں گے۔

19 میں نے کہا اے خدا وند! لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ میں وہی آدمی ہوں جس نے تمہارے ایمان والوں کو مارا پیٹا اور جیل میں ڈا لا اور یہودی عبادت خانوں میں گھوم گھوم کر انہیں تلاش کرتا اور ان لوگوں کو جو تم پر ایمان لا ئے گرفتار کر تا رہا۔ 20 اور جب تمہارے گواہ اسٹیفن کا خون ہوا تھا میں وہاں موجود تھا اور اسکو مارڈالنے کے لئے میں نے منظوری دی تھی۔ اور انکے کپڑوں کی حفاظت بھی کی تھی جنہوں نے اسکو مارا تھا۔

21 لیکن یسوع نے مجھ کو کہا، “جاؤ اب میں تمہیں غیر یہودی قوموں کے پاس بھیجونگا جو بہت دور ہیں۔”

22 جب پو لس نے غیر یہودی قوموں کے پاس بھیجے جانے کی بات کہی تو لوگوں نے اپنی خاموشی کو توڑا اور چلا ئے “اسکو مار ڈالو اور اسکو زمین سے فنا کر دو ایسے آدمی کازندہ رہنا منا سب نہیں۔” 23 وہ چلا کر اپنے کپڑے پھینکتے ہو ئے دھول ہوا میں اڑا نے لگے۔ 24 فوجی افسر نے سپا ہیوں سے کہا کہ پو لس کو قلعہ میں لے جاؤ اس نے سپاہیوں سے کہا کہ پو لس کو مارو تا کہ معلوم ہو کہ لوگ کس سبب سے اس کی مخالفت میں چلا رہے تھے۔ 25 اس لئے سپا ہیوں نے پو لس کو باندھ دیا اور اسے مارنے کے لئے تیار تھے۔ لیکن پو لس نے ایک فوجی افسر سے کہا، “کیا تمہارے نزدیک یہ جا ئز ہے کہ ایک رومی شہری کو مارو جب کہ اسکا جرم ابھی تک ثابت نہیں ہوا ہے۔”

26 افسر نے جب یہ سنا تو سردار کے پاس گیا اور سب کچھ کہا پھر افسر نے اس سے کہا، “تم جانتے ہو کہ تم کیا کر رہے ہو ؟” یہ شخص پولس روم کا شہری ہے۔

27 اعلیٰ سربراہ نے پو لس کے قریب آکر پو چھا مجھ سے کہو کیا تم واقعی روم کے شہری ہو ؟” پولس نے کہا، “ہاں۔”

28 اعلیٰ سربراہ نے کہا، “میں نے روم کا شہری بننے کے لئے بڑی رقم دی ہے لیکن پو لس نے کہا میں پیدائشی روم کا شہری ہوں۔”

29 جو لوگ پو لس سے تفتیش کر نے کی تیاری کرر ہے تھے وہاں سے فوراً چلے گئے۔ اعلیٰ سربراہ ڈر گیا کیوں کہ وہ پو لس کو باندھ چکا تھا اور پولس روم کا شہری تھا۔

پو لس کا یہودی قائدین سے گفتگو کر نا

30 دوسرے دن سردار کا ہن نے طے کیا کہ وہ اس بات کا پتہ لگائے کہ یہودی کیوں پو لس کے خلاف ہو گئے ہیں چنانچہ اس نے کاہنوں کے رہنما اور عدالت کے صدر کو جمع ہو نے کا حکم دیا اور پو لس کی زنجیریں کھولدیں اور اس کو مجلس کے سامنے کھڑا کر دیا۔

23

1 پولس نے یہودی عدالت والوں کو غور سے دیکھ کر کہا، “اے بھائیو! میری زندگی آج نیک دلی سے خدا کی راہ میں گزری ہے اور جو بھی میں نے ٹھیک سمجھا وہی کیا۔” 2 اعلیٰ کاہن حننیاہ بھی وہاں تھا اس نے ان آدمیوں کو جو پولس کے قریب تھے کہا کہ پو لس کے منھ پر طمانچے مارو۔ 3 پو لس نے حننیاہ سے کہا، “تو ایک ایسی گندی دیوار ہے جسے اوپر سے سفیدی کی گئی ہے خدا تجھے بھی ما ریگا تو شریعت کے مطا بق فیصلہ کر نے کے لئے ہے لیکن تو مجھے مارنے کے لئے حکم دے رہا ہے جو موسیٰ کی شریعت کے خلاف ہے۔”

4 جو لوگ پو لس کے قریب کھڑے تھے انہوں نے کہا، “تم اس قسم کی باتیں اعلیٰ کا ہن سے نہیں کہہ سکتے تم انکی بے عزتی کر رہے ہو۔”

5 پو لس نے کہا، “بھا ئیو مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ اعلیٰ کا ہن ہے صحیفوں میں لکھا ہے کہ تم اپنے اعلیٰ کا ہن کو برا نہ کہو۔”+ 23‏:5 اِقتِباس خروج ۲۸‏:۲۲*

6 اس مجلس میں کچھ صدوقی اور کچھ فریسی بھی تھے اس لئے پو لس کو ایک ترکیب سوجھی اس نے کہا، “بھا ئیو! میں فریسی ہوں اور میرے باپ دادا بھی فریسی تھے۔ مجھ پرمقدمہ اس لئے ہو رہا ہے کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ لوگ مر نے کے بعد اٹھا ئے جائیں گے۔”

7 جب پو لس نے یہ کہا تو فریسیوں اور صدوقیوں میں تکرار بحث شروع ہو ئی اور وہ دو گروہ میں بٹ گئے۔ 8 صدوقیوں کا عقیدہ ہے کہ لوگ مرنے کے بعد دوبارہ جی نہیں اٹھیں گے اوروہ فرشتہ میں اور نہ کو ئی روح میں عقیدہ رکھتے ہیں مگر فریسی کا دونوں پر عقیدہ ہے۔ 9 تمام یہودی زور شور سے چلا نا شروع کیا اور فریسیوں میں سے بعض شریعت کے معلمین اٹھے اور بحث کی اور کہا، “ہم اس آدمی میں کو ئی برا عمل نہیں پا تے، ہو سکتا ہے دمشق کے راستے میں کسی فرشتہ یا روح نے اس سے کلام کیا ہو۔”

10 بحث و تکرار لڑائی میں تبدیل ہو گئی اور پلٹن کے سردار نے خوف محسوس کیا کہ کہیں یہودی پو لس کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر ڈا لیں اس لئے سپاہیوں کو حکم دیا کہ پو لس کو ان میں سے نکال کر قلعہ میں لے آؤ۔

11 دوسری شب خداوند یسوع پو لس کے پاس آ کھڑے ہو ئے اور کہا، “ہمت رکھ جس طرح تو نے یروشلم میں میری گواہی دی اسی طرح تجھے روم میں بھی میری گوا ہی دینی ہو گی۔”

کچھ یہودیوں کا پو لس کو مار نے کا منصوبہ بنانا

12 دوسری صبح کچھ یہودیوں نے پو لس کو مار ڈا لنے کی سازش بنائی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جب تک وہ پو لس کو قتل نہیں کریں گے وہ کچھ بھی نہیں کھا ئیں گے اور نہ پئیں گے۔ 13 جنہوں نے یہ منصوبہ بنایا تعداد میں چالیس سے زیادہ تھے۔ 14 انہوں نے یہودی کا ہنوں کے رہنما اور بزرگ قائدین کے پاس جا کر کہا، “وہ قسم کھا ئے ہیں کہ جب تک ہم پو لس کو قتل نہ کریں گے ہم کو ئی چیز اپنے منھ میں نہ ڈا لیں گے نہ کھا ئیں گے نہ ہی پیئیں گے۔ 15 اور اب تم پلٹن کے سردار کو اپنی طرف سے اور صدر عدالت کی جانب سے پیغام بھیجو تم انہیں لکھو کہ وہ پولس کو تمہارے سامنے پیش کرے جب وہ آرہا ہو تو پولس کے مقدمہ میں مزید تفتیش کرے اسی اثناء میں ہم تیا رہیں کہ اسے راہ میں ختم کر دیں۔”

16 لیکن پولس کے بھتیجے کو یہ منصوبہ معلوم ہو گیا وہ قلعہ میں گیا اور پو لس کو اس کے متعلق اطلاع دی اس لئے پو لس نے ایک فوجی افسر کو بلایا اور کہا۔ 17 “اس نوجوان کو سردار کے پاس لے جاؤ یہ اس کے لئے یہ ایک پیغام لا یا ہے۔” 18 اور فوجی افسر نے پولس کے بھتیجے کو پلٹن کے سردار کے پاس لے گیا اور کہا، “قیدی پو لس نے مجھ سے کہا کہ اس نوجوان کو آپ کے پاس لے جاؤں کیوں کہ یہ آپ کے لئے کوئی پیغام لا یا ہے۔”

19 پلٹن کے سردار نے اس نوجوان کو تنہائی میں لا کر کہا، “کہہ دے کہ تو مجھ سے کیا کہنا چاہتا ہے؟۔” 20 نو جوان نے کہا، “یہودیوں نے اتفاق کیا ہے کہ آپ اسے کہیں کہ پو لس کو کل صدر عدالت میں لے آئیں تا کہ وہ اس سے پولس کے مقدمہ میں مزید تحقیق کریں۔ 21 لیکن آپ ان کا یقین نہ کریں وہ چالیس سے زیادہ یہودی ہیں جو پو لس کو مار ڈالنا چاہتے ہیں ان لوگوں نے پو لس کو مار نے کے لئے قسم کھا ئی ہے کہ جب تک اسے نہ ماریں گے وہ کو ئی چیز نہ کھا ئیں گے نہ پئیں گے۔ وہ اب تیار ہیں صرف آپ کی مرضی کے انتظار میں ہیں۔”

22 سردار نے نو جوان کو یہ کہتے ہو ئے بھیج دیا، “کسی کو بھی یہ معلوم نہ ہو نے دینا کہ تم نے مجھ سے کچھ کہا ہے۔”

پولس کو قیصریہ بھیجا جا نا

23 پلٹن کے سردار نے صوبہ داروں کو بلا کر کہا، “دو سو سپا ہی اور ستر سوار اور دو سو نیزہ بر دار رات گئے قیصریہ جا نے کو تیار رکھنا۔ 24 اور پولس کی سواری کے لئے بھی گھو ڑے رکھیں تا کہ اسے صوبہ دار فیلکس کے پاس سلامتی سے پہنچا دیں۔” 25 پلٹن کے سردار نے اس طرح ایک خط لکھا:

26 کلو دیس لوبیاسیہ خط

فلیکس بہادر حاکم کو

نیک تمناؤں کے ساتھ لکھ رہا ہے-

27 اس شخص کو بھی یہودیوں نے پکڑ کر مارڈالنا چاہا مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ روم کا شہری ہے تو میں نے موقع پر اپنے سپا ہیوں کی مدد سے اس کو بچا لیا۔ 28 میں نے یہ معلوم کر نا چاہا کہ وہ کس لئے اس پر نالش کرنا چاہتے ہیں اس لئے میں اس کے ساتھ صدر عدالت میں گیا۔ 29 تب یہ معلوم ہوا کہ وہ اپنی شریعت کے مسئلوں کی بات پر الزا مات لگا رہے ہیں لیکن اس پر ایسا کوئی الزام نہیں لگایا گیا کہ قتل یا قید موجب بنے۔ 30 مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہودی اس کو قتل کر نے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اس لئے میں نے اس کو تمہا رے پاس روا نہ کیا اور نالش کر نے وا لوں سے بھی کہا ہے کہ اپنا دعویٰ وہ تمہا رے سامنے پیش کریں۔

31 سپا ہیوں نے ویسا ہی کیا جیسا انہیں کہا گیا۔ سپا ہیوں نے پولس کو لیا اور اس رات اسے شہرانیپترس پہنچا دیا۔ 32 دوسرے دن سپا ہی پولس کو گھو ڑے کی پیٹھ پر قیصریہ لے گئے لیکن دیگر سپا ہی اور نیزہ بردار واپس قلعہ یروشلم کو آئے۔ 33 گھوڑسوار قیصریہ پہنچ کر گورنرفلیکس کو خط دیا اور پولس کو بھی اس کے سامنے پیش کیا۔

34 حاکم نے خط پڑھا اور پو لس سے کہا، “تمہا را تعلق کس ملک سے ہے؟” اور حاکم کو معلوم ہوا کہ پو لس سلیکیہ کا ہے۔ 35 تب حاکم نے کہا، “میں تمہا را مقدمہ اس وقت سنوں گا جب تک وہ نہ آجا ئیں جو تمہاری مخالفت میں ہیں یہاں آئیں۔” پھر حاکم نے حکم دیا کہ اسے اس محل میں رکھا جائے جس کو ہیرودیس نے بنا یا تھا۔

24

یہودیوں کا پولس پر الزامات لگانا

1 پانچ دن بعد حننیاہ جو اعلیٰ کا ہن تھے چند بزرگ یہودی قائدین اور تر طلس نامی وکیل کے ساتھ قیصریہ آئے۔ وہ قیصریہ آئے تا کہ پولس کے خلاف الزا مات عا ئد کر کے حاکم کے سامنے پیش کریں۔ 2 جب اسے بلا یا گیا تو ترطلس نے الزا مات لگانا شروع کئے۔

اور کہا، “فضیلت مآب جناب فیلیس! آپ کے زیر حفاظت ہم بہت امن سے ہیں اور آپ کی دور اندیشی سے کئی برائیاں اس ملک کی دور ہوئیں۔ 3 ہم ان تمام کو قبول کرتے ہیں ہم اسی لئے آپ کے ہمیشہ اور ہر طرح شکر گذار ہیں۔ 4 میں آپ کا زیادہ وقت لینا نہیں چاہتا لیکن میر ی ایک درخواست ہے برا ئے مہر بانی چند باتیں جو میں کہنا چاہتا ہوں سکون سے سن لیں۔ 5 یہ شخص پو لس ایک مفسد اور دنیا بھر میں یہودیوں کے لئے فتنہ کا ذمہ دار ہے اور ناضری گروہ کا سردار ہے۔ 6‏-8 + 24‏:6‏-8 آیت ۸‏-۶ چند یونانی نسخوں میں آیت ۸‏-۶ شامل ہے جو اس طرح سے ہے: “اور ہم نے چاہا کہ اپنی شریعت کے مطابق اس کی عدالت کریں-۷ لیکن لو سیاس سردار آکر اسے ہم سے چھین لیا ۔ ۸ اور لوسیاس اس کے لوگوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں تک جائیں اور تم سب پر الزام لگائیں۔* اور یہ ہیکل کو نجس کرنا چاہتا ہے لیکن ہم نے اس کو روکا۔ آپ اسی سے دریافت کر کے معلوم کر سکتے ہیں جو الزام ہم نے اس پر لگا ئے ہیں وہ سچ ہیں یا نہیں۔” 9 دوسرے یہودیوں نے بھی متفق ہو کر کہا، “یہ سب سچ ہے۔”

فلیکس کے سامنے پولس کا صفائی کر دینا

10 حاکم نے پولس کو کہنے کے لئے اشارہ کیا تو اس نے کہا! “اے حاکم فلیکس! میں جانتا ہوں کہ آپ بہت بر سوں سے اس قوم کے منصف ہیں اس لئے میں بڑی خوشی کے ساتھ آپکے سانے اپنا عذر بیان کر تا ہوں۔ 11 میں صرف بارہ دن قبل یروشلم میں عبادت کر نے گیا تھا۔ آپ خود دریافت کر سکتے ہیں۔ 12 یہ یہودی جو مجھ پر الزام لگا رہے ہیں نہ انہوں نے مجھے ہیکل میں کسی سے بحث کر تے دیکھا اور نہ شہر میں یا کسی اور جگہ اور نہ ہی کسی یہودی عبادت خا نہ میں فساد کر تے دیکھا۔ 13 اور یہ لوگ میرے خلاف جو الزام لگا رہے ہیں کبھی بھی ثابت نہیں کرسکتے۔

14 لیکن میں اقرار کر تا ہوں کہ میں اپنے آباؤ اجداد کے خدا کی عبادت بحیثیت شاگرد یسوع کے طریقے پر کر تا ہوں یہودی کہتے ہیں کہ یسوع کے طریقے غلط ہیں۔ لیکن جو کچھ موسیٰ کی شریعت میں ہے اس پر ایمان رکھتا ہوں اس کے علاوہ اور نبیوں کی کتابوں میں جو لکھا ہے ان سب پر میرا ایمان ہے۔ 15 میں خدا سے وہی امید رکھتا ہوں جیسا کہ یہودی رکھتے ہیں کہ اچھے اور برے سبھی لوگ مر نے کے بعد اٹھا ئے جائیں گے۔ 16 اسی لئے میری ہمیشہ یہی کو شش ہے کہ جن چیزوں کو میں صحیح سمجھتا ہوں وہ خدا وند اور اسکے آدمیوں کی نظر میں صحیح ہے۔

17 “میں یروشلم میں کئی سالوں سے نہیں تھا یروشلم واپس اس لئے آیا تا کہ اپنے لوگوں کے لئے کچھ رقم لاؤں اور کچھ نذریں چڑھا ؤں۔ 18 اور جب میں ایسا کر رہا تھا تو یہودیوں نے مجھے ہیکل میں دیکھا اور میں صفائی کی تقریب ختم کرچکا تھا میں نے کو ئی مجمع اپنے اطراف اکٹھا نہیں کیا اور کو ئی گڑ بڑ نہیں کی۔ 19 لیکن ایشیاء کے کچھ یہودی وہاں تھے وہ یہاں آپکے سامنے ہو نگے اگر میں نے واقعی کو ئی غلطی کی ہے تو ایشیاء کے وہ یہودی مجھ پر الزام لگا سکتے ہیں۔ 20 یا ان یہودیوں سے دریافت کیجئے کیا انہوں نے مجھ میں کو ئی خرابی دیکھی جب میں یروشلم میں یہودی عدالت میں کھڑا تھا۔ 21 میں نے صرف ایک بات کہی تھی کہ میرا عقیدہ ہے کہ لوگوں کو موت کے بعد جلا یا جائے اور اس لئے مجھ پر آج مقدمہ چلا یا جا رہا ہے۔”

22 فلیکس جو صحیح طور پر یسوع کے طریقے سے واقف تھا اس نے مقد مہ یہ کہہ کر ملتوی کر دیا، “جب فوجی سردار لوسیاس آئیگا تب میں تمہارے مقدمہ کی تفتیش کرونگا۔” 23 اور حا کم نے فوجی افسر کو حکم دیا کہ پولس کو قید میں آرام سے رکھے اور اسکے کسی دوست کو اس سے ملنے اور خدمت کر نے سے منع نہ کر نا۔

پولس کا فلیکس اور اسکی بیوی سے بات کر نا

24 فلیکس چند روز بعد اپنی بیوی دروسلہ کے ساتھ آیا وہ یہودی تھی۔ فلیکس نے پو لس کو پیش کر نے کے لئے کہا اور پو لس سے مسیح یسوع کے ا یمان کے متعلق اسکے دین کے بابت سنی۔ 25 جب پو لس راست بازی اور پر ہیز گاری کے متعلق بات کر رہا تھا وہ دہشت زدہ ہو گیا اور پو لس سے کہا، “اب تو چلا جا اور جب مجھے وقت ملیگا تجھے بلا ؤنگا۔” 26 در حقیقت وہ پو لس سے بار بار گفتگو کر رہا تھا وہ امید کر رہا تھا کہ پو لس کی طرف سے اسے رشوت کے طور پر کچھ روپئے ملیں۔

27 لیکن دو سال کے بعد پر کیس اور فیستس حاکم بنا۔ تب فلیکس اب حاکم نہ رہا۔ لیکن فلیکس پو لس کو جیل میں چھو ڑدیا۔ کیوں کہ فلیکس چاہتا تھا کہ یہودیوں کی خوشنودی کے لئے کچھ نہ کچھ کرے۔

25

پولس کی قیصر سے اپیل

1 فیستس صوبہ دار بنا اور تین دن بعد وہ قیصر یہ سے یروشلم آیا۔ 2 سردار کاہنوں اور یہودی قائدین نے پو لس کے خلاف الزا مات لگا کر انہیں فیستس کے سامنے پیش کیا۔ 3 انہوں نے فیستس سے کہا کہ ان کے لئے کچھ کرے اور پو لس کو یروشلم بھیجے اور انہوں نے منصوبہ بنا یا کہ پو لس کو راستے میں مار ڈا لیں۔ 4 لیکن فیستس نے جواب دیا، “نہیں پو لس کو قیصر یہ میں ہی رکھا جا ئیگا۔ میں خود جلد ہی قیصریہ جاؤنگا۔ 5 تم میں سے چند قائدین کو میرے ساتھ چلنا ہو گا اگر اس نے واقعی کچھ غلطی کی ہے تو اسکے خلاف قیصریہ میں الزام رکھ سکتے ہیں۔”

6 فیستس یروشلم میں مزید آٹھ یا دس دن ٹھہرا رہا۔ تب وہ قیصریہ کے لئے روا نہ ہوا اور دوسرے دن اس نے سپاہیوں سے کہا کہ پو لس کو اس کے سامنے پیش کرے۔ تب اس نے اپنی جگہ لی وہ فیصلہ کی نششت پر تھا۔ 7 جب پو لس عدالت میں داخل ہوا تو وہ یہودی جو یروشلم سے آئے تھے اس کے اطراف آکر کھڑے ہو گئے اور اس پر بہت سارے سخت الزا مات لگا نے لگے مگر ان کو ثابت نہ کر سکے۔ 8 پو لس نے اپنی صفائی میں کہا، “میں نے کو ئی جرم یہودی شریعت کے یا ہیکل کے خلاف یا قیصر یہ کے خلاف نہیں کیا ہے۔”

9 لیکن فیستس نے یہودیوں کو خوش کر نے کی غرض سے پو لس سے کہا، “کیا تم یروشلم جانا چاہتے ہو۔ تمہارے مقدمہ کا فیصلہ وہاں میرے سامنے ہو؟”

10 پو لس نے کہا، “میں قیصر یہ کی عدالت میں کھڑا ہوں اور صرف یہیں میرے مقدمہ کا فیصلہ ہو نا چاہئے۔ میں نے یہودیوں کے ساتھ کو ئی برائی نہیں کی اور اس سچا ئی کو تو بہتر جانتا ہے۔ 11 اگر میں نے کو ئی جرم کیا ہے اور شریعت کہتی ہے کہ اسکی سزا موت ہے تو میں موت کی سزا قبول کر نے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن اگر انکے الزامات ثابت نہ ہو سکے تب کو ئی بھی مجھے ان یہودیوں کے حوالے نہیں کر سکتا۔ میں قیصر سے اپیل کر تا ہوں کہ وہی میرا مقدمہ کا فیصلہ کرے۔”

12 فیستس نے اس بارے میں اپنے مشیروں سے گفتگوکی تب اس نے کہا چونکہ تم نے “قیصر سے اپیل کی ہے تو قیصر ہی کے پاس جائیگا۔”

فیستس بادشاہ کا اگرپا سے پو لس کے بارے میں پو چھنا

13 اور کچھ دن بعد بادشاہ اگرپا اور بر نیکے قیصریہ آئے اور فیستس سے ملاقات کی۔ 14 وہ وہاں بہت دن ٹھہرے رہے فیستس نے پو لس کے مقدمہ کے تعلق سے بادشاہ سے کہا “فیستس نے کہا ایک آدمی کو قید میں چھو ڑا ہے۔ 15 جب میں یروشلم گیا تو سردار کاہنوں اور بزرگ یہودی قائدین نے اس شخص کے خلاف الزامات لگا ئے اور مجھ سے اسکی موت کے حکم کی درخواست کی۔ 16 لیکن میں نے انکو جواب دیا، “جب کسی آدمی پر کسی خطا کا الزام لگا یا جائے تو رومی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایسے آدمی کو دوسروں کے حوالے کرے۔ سب سے پہلے تو جو آدمی ملزم ہے اس کو چاہئے کہ الزامات کا سامنا لوگوں سے کرے اور اس آدمی کو اپنی دفاع میں الزامات کے خلاف عذر خواہی کا موقع ملنا چاہئے۔

17 اس لئے جب یہ یہودی قیصریہ کی عدالت میں مقدمہ پیش کر نے کے لئے آئے تو میں نے وقت ضائع کئے بغیر فیصلہ کی نششت پر بیٹھ کر اس آدمی کو لا نے کا حکم دیا۔ 18 جب یہودی بطور مدعی کھڑے ہو گئے تو جن برائیوں کا مجھے گمان تھا ان میں سے انہوں نے کسی کا الزام اس پر نہ لگا یا۔ 19 بلکہ وہ ان موضوعات پر جو انکے دین اور یسوع نامی شخص کے بارے میں بحث کر رہے تھے۔ جو مر چکا ہے۔ لیکن پو لس نے کہا وہ زندہ ہے۔ 20 چونکہ میں ان موضوعات کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتا اسی لئے میں نے اس بحث میں دخل اندازی کو غیر موزوں محسوس کیا۔ چونکہ میں نے اس سے پو چھا، “کیا تم یروشلم جانا چاہتے ہو تا کہ یہ مقدمہ وہاں چلا یا جاسکے؟ 21 پو لس نے کہا اس کو قیصریہ میں رکھنا چاہئے اور وہ شہنشاہ قیصر سے فیصلہ چاہتا ہے۔ اس لئے میں نے اس کے متعلق احکام دیئے جب تک اسے قیصر کے پاس نہ بھیجا جائے اس وقت تک اسے قیصر یہ کے جیل میں رہنا ہوگا۔”

22 اگرپا نے فیستس سے کہا، “میں بھی اس آدمی کو سننا چاہتا ہوں ۔” فیستس نے کہا، “تم اسے کل سن سکو گے۔”

23 دوسرے دن اگرپا اور برنیکے بڑی شان و شوکت اور فخر کے ساتھ کمرہ عدالت میں داخل ہو ئے اور ساتھ ہی پلٹن کے سردار اور قیصریہ کے ہم لوگ بھی کمرہ عدالت میں داخل ہو ئے فیستس نے سپا ہیوں کو حکم دیا کہ پو لس کو اندر لے آئے۔

24 فیستس نے کہا، “بادشاہ اگرپا اور تمام لوگ یہاں جمع ہیں۔ اس آدمی کو دیکھو۔ تمام یہودی یروشلم کے اور یہاں کے اس کے خلاف مجھ سے شکایت کی۔ جب وہ اس کے بارے میں شکایت کی تو چلا ئے کہ اس کا زیادہ دیر زندہ رہنا مناسب نہیں۔ 25 جب میں نے جانچ کی کچھ بھی غلطی محسوس نہ کرسکا۔ میں نے ایسا کوئی سبب نہیں دیکھا یہ صاف تھا کہ اس نے کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ قتل کی سزا کا مستحق ہو لیکن وہ چاہتا ہے کہ قیصر کو اسکا فیصلہ کر نا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے طے کیا ہے اس کو روم بھیجا جائے۔ 26 میں صحیح معنوں میں نہیں جانتا کہ قیصر کو کیا لکھوں، کہ اس شخص نے غلط کام کیا ہے۔ اسی لئے میں نے اسکو آپ سب کے سانے لایا ہوں خاص طور سے بادشاہ اگرّپا کے سامنے مجھے امید ہے اس چھان بین کے بعد قیصر کو لکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ میرے پاس ہو گا۔ 27 کیوں کہ قیدی کے بھیجتے وقت ان الزاموں کو جو اس پر لگائے گئے ہوں ظا ہر نہ کر نا مجھے خلاف عقل معلوم ہو تا ہے۔”

26

پولس کا بادشاہ اگرپا کے سامنے ہونا

1 اگرپا نے پو لس سے کہا، “تجھے اپنے دفاع میں بولنے کی اجازت ہے۔” تب پولس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور کہنا شروع کیا۔ 2 “بادشاہ اگرّپا! جن الزا مات پر یہودیوں نے مجھ پر نالش کی ہے میں ان الزا مات کا جواب دوں گا اور میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھوں گا کہ میں خود اپنا دفاع آج آپ کے سامنے پیش کروں گا۔ 3 میں بہت خوش ہوں کیوں کہ آپ یہودیوں کی رسموں اور تمام مسئلوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ لہذابراہ کرم صبرو تحمل سے میری بت سن لیں۔

4 “تمام یہودی میری زندگی کے حالات سے واقف ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں اپنے ملک میں کس طرح ابتدا ء سے رہا ہوں اور میں یروشلم میں بھی کس طرح رہا ہوں۔ 5 یہ یہودی مجھے شروع سے جانتے ہیں اگر وہ چا ہیں تو میرے گواہ ہوسکتے ہیں۔ کہ میں ا یک اچھا فریسی ہوں ہمیشہ یہودیوں کی شریعت کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور دوسرے یہودیوں کی نسبت فریسی اپنے دین کے متعلق نہا یت سخت ہیں۔ 6 وہ اس وعدہ کی امید کے سبب سے مجھ پر مقدمہ دائر کر چکے ہیں جو خدا نے ہما رے باپ داداسے کیا تھا۔ 7 اس وعدہ کے پورا ہو نے کی امید پر ہم لوگوں کے بارہ قبیلے دن رات خدا کی عبادت میں جٹے رہتے ہتں۔اے بادشاہ یہ یہودی صرف اس لئے مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں اس امید پر ہوں۔ 8 آخر یہ لوگ اس کو کیوں نا قابل یقین پا تے ہیں کہ خدا مردوں کو اٹھا تا ہے۔

9 “بحیثیت فریسی میں نے بھی سوچا تھا کہ مجھے کئی باتیں یسوع ناصری کے نام کی مخالفت میں کر نی چاہئے۔ 10 اور جب میں یروشلم میں تھا اس نے ایسا ہی کیا میں نے کا ہنوں کے رہنما سے اجازت پا کر یسوع پر ایمان رکھنے والوں کو قید میں ڈالا اور جب انہیں قصور وار مان کر قتل کیا جاتا تو میر ی طرفداری بھی قصور کے موافق ہی ہو تی۔ 11 میں ہر یہودی عبادت خانے میں گیا اور انہیں اکثر سزا دی اور انہیں یسوع کے خلاف کہنے پر مجبور کیا میں بہت تشدد پسند ہو گیا تھا۔ میں دوسرے شہروں میں بھی گیا اور اہل ایمان کا تعاقب کرتا اور انہیں ستاتا۔

پولس کا یسوع کو دیکھنا

12 “ایک بار سردار کاہنوں نے مجھے اختیارات کے ساتھ شہر دمشق جانے کی اجازت دی۔ 13 جب میں دمشق جا رہاتھا تو اے بادشاہ!” میں نے دوپہر کے وقت راستے میں یہ دیکھا کہ آسمان میں ایک نور تھا جو سورج سے زیادہ چمک دار تھا۔ یہ نور میرے اور میرے ساتھیوں کے اطراف چھا گیا۔ 14 ہم سب زمین پر گر گئے تو میں نے ایک آواز یہودی زبان میں سنی “ساؤل ساؤل تو مجھے کیوں ستاتاہے۔اس طرح میرے خلاف لڑ تے ہو ئے تو اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔”

15 میں نے پوچھا! “خداوند آپ کون ہیں؟” اس نے کہا، “میں یسوع ہوں میں وہی ہوں جسے تم اذیت دے رہے ہو۔ 16 اٹھ اور اپنے پیروں پر کھڑا ہوجا میں نے تجھے اپنا خادم چناہے تا کہ تو نے جو کچھ آج میرے بارے میں دیکھا ہے اور جو کچھ میں مستقبل میں بتاؤں گا اس کے لئے تو میرا گواہ رہے گا اسی لئے آج میں تجھ پر ظاہر ہوا ہوں۔ 17 میں تجھے تیرے اپنے لوگوں سے بچا ؤں گا کہ وہ تجھے ضرر نہ پہنچا ئیں۔ اور میں تجھے غیر قومو ں سے بھی بچا تا رہوں گا۔ میں تجھے ان کے پاس بھیج رہا ہوں۔ 18 تم ان لوگوں کی آنکھیں کھولو اور انہیں اندھیرے سے باہر نکا لو اور انہیں روشنی میں لے آؤ تب وہ شیطان کی ملکت سے باہر آکر خدا کی طرف رجوع ہو نگے۔ تب ان کے گناہ معاف کئے جائیں گے اور ا ن لوگوں کو ان میں شامل کیا جائے گا جو مجھ پر ایمان لا کر مقدس بن گئے ہیں۔”

پولس کا اپنے کام کے متعلق کہنا

19 پولس نے اپنی تقریر کو جاری رکھا، “اور کہا بادشاہ اگرپاّ! جب میں نے آسمان میں رویا دیکھا تو اس کا اطا عت گذار ہوا۔ 20 اور میں نے لوگوں سے باتیں کر نا شروع کیں تا کہ وہ اپنے گناہوں پر نادم ہوں اور اپنے دلوں اور زندگیوں کو بدل کر خدا کی طرف رجوع ہوجا ئیں میں نے یہ باتیں سب سے پہلے دمشق کے لوگوں سے کہیں اور پھر یروشلم گیا اور یہوداہ کے ہر خطے میں جا کر لوگوں سے یہی کہا۔ میں نے غیر یہودیوں سے بھی یہی باتیں کہیں۔

21 یہی وجہ ہے کہ یہودیوں نے مجھے ہیکل میں پکڑا اور مجھے مارڈالنے کی کوشش کی۔ 22 لیکن خدا نے میری مدد کی اور آج تک بھی مدد کر رہا ہے اور خدا کی مدد سے ہی آج میں یہاں کھڑا ہوں اور جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں لوگوں سے کہہ رہا ہوں اور کو ئی نئی بات ان سے نہیں کہتا میں وہی کہتا ہوں جو نبیوں نے اور موسیٰ نے ہو نے والے واقعات کے متعلق کہا تھا۔ 23 انہوں نے کہا تھا کہ مسیح مریگا وہ پہلا شخص ہو گا جو مر کر بھی زندہ ہو گا موسیٰ اور نبیوں نے کہا کہ یہودیوں اور غیر یہودیوں دونوں میں مسیح نور کی آمد کا اعلان کریگا۔”

پو لس کا اگرّپا کو منانے کی کو شش کر نا

24 جب پو لس اپنی دفاع میں یہ سب کچھ کہہ رہا تھا تو فیستس نے بلند آواز سے کہا، “پو لس! تو دیوانہ ہے زیادہ علم نے تجھے دیوانہ کر دیا ہے۔”

25 پو لس نے کہا، “عزت مآب فیتس میں دیوانہ نہیں ہوں جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ سچّ ہے میری باتیں دیوانہ کی تقریر نہیں ہیں میں منطقی ہوں۔ 26 بادشاہ اگرپّا ان تمام باتوں کے متعلق جانتا ہے اور ان سے میں بے باک کہتا ہوں اور مجھے یقین ہے وہ یہ سب کچھ اچھی طرح جانتے ہیں۔ کیوں کہ یہ تمام چیزیں کہیں خفیہ نہیں ہو ئیں بلکہ سب لوگ ان کو دیکھ چکے ہیں۔ 27 اے اگرپّا بادشاہ کیا تم نبیوں کی لکھی ہو ئی باتوں پریقین کر تے ہو میں جانتا ہوں کہ تمہیں یقین ہے۔”

28 بادشاہ اگرّپا نے پو لس سے کہا، “کیا تو سوچ رہا ہے کہ تو اس طرح نصیحت کر کے مجھے مسیحی بنا سکے گا ؟”

29 پو لس نے کہا، “اگر یہ آسان ہے یا اگر یہ مشکل ہے، یہ اہم بات نہیں ہے میں تو خدا سے دعا کر تا ہوں کہ نہ صرف تم بلکہ ہر ایک جو آج میری باتوں کو سنا انہیں نجات ملے اور میری طرح ہو جائیں، سوا ان زنجیروں کے۔”

30 تب بادشاہ اگرّپا اور حاکم اور برنیکے اور ان کے ہم نشیں اٹھ کھڑے ہو ئے۔ 31 اور کمرہ سے باہر چلے گئے اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے، “یہ آدمی ایسا تو کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ موت یا قید کا مستحق ہو۔” 32 اگرّپا نے فیستس سے کہا، “ہم اسکو چھوڑ سکتے تھے لیکن اس نے قیصر سے ملنے کی درخواست کی ہے۔”

27

پو لس کا روم بھیجا جانا

1 یہ طے کیا گیا ہم بذریعہ جہاز اطالیہ جائیں گے یولیس نامی فوجی افسر جو انچارج تھا پو لس کی اور دوسرے قیدیوں کی نگرانی کر تا رہا۔یولیس حکمران فوج میں خدمت انجام دے چکا تھا۔ 2 ایک جہاز جو ادرتئیم سے آیا تھا اور ایشیاء کے مختلف ملکوں کے بندرگاہوں کو جا نے کے لئے تیار تھا۔ ہم اس جہاز میں سوار ہو گئے۔ ارسترخس بھی ہمارے ساتھ تھا تھسلنیکے اور مکدنیہ سے آیا تھا۔

3 دوسرے روز ہم شہر صیدا میں آئے۔ یولیس پو لس پر مہربان تھا اس نے پولس کو دوستوں کو دیکھنے کی آزادی دی تو دوستوں نے اسکی خاطر تواضع کی۔ 4 ہم صیدا سے روانہ ہو ئے اور جزیرہ کُپرس کے قریب پہونچے ہم کپرس کے جنوبی سمت سے بڑھے کیوں کہ ہوا مخالف تھی۔ 5 ہم کلیکیہ اور پمفیلیہ سے ہو کر سمندر کے پار گئے اور لوکیہ کے شہر مورہ میں اترے۔ 6 مورہ میں فوجی افسر نے ایک جہاز پا یا جو اسکندریہ سے اطالیہ جانے والا تھا اس نے ہمیں اس جہاز میں سوار کر دیا۔

7 ہم آہستہ آہستہ اس جہاز سے کئی دن تک سفر کرتے رہے کیوں کہ ہوا مخالف تھی۔ مشکل سے کندُس پہنچے۔ چونکہ مزید آگے نہ بڑھ سکے تھے۔ ہم جنوبی ساحل سے ہو تے ہو ئے سلمونی کے قریب جزیرہ کریت پہنچے۔ 8 اور بمشکل اس کے کنارے کنارے چلکر حسین بندر گاہ نامی ایک مقام میں پہنچے، جہاں سے لسائیہ شہر نزدیک تھا۔

9 لیکن ہم نے بہت سا وقت ضائع کیا اور اس وقت جہا ز سے چلنا خطرہ سے خالی نہ تھا۔ کیوں کہ یہودیوں کے روزہ کا دن گذر چکا تھا اس لئے پو لس نے انہیں انتباہ دیا۔ 10 “اے لوگو! مجھے معلوم ہو تا ہے کہ اس سفر میں ہمیں تکلیف اور نقصا ن ہے نہ صرف جہاز کا اور سامان کا بلکہ ہما ری زندگیوں کا بھی نقصان ہو گا۔” 11 مگر جہا ز کے کپتان اور مالک جہا ز نے پولس کی باتوں سے اتفاق نہیں کیا اور فوجی سردار نے بھی پولس کی باتوں کو بنسبت کپتان اور مالک جہا ز کی بات پر توجہ دی۔ 12 اور چونکہ وہ بندرگاہ جا ڑوں کے موسم میں جہا ز کے ٹھہر نے کے لئے محفوظ جگہ نہ تھی۔ اسی لئے لوگوں کی اکثریت نے طئے کیا کہ جہا ز کو چھوڑ دیا جائے اور فلکیس میں پہنچ کر جا ڑا وہیں گذار دیں۔ فلکیس ایک شہر تھا جو جزیرہ کریتے پر واقع تھا۔ وہاں پر بندرگاہ تھی جس کا رخ جنوب مشرق اور شمال مشرق میں تھا۔

طوفان

13 جب جنوبی ہوا چلنی شروع ہو ئی تو جہا ز کے لوگوں نے خیال کیا “جو ہم چا ہتے ہیں ویسا ہی ہوا اور یہ ہمیں مل گئی۔”جہا ز کا لنگر اٹھا یا اورجزیرہ کریتے کے کنارے کنارے چلنے لگے۔ 14 لیکن تھو ڑی دیر میں طوفانی ہوا جو “یورکلوں۔” کہلا تی ہے اس پار سے آئی۔ 15 جب جہاز تیز ہوا کی زد میں آیا تو جہا ز ہچکو لے کھا نے لگا اور ہوا کے بر خلاف آگے بڑھ نہیں پا رہاتھا اور لا کھ کوشش کے باوجود اسے قابو نہیں کیا جا سکا۔ آخر کار لا چار ہو کر جہاز کو ہوا اور موجوں پر بہنے کے لئے چھوڑ دیا۔

16 ہم بہتے بہتے کودہ نامی ایک چھو ٹے جزیرہ کی طرف پہنچے اور بڑی جد وجہد کے بعد ڈونگی( بچا ؤ کشتی) کو قابو میں لا ئے۔ 17 ڈونگی جہا ز پر لا نے کے بعد اسے جہا ز کے ساتھ رسیوں سے مضبوطی سے باندھا انہیں ڈرتھا کہ کہیں سورتس کی ریت میں جہا ز دھنس نہ جا ئے اور اس ڈر سے جہا ز کا سازو سامان اتار نا شروع کیا اور جہاز کو ہوا پر چھوڑ دیا۔

18 دوسرے دن طوفانی ہوا شدید تھی انہو ں نے کچھ چیزوں کو جہاز کے با ہر پھینکنا شروع کیا۔ 19 تیسرے دن اپنے ہی ہا تھوں جہا ز کے آلا ت اور اسباب بھی پھینکنے لگے۔ 20 کئی دنوں تک سورج تا رے دکھا ئی نہیں دیئے کیوں کہ شدید آندھی چل رہی تھی بچنے کی تمام امیدیں ختم ہو چکیں تھیں۔

21 لوگوں نے کئی روز سے کچھ نہیں کھایا تب پو لس ان کے سامنے ایک دن کھڑا ہو گیا اور کہا، “معزز حضرات میں نے تم سے کہا تھا کریتے سے مت نکلو تم نے میرا کہا نہ مانا۔ اگر مانتے تو یہ تکلیف اور نقصان نہ اٹھا تے۔ 22 لیکن اب میں تم سے کہتا ہوں کہ خوش ہو جا ؤکیوں کہ تم میں سے کو ئی نہیں مریگا صرف جہا زکا نقصان ہوگا۔ 23 گذشتہ رات کو خدا کے جانب سے ایک فرشتہ میرے پاس آیا وہ خدا جس کی میں عبادت کرتا ہوں میں اس کا ہوں۔ 24 خدا کے فرشتہ نے کہا، “اے پولس ڈرومت تمہیں قیصر کے سامنے حاضر ہو نا چاہئے تمام لوگوں کو جو تیرے ساتھ جہاز میں سوار ہیں بچا لئے جائیں گے۔ 25 تو اے لوگو! خوش ہو جا ؤ میں خدا پر بھروسہ کرتا ہوں اور ہر چیز اسی طرح پوری ہوگی جیسا کہ اس کے فرشتہ نے مجھ سے کہا۔” 26 لیکن ہمیں جزیرہ پر حادثہ کا سامنا کرنا پڑیگا۔”

27 چودھویں رات جب ہما را جہازبحر ادریہ کے اطراف چل رہا تھا توملاحوں نے سمجھا کہ ہم کسی زمین سے قریب ہیں۔ 28 انہو ں نے پانی میں رسہ پھینکا جس کے سرے پر وزن تھا اس سے انہوں نے معلوم کیا کہ پانی ۱۲۰ فیٹ گہرا ہے وہ تھو ڑا اور آگے بڑھے اور دوبارہ رسہ پھینکا تو معلوم ہوا کہ پانی ۹۰ فیٹ گہرا ہے۔ 29 ملا حوں کو ڈرتھا کہ کہیں جہاز چٹانوں سے نہ ٹکرا جا ئے اس لئے جہاز کے پیچھے سے پانی میں چا ر لنگر ڈال دیئے اور صبح ہو نے کی دعا شروع کردی۔ 30 کچھ ملاح جہاز کو چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتے تھے انہوں نے بچا ؤکشتیوں کو نیچے کرنا شروع کیا تا کہ وہ جہاز کے سامنے سے لنگر ڈالنا شروع کر سکتے ہیں۔ 31 لیکن پولس نے فوجی سردار اور سپاہیوں سے کہا، “اگر یہ لوگ جہاز میں نہ ٹھہریں تو تمہا ری زندگیاں نہیں بچا ئی جا سکتیں۔” 32 اسی لئے سپا ہیوں نے رسیوں کو کاٹ دیا اور بچاؤ کشتیاں پانی میں گر پڑیں۔

33 مختصر دن نکلنے سے پہلے پولس نے ہر ایک کو تھوڑا کچھ کھا لینے کے لئے کہا، “تم لوگ گذشتہ چودہ دن سے انتظار کرتے رہے ہو اور تم فاقہ کررہے ہو کچھ نہیں کھایا۔ 34 میں تم سے تقاضہ کرتا ہوں کچھ تو کھا لو یہ تمہا رے زندہ رہنے کیلئے ضروری ہے اور تم میں سے کسی کا ایک بال بیکا بھی نہ ہوگا۔” 35 اتنا کہنے کے بعدپولس نے تھوڑی روٹی لی اور سب کے سامنے خدا کا شکر ادا کیا تب وہ روٹی توڑ کرکھانا شروع کیا۔ 36 تب سب لوگوں کی ہمت بندھی اور وہ بھی کھا نا شروع کئے۔ 37 کل ملا کر جہازپر۲۷۶ آدمی تھے۔ 38 جب سیر ہو کر کھا چکے تب انہوں نے طئے کیا کہ جہا ز کے وزن کو کم کیا جائے اور غلہ کو پانی میں پھینکنا شروع کیا۔

جہاز کا ٹوٹنا

39 جب صبح ہو ئی تو ملا حوں نے زمین کو دیکھا لیکن وہ پہچان نہ سکے لیکن ایک کھا ڑی جس کا کنارہ صاف تھانظر آیا اور ملاح اس ساحل پر ممکن ہوا توجہاز کو لنگر انداز کر نا چا ہا۔ 40 انہوں نے لنگر کی رسیاں کا ٹ ڈالیں اور لنگر کو سمندر میں چھوڑ دیا۔اور ساتھ ہی پتوار کی رسیوں کو بھی کھو ل دیا اور جہاز کو ہواکے رخ پر چھوڑ دیا۔ 41 لیکن جہاز ریت سے ٹکرا گیا اور جہاز کا اگلا حصہ پھنس گیا اور جہاز آگے نہ بڑھ سکا اور بڑی بڑی موجوں نے جہاز کے پچھلے حصہ کو متاثر کیا اور وہ ٹوٹ کر ٹکڑے ہو گیا۔

42 سپا ہیوں نے طئے کیا کہ قیدیوں کو ما ر ڈالیں تا کہ کوئی قیدی تیر کر بھا گ نہ جائے۔ 43 لیکن فوجی سردار پولس کی زندگی بچا نا چاہتا تھا اس لئے اس نے سپا ہیوں کو ان کے منصوبہ پر عمل کر نے کی اجا زت نہیں دی۔ اور لوگوں سے کہا کہ جو تیر سکتے ہیں وہ کود کر کنارے پر پہونچ جائیں۔ 44 دوسروں نے جہازکے ٹکڑے اور تختوں کا سہا را لے لیا اس طرح تمام آدمی کنا رے پر پہونچ گئے اور ان میں سے کو ئی بھی نہ مرا۔

28

پو لس کا جزیرہ ما لٹا پر ہو نا

1 جب سب حفاظت سے کنارے پر پہونچ گئے تب ہمیں معلوم ہوا کہ وہ جزیرہ ما لٹا کہلا تا ہے۔ 2 وہاں کے رہنے والے ہم پر مہر بان تھے۔ چونکہ شدید سردی اور بارش ہو رہی تھی ہم لوگوں نے ہی لکڑیاں اور آ گ مہیا کئے اور ہم سب کا استقبال کیا۔ 3 پو لس نے ایک ایک لکڑی کا گٹھا جمع کیا اور ان کو آ گ میں ڈا لا اس میں سے ایک زہریلا سانپ آ گ کی گرمی سے نکل آیا اور پو لس کے ہاتھ پر ڈس لیا۔ 4 جزیرے کے لوگوں نے دیکھا کہ سانپ پولس کے ہاتھ پر لپٹا ہوا لٹک رہا ہے تو انہوں نے آپس میں کہا، “بے شک یہ آدمی قاتل ہے اگر یہ سمندر میں نہیں مرا لیکن انصاف اسکو زندہ نہ چھو ڑیگا۔”

5 لیکن پولس نے سانپ کو آ گ میں جھٹک دیا اور اسے کسی بھی طرح کا نقصان نہیں پہونچا یا۔ 6 لو گ سمجھے کہ اس کا بدن سوج جائیگا وہ مردہ ہو کر گر پڑیگا وہ کا فی دیر تک پو لس کو دیکھتے رہے لیکن اس کو کچھ بھی نہیں ہوا اور لوگوں نے پولس کے تعلق سے اپنی رائے بدل ڈا لی اور کہا، “یہ تو دیوتا ہے۔”

7 وہاں اطراف میں کچھ کھیت تھے جو جزیرہ کا مشہور پبلئیس نامی شخص کی ملکیت تھی اس نے اپنے مکان پر ہمارا استقبال کیا اور ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ہم اسکے مکان میں تین دن تک رہے۔ 8 پبلئیس کا باپ بہت بیمار تھا۔ اسکو بخار اور پیچسش تھی لیکن پو لس نے اسکے پاس جا کر اس کے لئے دعا کی۔ پولس نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور وہ تندرست ہو گیا۔ 9 اس واقعہ کے بعد جزیرہ کے دوسرے بیمار لوگ بھی پو لس کے پاس آئے پولس نے انہیں بھی تند رست کیا۔

10‏-11 جزیرہ کے لوگوں نے ہر طریقہ سے ان کی دیکھ بھا ل کی۔ ہم وہاں تین مہینے تک ٹھہرے جب ہم وہاں سے جانے کے لئے تیار ہو ئے تو وہاں کے لوگو ں نے ہماری ضرورت کی چیزیں مہیا کر دیں۔

پو لس کا روم کو روانہ

ہم اسکندریہ سے جہاز پر سوار ہو ئے جہاز جاڑے میں جزیرہ ملتے پر لنگر اندازتھا۔جہازکے اگلے حصے پر اس کا نشان لیکوری کا تھا۔ 12 ہم نے سُر کوسہ میں جہاز کا لنگر ڈا لا اور تین دن ٹھہرے۔ 13 وہاں سے پھر ایگیم میں آئے دوسرے دن جنوب سے ہوا چلی تو ہم چلے۔ ایک دن بعد ہم پتیلی کو آئے۔ 14 وہاں ہم چند ایمان والے بھائیوں سے ملے جنہوں نے ہم سے منت کی اور ہم وہاں سات دن رہے آخر کار روم پہونچے۔ 15 روم میں ہمارے ایمان والے بھا ئی ہمارے آنے کی خبر سن کر ہم سے ملنے اپئیس کے چوک اور تین سرامی سے آئے۔ جب پو لس نے ان ایمان والوں کو دیکھا تو مطمئن ہو کر خدا کا شکر بجا لا یا۔

پو لس کا روم میں ہو نا

16 تب ہم روم آئے جہاں پو لس کو اکیلا گھر میں رکھا گیا تھا اور ایک سپا ہی اس کے لئے پہرہ دیتا تھا۔

17 تین دن بعد پو لس نے مقا می مشہور یہودی شخصیتوں کو بلایا جب وہ آئے تو پو لس نے کہا، “میرے یہودی بھا ئیو!میں نے اپنے لوگوں کے خلاف کچھ نہیں کیا اور نہ ہی اپنے باپ دادا کی رسموں کے خلاف کچھ کیا تب بھی مجھے یروشلم میں گرفتار کر کے رومیوں کے حوالے کیا گیا۔ 18 رومیوں نے مجھ سے کئی سوالات کئے لیکن وہ کو ئی وجہ نہ پا سکے جس کی بنا پر وہ مجھے قتل کر تے اس لئے انہوں نے مجھے چھوڑ دینا چا ہا۔ 19 لیکن وہاں کے یہودیوں نے اعتراض کیا اس لئے مجھے روم آنے کے لئے اجازت کی درخواست کر نی پڑی تا کہ میرا مقدمہ قیصر سماعت کرے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ میرے لوگوں کے خلاف میرا کسی قسم کا الزام دھر نے کا ارادہ ہے۔ 20 اسی لئے میں تم لوگوں سے مل کر بات کر نا چا ہا کیوں کہ اسرائیل کی امید کے سبب سے میں اس زنجیر میں جکڑا ہوا ہوں۔”

21 یہودیوں نے پو لس کو جواب دیا، “ہمیں یہوداہ سے کو ئی خط تمہارے بارے میں موصول نہیں ہوا اور نہ ہی کو ئی یہودی بھا ئی جو یہوداہ سے یہاں آئے انہوں نے تمہارے بارے میں کو ئی خبر لا ئے اور نہ ہی کوئی بات تمہارے بارے میں کہی۔ 22 لیکن تم سے سننا چاہتے ہیں کہ تمہارا کیا ایمان ہے۔ ویسے جہاں تک تم جس گروہ سے تعلق رکھتے ہو ہم جانتے ہیں کہ ہر جگہ لوگ اس کے خلاف کہتے ہیں۔”

23 پولس اور یہودیوں نے طے کیا کہ ایک مقررہ دن جمع ہوں اس دن کئی دوسرے لوگ پو لس کو دیکھنے آئے جہاں وہ ٹھہرا تھا وہیں دن بھرخدا کی بادشاہت کے بارے میں انہیں سمجھا تا رہا۔ پو لس انہیں یسوع پر ایمان لا نے کی ترغیب دیتا رہا اور ایسا کر نے میں اس نے موسیٰ کی شریعت اور دوسرے نبیوں کی صحیفوں کا حوالہ دیا۔ 24 چند یہودی جو کچھ پو لس نے کہا اس پر ایمان لا ئے لیکن بعض نہیں لا ئے۔ 25 اور وہ آپس میں بحث کر نے لگے اور جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہو گئے لیکن پو لس نے انہیں ایک اور بات بتائی کہ “کس طرح روح القدس نے تمہارے باپ دادا کو یسعیاہ نبی کے ذریعہ کہا تھا کہ،

26 ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو

تم سنو گے اور کانوں سے سنو گے

لیکن تم نہیں سمجھو گے۔

تم دیکھو گے

لیکن اس کے باوجود تم نہیں سمجھو گے کہ تم نے کیا دیکھا تھا۔

27 ان لوگوں کے دماغ اب بند ہو گئے ہیں

یہ کان رکھتے ہیں لیکن نہیں سن سکتے

اور اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ اس لئے آنکھ رکھتے ہو ئے بھی نہیں دیکھ سکتے۔

دماغ رکھتے ہو ئے بھی

سمجھ نہیں سکتے

ایسا جب تک نہ ہو وہ شفا پا نے کے لئے میری طرف رجوع نہ ہو سکیں گے۔ یسعیاہ۶‏:۹۔۱۰

28 “تم کو معلوم ہو نا چاہئے کہ خدا نے نجات کا پیغام دوسری قوموں کے پاس بھیجا ہے وہ سن بھی لیں گے۔” 29+ 28‏:29 آیت۲۹ اعمال کے چندیو نانی نسخوں میں یہ آیت۲۹ شامل کی گئی ہے: “پولس کے کہنے کے بعد یہودی اٹھ گئے اور دوسرے سے بحث کر نے لگے۔”*

30 پولس مکمل دو سال اپنے کرایہ کے مکان پر رہا اور جو بھی اس سے ملنے آتا سب کا خیر مقدم کر تا اور ان سے ملتا تھا۔ 31 پو لس انہیں خدا کی بادشاہت کی تعلیم دیتا رہا اور خدا وند یسوع مسیح کے متعلق سکھا تا رہا وہ بہت دلیر تھا اور کو ئی بھی اس کو ایسا کہنے سے روک نہ سکا